کوزۂ درد میں خوشیوں کے سمندر رکھ دے
کوزۂ درد میں خوشیوں کے سمندر رکھ دے اپنے ہونٹوں کو مرے زخم کے اوپر رکھ دے اتنی وحشت ہے کہ سینے میں الجھتا ہے یہ دل اے شب غم تو مرے سینے پہ پتھر رکھ دے سوچتا کیا ہے اسے بھی مرے سینے میں اتار تجھ سے یہ ہو نہیں سکتا ہے تو خنجر رکھ دے پھر کوئی مجھ کو مری قید سے آزاد کرے میرے اندر سے ...