شہر خاموش ہے سب نیزہ و خنجر چپ ہیں
شہر خاموش ہے سب نیزہ و خنجر چپ ہیں کیسی افتاد پڑی ہے کہ ستم گر چپ ہیں خوں کا سیلاب تھا جو سر سے ابھی گزرا ہے بام و در اب بھی سسکتے ہیں مگر گھر چپ ہیں چار سو دشت میں پھیلا ہے اداسی کا دھواں پھول سہمے ہیں ہوا ٹھہری ہے منظر چپ ہیں مطمئن کوئی نہیں نامۂ اعمال سے آج مسکراتا ہے خدا سارے ...