شاعری

شہر خاموش ہے سب نیزہ و خنجر چپ ہیں

شہر خاموش ہے سب نیزہ و خنجر چپ ہیں کیسی افتاد پڑی ہے کہ ستم گر چپ ہیں خوں کا سیلاب تھا جو سر سے ابھی گزرا ہے بام و در اب بھی سسکتے ہیں مگر گھر چپ ہیں چار سو دشت میں پھیلا ہے اداسی کا دھواں پھول سہمے ہیں ہوا ٹھہری ہے منظر چپ ہیں مطمئن کوئی نہیں نامۂ اعمال سے آج مسکراتا ہے خدا سارے ...

مزید پڑھیے

حاشیے پر کچھ حقیقت کچھ فسانہ خواب کا

حاشیے پر کچھ حقیقت کچھ فسانہ خواب کا اک ادھورا سا ہے خاکہ زندگی کے باب کا رنگ سب دھندلا گئے ہیں سب لکیریں مٹ گئیں عکس ہے بے پیرہن اس پیکر نایاب کا ذرہ ذرہ دشت کا مانگے ہے اب بھی خوں بہا منہ چھپائے رو رہا ہے قطرہ قطرہ آب کا سانپ بن کر ڈس رہی ہیں سب تمنائیں یہاں کارواں آ کر کہاں ...

مزید پڑھیے

بجھے بجھے سے چراغوں سے سلسلہ پایا

بجھے بجھے سے چراغوں سے سلسلہ پایا ہجوم یاس میں بھٹکے تو راستہ پایا کسی خیال میں ابھرا امید کا چہرہ کسی امید میں پرتو خیال کا پایا نہ جانے کتنے گھروندوں کو ٹوٹتے دیکھا کسی کھنڈر میں تمنا کا نقش پا پایا تمام رات نیا بت تراشتے گزری ہوئی جو صبح تو اس بت کو ٹوٹتا پایا قدم قدم پہ ...

مزید پڑھیے

دل کے زخموں کی لویں اور ابھارو لوگو

دل کے زخموں کی لویں اور ابھارو لوگو آج کی رات کسی طرح گزارو لوگو روٹھ کر زندگی کیا جانے کدھر جانے لگی اس طرح دوڑو ذرا اس کو پکارو لوگو کتنی سج دھج ہے نگار غم و آلام کی آج اس کی شوخی کو ذرا اور نکھارو لوگو سر خوشی اب بھی تماشائی ہے میخانے میں اس ستم گر کو تو شیشے میں اتارو ...

مزید پڑھیے

وہ بے نیاز شب و روز و ماہ و سال گیا

وہ بے نیاز شب و روز و ماہ و سال گیا اب اس کے گمشدہ ہونے کا احتمال گیا وہ اک خیال کہ ہر دم جہاں خیال گیا کبھی عذاب میں رکھا کبھی سنبھال گیا جو شہر لفظ و معانی سے دور دور رہا وہ بے ہنر تری گلیوں سے با کمال گیا حدود وقت سے آگے اڑان بھرتے رہے امیر وقت کا منصب گیا جلال گیا ہمیں تو رت ...

مزید پڑھیے

یوں دیکھنے کو دیکھتے رہتے ہیں خواب لوگ

یوں دیکھنے کو دیکھتے رہتے ہیں خواب لوگ رکھتے ہیں روز و شب کا بھی لیکن حساب لوگ اک روز زندگی نے کیا تھا کوئی سوال کیا جانے کب سے ڈھونڈ رہے ہیں جواب لوگ ہر چہرۂ سوال سے کرتے ہو خود سوال تم لوگ بھی ہو شہر میں کیا لا جواب لوگ ہر آسماں کو اپنی زمیں تک اتار لائے کیا کیا نہ کر گزرتے ہیں ...

مزید پڑھیے

دم اجنبی صداؤں کا بھرتے ہو صاحبو

دم اجنبی صداؤں کا بھرتے ہو صاحبو ہر لمحہ اپنی جاں سے گزرتے ہو صاحبو کیا جانے کیا ہے بات کہ ہر سمت بھیڑ میں اپنا ہی چہرہ دیکھ کے ڈرتے ہو صاحبو تم بھی عجیب لوگ ہو کانٹوں کی راہ سے کیسے لہولہان گزرتے ہو صاحبو اک اجنبی سی آگ ہے جل کے اس میں آج کس زندگی کی کھوج میں مرتے ہو صاحبو کیا ...

مزید پڑھیے

جنس گراں تھی خوبیٔ قسمت نہیں ملی

جنس گراں تھی خوبیٔ قسمت نہیں ملی بکنے کو ہم بھی آئے تھے قیمت نہیں ملی ہنگام روز و شب کے مشاغل تھے اور بھی کچھ کاروبار زیست سے فرصت نہیں ملی کچھ دور ہم بھی ساتھ چلے تھے کہ یوں ہوا کچھ مسئلوں پہ ان سے طبیعت نہیں ملی اک آنچ تھی کہ جس سے سلگتا رہا وجود شعلہ سا جاگ اٹھے وہ شدت نہیں ...

مزید پڑھیے

بہت رسوا مذاق کوہ کن ہے

بہت رسوا مذاق کوہ کن ہے یہاں ہر بوالہوس اب تیشہ زن ہے ہر اک سینے ہر اک دل میں جلن ہے پریشاں انجمن کی انجمن ہے جنہیں میں چھوڑ کر آگے بڑھا ہوں انہیں راہوں پہ دنیا گامزن ہے نگار وقت کی زلفیں ہیں برہم مہ و انجم کے ماتھے پر شکن ہے سب اہل کارواں پہچانتے ہیں امیر کارواں خود راہزن ...

مزید پڑھیے

دور خزاں میں مظہر جوش بہار تھے

دور خزاں میں مظہر جوش بہار تھے وہ ہاتھ جن میں جیب و گریباں کے تار تھے دل ہی کو اعتبار نہ آیا میں کیا کروں وعدے تمہارے لائق صد اعتبار تھے ان کے بغیر گزرے جو ان کے خیال میں لمحے وہی تو اشک شب انتظار تھے جذبے جواں ہوئے جو صلیبوں کے درمیاں احساس زندگی کا حسیں شاہکار تھے اک تیری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 746 سے 4657