کرب چہرے سے مہ و سال کا دھویا جائے
کرب چہرے سے مہ و سال کا دھویا جائے آج فرصت سے کہیں بیٹھ کے رویا جائے پھر کسی نظم کی تمہید اٹھائی جائے پھر کسی جسم کو لفظوں میں سمویا جائے کچھ تو ہو رات کی سرحد میں اترنے کی سزا گرم سورج کو سمندر میں ڈبویا جائے بج گئے رات کے دو اب تو وہ آنے سے رہے آج اپنا ہی بدن اوڑھ کے سویا ...