شاعری

کوزۂ درد میں خوشیوں کے سمندر رکھ دے

کوزۂ درد میں خوشیوں کے سمندر رکھ دے اپنے ہونٹوں کو مرے زخم کے اوپر رکھ دے اتنی وحشت ہے کہ سینے میں الجھتا ہے یہ دل اے شب غم تو مرے سینے پہ پتھر رکھ دے سوچتا کیا ہے اسے بھی مرے سینے میں اتار تجھ سے یہ ہو نہیں سکتا ہے تو خنجر رکھ دے پھر کوئی مجھ کو مری قید سے آزاد کرے میرے اندر سے ...

مزید پڑھیے

فکر ایجاد میں ہوں کھول نیا در کوئی

فکر ایجاد میں ہوں کھول نیا در کوئی کنج گل بھیج مری شاخ ہنر پر کوئی رنگ کچھ اور نچوڑیں گے لہو سے اپنے پھر تراشیں گے ہم اک اور نیا پیکر کوئی بھیج کچھ تازہ کمک میرے مسافر کے لئے پھر اترتا ہے مرے دشت میں لشکر کوئی آستینوں میں ہواؤں نے چھپایا ہوا ہے ہم نے دیکھا ہے چمکتا ہوا خنجر ...

مزید پڑھیے

زخم جگر کو دست جراحت سے پوچھئے

زخم جگر کو دست جراحت سے پوچھئے جو رہ گئی دلوں میں وہ حسرت سے پوچھئے جاں دادگان عیش کا انجام کیا ہوا آوارگان کوچۂ وحشت سے پوچھئے میں کھو گیا ہوں اپنی ضرورت کی بھیڑ میں میں کیا ہوں مجھ کو میری ضرورت سے پوچھئے افسوس ہے مجھے مری غیرت کی موت پر کیوں کی ہے خودکشی مری غربت سے ...

مزید پڑھیے

حرف کن شہ رگ ہو میں گم ہے

حرف کن شہ رگ ہو میں گم ہے اک جہاں ذوق نمو میں گم ہے اپنے ہی حسن کا عکاس ہے حسن آئنہ آئنہ رو میں گم ہے کیف آمیز ہے کیفیت حال نشۂ مے کہ سبو میں گم ہے درد چیخ اٹھتا ہے سینے میں کوئی زخم جیسے کہ لہو میں گم ہے تیر مت دیکھ مرے زخم کو دیکھ یار یار اپنا عدو میں گم ہے کھول مت بند قبا رہنے ...

مزید پڑھیے

اے ذوق عرض ہنر حرف اعتدال میں رکھ

اے ذوق عرض ہنر حرف اعتدال میں رکھ میں اک جواب ہوں مجھی کو مرے سوال میں رکھ نقوش خاک بدن کو تو منتشر کر دے مرے وجود کو پھر میرے خط و خال میں رکھ پھر اس کے بعد ہنر دیکھ معجزائی کے تو اس بدن کو مرے دست اتصال میں رکھ تو مجھ سے مانگنا پھر میرے روز و شب کا حساب اے حال حال مرے مجھ کو میرے ...

مزید پڑھیے

کچھ یقیں سا گمان سا کچھ ہے

کچھ یقیں سا گمان سا کچھ ہے جو بھی ہے میری جان سا کچھ ہے فاصلے ختم ہو گئے لیکن پھر بھی اک درمیان سا کچھ ہے ہم یہیں پر قیام کرتے ہیں اس کھنڈر میں مکان سا کچھ ہے ہاتھ میں ہے مہار ناقۂ خاک سر پہ اک سائبان سا کچھ ہے دشت جاں میں وہ خاک اڑاتا ہوا اب بھی اک کاروان سا کچھ ہے کھل گئے اس ...

مزید پڑھیے

یہ ضرورت ہے تو پھر اس کو ضرورت سے نہ دیکھ

یہ ضرورت ہے تو پھر اس کو ضرورت سے نہ دیکھ اپنی چاہت کو کسی اور کی چاہت سے نہ دیکھ تجھ میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن تو شرافت کو مری اپنی شرافت سے نہ دیکھ مجھ کو ہو جائے گی اب مجھ سے ہی نفرت ورنہ اے مری جان مجھے اتنی محبت سے نہ دیکھ ہنس کے ہر بوجھ زمانے کا اٹھا لیتا ہوں میں ...

مزید پڑھیے

میں کہاں تک تجھے صفائی دوں

میں کہاں تک تجھے صفائی دوں خود کو الزام بے وفائی دوں تجھ سے میں دشمنی شدید کروں پیار بھی تجھ کو انتہائی دوں اے مری جان گر اجازت ہو زخم کو اذن لب کشائی دوں زندگی تجھ کو اعتبار نہیں اپنے ہونے کی میں گواہی دوں مجھ کو خود میرے پاس لے آنا میں تجھے گر کہیں دکھائی دوں اک زمانہ ہے ...

مزید پڑھیے

جو مری پشت میں پیوست ہے اس تیر کو دیکھ

جو مری پشت میں پیوست ہے اس تیر کو دیکھ کتنی خوش رنگ نظر آتی ہے تصویر کو دیکھ رقص کرتا ہوا مقتل میں چلا آیا ہوں پاؤں مت دیکھ مرے پاؤں کی زنجیر کو دیکھ کوئی نیزہ مرے سینے میں علم ہوتا ہے مری شہ رگ پہ چمکتی ہوئی شمشیر کو دیکھ خود کو ایجاد میں کرتا ہوں نئے طرز پہ روز اے مری جان کبھی ...

مزید پڑھیے

جو اس زمین پہ رہتے تھے آسمان سے لوگ

جو اس زمین پہ رہتے تھے آسمان سے لوگ کہاں گئے وہ مرے سارے مہربان سے لوگ یہ بے چراغ سی بستی یہ بے صدا گلیاں ہر ایک سمت یہ اجڑے ہوئے مکان سے لوگ سر نوشتۂ تقدیر خواب کی صورت لکھے ہیں ریت پہ کچھ حرف رائیگان سے لوگ کہ یہ اثر تو نہیں ان کی فاقہ مستی کا پھر آج تنگ ہوئے ہیں جو اپنی جان سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 736 سے 4657