شاعری

جنگلوں میں بارشیں ہیں دور تک

جنگلوں میں بارشیں ہیں دور تک جسم میں پھر وحشتیں ہیں دور تک راستوں میں چھپ گئیں راتیں کہیں خواب گہ میں آہٹیں ہیں دور تک قرب کے لمحوں کی حیراں کوکھ میں کچھ بچھڑتی ساعتیں ہیں دور تک وہ کہیں گم ہو کہیں مل جاؤں میں دھند جیسی چاہتیں ہیں دور تک گھل رہی ہے جسم میں تنہا ہوا فرقتوں میں ...

مزید پڑھیے

یاد کے شہر مری جاں سے گزر

یاد کے شہر مری جاں سے گزر قرب کے آخری امکاں سے گزر جل بجھی تھی میں ترے کھلنے تک اب مری خاک پریشاں سے گزر عکس بننے لگا صحرا تیرے میرے سورج رخ تاباں سے گزر زخم گر میرے ہو کچھ اور عطا ہاں عبث نشتر و پیکاں سے گزر اٹھ چکیں گل سخنی کی رسمیں گوش جاں حرف بہاراں سے گزر آخری لو نہ بجھا ...

مزید پڑھیے

اک ہجوم گریہ کی ہر نظر تماشائی

اک ہجوم گریہ کی ہر نظر تماشائی دیر سے خرابوں میں ہے اسیر تنہائی دل کی شام کی صورت زخم زخم سناٹا جاں کہ شور وحشت میں صبح کی تمنائی کاکل خزاں تیرے بے سبب الجھنے سے چہرۂ بہاراں پر دیکھ تیرگی چھائی تھی تری نگاہوں کے سیل تیرگی میں گم کب ترے اجالے میں خود کو میں نظر آئی قرب تھا کہ ...

مزید پڑھیے

ہے شرط قیمت ہنر بھی اب تو ربط خاص پر

ہے شرط قیمت ہنر بھی اب تو ربط خاص پر ملے گا سنگ داد بھی ہوا کے رخ کو دیکھ کر کبھی ہوا کا اجر ہے کبھی رتوں کا ہے ہنر کہاں ہوا ہے آج تک پرند کوئی معتبر کنار آب خونچکاں جبیں تو خاک ہو چکی یہ کس کا عکس پانیوں میں پھر اٹھا رہا ہے سر ہزار میں اسیر ہوں ترے طلسم نطق کی یہ قفل دل کہاں کھلا ...

مزید پڑھیے

سنگ زنوں کے واسطے پھر نئے راستوں میں ہے

سنگ زنوں کے واسطے پھر نئے راستوں میں ہے وحشت جاں کا مسئلہ شیشے کے جنگلوں میں ہے اتری تھیں دشت پر کبھی برگ و ثمر وہ آہٹیں قحط صدائے دوستاں پھر سے سماعتوں میں ہے جن میں نہاں رہا کبھی نکہت و گل کی قربتیں حد زمین و آسماں اب انہی رابطوں میں ہے کسی نے زمیں کے جسم سے فصل وصال چھین ...

مزید پڑھیے

سانس در سانس رائیگانی میں

سانس در سانس رائیگانی میں کٹ گئی عمر بے دھیانی میں حجرۂ ذات میں چراغ جلا راہ نمائی تھی راہ فانی میں میں سناتی تھی داستان طرب درد ہنستا رہا کہانی میں ہیں زمان و مکان ہجرت میں عالم ہو کی لا مکانی میں کوئی صورت سنبھل نہیں پائی وقت کی بے کراں روانی میں بات بے بات ہنستی رہتی ...

مزید پڑھیے

گلاس اک کانچ کا ٹوٹا پڑا ہے

گلاس اک کانچ کا ٹوٹا پڑا ہے مجھے لگتا ہے وہ گھر آ گیا ہے ابابیلیں جو یوں چکرا رہی ہیں سندیسہ آسماں تک جا چکا ہے یہ گھر شاید ابھی تازہ گرا ہے کوئی ملبے کے نیچے جی رہا ہے یہ پہلے اس قدر میلا نہیں تھا نہ جانے آسماں کو کیا ہوا ہے ادھر کچھ آہٹیں ہونے لگی ہیں کوئی خالی مکاں میں چل رہا ...

مزید پڑھیے

جو موج خوشبوؤں کی تھی گلاب سے نکل گئی

جو موج خوشبوؤں کی تھی گلاب سے نکل گئی میں مضمحل تھی اس قدر شباب سے نکل گئی یہ زندگی یہ رخصتی اسی کی ہیں امانتیں شکستہ جسم میں ترے عذاب سے نکل گئی میں لکھ رہی تھی داستاں ترا بھی نام آ گیا کہانی اپنے آپ ہی کتاب سے نکل گئی وہ لمس بڑھ رہا تھا اب قریب سے قریب تر سو میں نے فیصلہ کیا ...

مزید پڑھیے

آنسو گرا تو کانچ کا موتی بکھر گیا

آنسو گرا تو کانچ کا موتی بکھر گیا پھر صبح تک دوپٹا ستاروں سے بھر گیا میں چنری ڈھونڈھتی رہی اور اتنی دیر میں دروازے پر کھڑا ہوا اک خواب مر گیا سرما کی چاندنی تھی جوانی گزر گئی جھلسا رہی ہے دھوپ بڑھاپا ٹھہر گیا میں رفتگاں کی بات پہ بے ساختہ ہنسی انجام اس ہنسی کا بھی افسردہ کر ...

مزید پڑھیے

غبار وقت میں اب کس کو کھو رہی ہوں میں

غبار وقت میں اب کس کو کھو رہی ہوں میں یہ بارشوں کا ہے موسم کہ رو رہی ہوں میں یہ چاند پورا تھا بے اختیار گھٹنے لگا یہ کیا مقام ہے کم عمر ہو رہی ہوں میں اس ابر باراں میں منظر برسنے لگتے ہیں برس رہی ہے گھٹا بال دھو رہی ہوں میں میں گرد باد کا اک سر پھرا بگولا تھی خلائیں اوڑھ کے روپوش ...

مزید پڑھیے
صفحہ 757 سے 4657