شاعری

کرب چہرے سے مہ و سال کا دھویا جائے

کرب چہرے سے مہ و سال کا دھویا جائے آج فرصت سے کہیں بیٹھ کے رویا جائے پھر کسی نظم کی تمہید اٹھائی جائے پھر کسی جسم کو لفظوں میں سمویا جائے کچھ تو ہو رات کی سرحد میں اترنے کی سزا گرم سورج کو سمندر میں ڈبویا جائے بج گئے رات کے دو اب تو وہ آنے سے رہے آج اپنا ہی بدن اوڑھ کے سویا ...

مزید پڑھیے

زمیں پہ چل نہ سکا آسمان سے بھی گیا

زمیں پہ چل نہ سکا آسمان سے بھی گیا کٹا کے پر کو پرندہ اڑان سے بھی گیا کسی کے ہاتھ سے نکلا ہوا وہ تیر ہوں جو ہدف کو چھو نہ سکا اور کمان سے بھی گیا بھلا دیا تو بھلانے کی انتہا کر دی وہ شخص اب مرے وہم و گمان سے بھی گیا تباہ کر گئی پکے مکان کی خواہش میں اپنے گاؤں کے کچے مکان سے بھی ...

مزید پڑھیے

روح کو قید کیے جسم کے ہالوں میں رہے

روح کو قید کیے جسم کے ہالوں میں رہے لوگ مکڑی کی طرح اپنے ہی جالوں میں رہے جسم کو آئنہ دکھلاتے ہیں سائے ورنہ آدمی کے لیے اچھا تھا اجالوں میں رہے وقت سے پہلے ہو کیوں ذہن پہ خورشید کا بوجھ رات باقی ہے ابھی چاند پیالوں میں رہے پھر تو رہنا ہی ہے گھورے کا مقدر ہو کر پھول تازہ ہے ابھی ...

مزید پڑھیے

بے سبب بات بڑھانے کی ضرورت کیا ہے

بے سبب بات بڑھانے کی ضرورت کیا ہے ہم خفا کب تھے منانے کی ضرورت کیا ہے آپ کے دم سے تو دنیا کا بھرم ہے قائم آپ جب ہیں تو زمانے کی ضرورت کیا ہے تیرا کوچہ ترا در تیری گلی کافی ہے بے ٹھکانوں کو ٹھکانے کی ضرورت کیا ہے دل سے ملنے کی تمنا ہی نہیں جب دل میں ہاتھ سے ہاتھ ملانے کی ضرورت کیا ...

مزید پڑھیے

پکارتی ہے جو تجھ کو تری صدا ہی نہ ہو

پکارتی ہے جو تجھ کو تری صدا ہی نہ ہو نہ یوں لپک کہ پلٹنے کو حوصلہ ہی نہ ہو تمام حرف ضروری نہیں ہوں بے معنی یہ آسمان ادھر جھک کے ٹوٹتا ہی نہ ہو ملے تھے یوں کہ جدا ہو کے ایسے ملتے ہیں ہمارے بیچ کبھی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ہر ایک شخص بھٹکتا ہے تیرے شہر میں یوں کسی کی جیب میں جیسے ترا ...

مزید پڑھیے

حقیقتوں کا سبھی کو پتہ نہیں ہوتا

حقیقتوں کا سبھی کو پتہ نہیں ہوتا کوئی کسی سے بچھڑ کے جدا نہیں ہوتا تعلقات نبھانا نہیں بہت مشکل ہر آدمی میں مگر حوصلہ نہیں ہوتا شراب خانے کا ہر شخص ہے برا لیکن شراب خانے میں کوئی برا نہیں ہوتا مری طرف سے شکایت کا انتظار نہ کر مجھے کسی سے بھی کوئی گلہ نہیں ہوتا کھلا یہ راز کئی ...

مزید پڑھیے

جا کے ملتا ہوں نہ اپنا ہی پتا دیتا ہوں

جا کے ملتا ہوں نہ اپنا ہی پتا دیتا ہوں میں اسے ہی نہیں خود کو بھی سزا دیتا ہوں روز دن بھر کی مشقت سے اٹھاتا ہوں جسے رات ہوتے ہی وہ دیوار گرا دیتا ہوں کون ہے مجھ میں جو باہر نہیں آنے پاتا کب سے میں جسم کے صحرا میں صدا دیتا ہوں کون سا کرب چھلکتا ہے ہنسی سے میری کیسے ہنستا ہوں کہ ...

مزید پڑھیے

میں زہر رہی ہر شام رہی

میں زہر رہی ہر شام رہی بارش کی ہوا بدنام رہی پاتال میں دریا جذب ہوئے میں سطح رہی دو گام رہی امکان اثر پر شمع دعا بجھنے کی ادا کا نام رہی مرے تنہا دشت کے جذبوں میں تری یاد تہ آلام رہی کونپل کو دھوپ ہوا سے کیا مٹی کی نمی ناکام رہی بادل مری چھت پر کب ٹھہرے دیوار پہ گہری شام ...

مزید پڑھیے

ہوائیں چاندنی میں کانپتی ہیں

ہوائیں چاندنی میں کانپتی ہیں مرا مہتاب دکھ پہچانتی ہیں اتر سکتی نہیں حسن بیاں میں جو راتیں حرف جاں کو کاٹتی ہیں بھنور پائل مرے پیروں سے الجھی تری یادوں کی لہریں ناچتی ہیں مری آنکھوں میں ساحل تک نمی ہے مگر نظریں کہ صحرا چھانتی ہیں بدن میں چپ اندھیرا سو رہا ہے امنگیں ایک تارا ...

مزید پڑھیے

اسے جب بھی دیکھا بہت دھیان سے

اسے جب بھی دیکھا بہت دھیان سے تو پلکوں میں آئینے سجنے لگے خوشا اے سر شام بھیگے شجر ترے زخم کچھ اور گہرے ہوئے مسافر پہ خود سے بچھڑنے کی رت وہ جب گھر کو لوٹے بہت دل دکھے کہیں دور ساحل پہ اترے دھنک کہیں ناؤ پر امن بادل چلے بہت تیرگی میرے محلوں میں تھی دریچے جو کھولے تو منظر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 756 سے 4657