شاعری

دستیاب اس کو ہوا جب سے ہے گلدستۂ داغ

دستیاب اس کو ہوا جب سے ہے گلدستۂ داغ بلبل دل کا نہیں ملتا ہے زنہار دماغ حلقۂ زلف سے اس کی جو عیاں ہیں عارض شب تاریک میں گویا کہ فروزاں ہے چراغ گر فروغ رخ جانانہ مدد فرما ہو غم کونین سے ہو جاوے وہیں دل کو فراغ فضل ایزد سے مبارک رہے اے واعظ شہر کوچۂ یار ہمیں اور تجھے فردوس کا ...

مزید پڑھیے

بے خودی میں عجب مزا دیکھا

بے خودی میں عجب مزا دیکھا سر مخفی کو برملا دیکھا آپ ہی گل ہی آپ ہی بلبل اس کو ہر رنگ آشنا دیکھا کہتا ہے آپ سمجھے بھی ہے آپ اس کو ہر شے میں خود نما دیکھا صورت قیس میں ہوا مجنوں شکل لیلیٰ میں خوش نما دیکھا آپ ہی بن کے عیسیٰ اور مردہ آپ ہی آپ کو جلا دیکھا ہو بر افروختہ بہ صورت ...

مزید پڑھیے

اس دل میں اگر جلوۂ دل دار نہ ہوتا

اس دل میں اگر جلوۂ دل دار نہ ہوتا زنہار یہ دل مظہر اسرار نہ ہوتا ہوتا نہ اگر جام مے عشق سے سرشار ہرگز دل دیوانہ یہ ہشیار نہ ہوتا ہوتا نہ اگر اس کی محبت سے سروکار یہ غمزدہ رسوا سر بازار نہ ہوتا ہوتی نہ کبھوں اس دل بیمار کو صحت گر لطف مسیحائے لب یار نہ ہوتا پیتا نہ اگر جام مے عشق ...

مزید پڑھیے

افسانہ مرے دل کا دل آزار سے کہہ دو

افسانہ مرے دل کا دل آزار سے کہہ دو بلبل کے ذرا درد کو گلزار سے کہہ دو سودائے محبت نے کیا ہے مجھے مجنوں جا سلسلۂ گیسوئے دلدار سے کہہ دو مجھ تشنۂ دیدار کی ہے ہونٹوں پہ اب جان للہ یہ چاہ زقن یار سے کہہ دو گردن پہ مری سر یہ بہت بار گراں ہے تیغ دو دم ابروئے خم دار سے کہہ دو اس چشم سے ...

مزید پڑھیے

قید دل سے ہے مری کاکل پیچاں نازاں

قید دل سے ہے مری کاکل پیچاں نازاں اور مرے قتل سے ہے خنجر مژگاں نازاں ہے مری چنگل وحشت سے گریباں نازاں اور مری بارش اشکوں سے ہے داماں نازاں کافر عشق ہوا جب سے میں اس دہر میں ہوں ہے مرے کفر سے یہ دین اور ایماں نازاں زخم کھانے سے مرے فخر کناں ہے یہ دل خون دل سے ہیں مرے دیدۂ گریاں ...

مزید پڑھیے

اسلام اور کفر ہمارا ہی نام ہے

اسلام اور کفر ہمارا ہی نام ہے کعبہ کنشت دونوں میں اپنا مقام ہے یہ عشق جس کا شور ہے عالم میں ہیں ہمیں یہ حسن ہم ہیں جس کی یہ سب دھوم دھام ہے بن کر سخن زبان پہ عالم کی ہیں ہمیں مصروف اپنے ذکر میں بس ہر اک دام ہے دیکھو جس آنکھ میں تو ہمارا ہی نور ہے ہر کان میں بھرا یہ ہمارا کلام ...

مزید پڑھیے

کون و مکاں میں یارو آباد ہیں تو ہم ہیں

کون و مکاں میں یارو آباد ہیں تو ہم ہیں اس ارض اور سما کی بنیاد ہیں تو ہم ہیں وحدت سے تا بہ کثرت سب سے ظہور اپنا گر ایک ہیں تو ہم ہیں ہفتاد ہیں تو ہم ہیں سب مرز بوم عالم ہے جلوہ گاہ اپنی ویران ہیں تو ہم ہیں آباد ہیں تو ہم ہیں اقلیم خیر و شر میں ہے حکم اپنا جاری گر داد ہیں تو ہم ہیں ...

مزید پڑھیے

عشق کے اقلیم میں چال و چلن کچھ اور ہے

عشق کے اقلیم میں چال و چلن کچھ اور ہے ہے نرالا ڈھنگ واں کا اور عجائب طور ہے خون دل پیتی ہیں واں اور کھاتی ہیں لخت جگر لطف کے بدلے اٹھانے کو جفا و جور ہے ان کی گلیوں میں نہیں ہوتا گزر ہی عقل کا ہے جنوں کا بند و بست اور عاشقی کا دور ہے زندگی اور مرگ شادی اور غم اور نیک و بد ایک ساں ...

مزید پڑھیے

بندۂ عشق ہوں جز یار مجھے کام نہیں

بندۂ عشق ہوں جز یار مجھے کام نہیں خواہش ننگ نہیں کچھ ہوس نام نہیں مذہب عشق کا یہ ڈھنگ نرالا دیکھا کچھ وہاں تذکرۂ کفر اور اسلام نہیں عشق کو جانتا ہوں دین و ایمان اپنا غیر معشوق پرستی مجھے کچھ کام نہیں کعبۂ جاں ہے مرا کوچۂ جاناں یارو سجدۂ دیر و حرم سے مجھے کچھ کام نہیں صید ...

مزید پڑھیے

ہے عیاں روئے یار آنکھوں میں

ہے عیاں روئے یار آنکھوں میں چھائی ہے کیا بہار آنکھوں میں شعلے اٹھتے ہیں بار بار عجیب کون ہے شمع وار آنکھوں میں کون ہے شہسوارتوسن حسن جس کا ہے یہ غبار آنکھوں میں کیسی مے تو نے دی پلا مجھ کو اب تلک ہے خمار آنکھوں میں دل ہے بلبل صفت بنالہ و آہ کون ہے گلعذار آنکھوں میں شوق میں کس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 771 سے 4657