جنگلوں میں بارشیں ہیں دور تک
جنگلوں میں بارشیں ہیں دور تک جسم میں پھر وحشتیں ہیں دور تک راستوں میں چھپ گئیں راتیں کہیں خواب گہ میں آہٹیں ہیں دور تک قرب کے لمحوں کی حیراں کوکھ میں کچھ بچھڑتی ساعتیں ہیں دور تک وہ کہیں گم ہو کہیں مل جاؤں میں دھند جیسی چاہتیں ہیں دور تک گھل رہی ہے جسم میں تنہا ہوا فرقتوں میں ...