شاعری

کہاں رکیں گے مسافر نئے زمانوں کے

کہاں رکیں گے مسافر نئے زمانوں کے بدل رہا ہے جنوں زاویے اڑانوں کے یہ دل کا زخم ہے اک روز بھر ہی جائے گا شگاف پر نہیں ہوتے فقط چٹانوں کے چھلک چھلک کے بڑھا میری سمت نیند کا جام پگھل پگھل کے گرے قفل قید خانوں کے ہوا کے دشت میں تنہائی کا گزر ہی نہیں مرے رفیق ہیں مطرب گئے زمانوں ...

مزید پڑھیے

جس دم قفس میں موسم گل کی خبر گئی

جس دم قفس میں موسم گل کی خبر گئی اک بار قیدیوں پہ قیامت گزر گئی دھندلا گئے نقوش تو سایہ سا بن گیا دیکھا کیا میں ان کو جہاں تک نظر گئی بہتر تھا میں جو دور سے پھولوں کو دیکھتا چھونے سے پتی پتی ہوا میں بکھر گئی کتنے ہی لوگ صاحب احساس ہو گئے اک بے نوا کی چیخ بڑا کام کر گئی تنہائیوں ...

مزید پڑھیے

بجھے بجھے سے شرارے مجھے قبول نہیں

بجھے بجھے سے شرارے مجھے قبول نہیں سواد شب میں ستارے مجھے قبول نہیں یہ کوہ و دشت بھی آئینۂ بہار بنے فقط چمن کے نظارے مجھے قبول نہیں تمہارے ذوق کرم پر بہت ہوں شرمندہ مراد یہ ہے سہارے مجھے قبول نہیں مثال موج سمندر کی سمت لوٹ چلو سکوں بہ دوش کنارے مجھے قبول نہیں میں اپنے خوں سے ...

مزید پڑھیے

جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے

جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے نہ اتنی تیز چلے سرپھری ہوا سے کہو شجر پہ ایک ہی پتا دکھائی دیتا ہے برا نہ مانیے لوگوں کی عیب جوئی کا انہیں تو دن کا بھی سایا دکھائی دیتا ہے یہ ایک ابر کا ٹکڑا کہاں کہاں برسے تمام دشت ہی پیاسا دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے

جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے زخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے میں ہاتھ کی لکیریں مٹانے پہ ہوں بضد گو جانتا ہوں نقش نہیں یہ سلیٹ کے دنیا کو کچھ خبر نہیں کیا حادثہ ہوا پھینکا تھا اس نے سنگ گلوں میں لپیٹ کے فوارے کی طرح نہ اگل دے ہر ایک بات کم کم وہ بولتے ہیں جو گہرے ہیں ...

مزید پڑھیے

آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے

آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے جتنے اس پیڑ کے پھل تھے پس دیوار گرے ایسی دہشت تھی فضاؤں میں کھلے پانی کی آنکھ جھپکی بھی نہیں ہاتھ سے پتوار گرے مجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروں جس طرح سایۂ دیوار پہ دیوار گرے تیرگی چھوڑ گئے دل میں اجالے کے خطوط یہ ستارے مرے گھر ٹوٹ ...

مزید پڑھیے

پا برہنہ ہیں اب کے جنگل میں

پا برہنہ ہیں اب کے جنگل میں تو بھی میں بھی طلب کے جنگل میں خاک خواہش بھی اب نہیں اڑتی خون کی تاب و تب کے جنگل میں ہاں ابھی آرزو نہیں نکلی اور کچھ روز اب کے جنگل میں کفر و اسلام مل رہے ہیں گلے اور کیا ہے ادب کے جنگل میں وہ بھی میری طرح سے رہ لے گا عمر بھر روز و شب کے جنگل میں کون ...

مزید پڑھیے

مدت سے کسی ٹھہری ہوئی آب و ہوا میں

مدت سے کسی ٹھہری ہوئی آب و ہوا میں زندہ ہوں یہاں زہر بھری آب و ہوا میں اچھا نہیں لگتا ہے مگر اے شب ہجراں تحلیل تو ہونا ہے اسی آب و ہوا میں اس کو بھی نہ لگ جائے کسی ہجر کی دیمک اک وصل جو روشن ہے تری آب و ہوا میں جس حال میں ہوں یہ بھی میسر نہیں سب کو مانا کہ وہ لذت نہ رہی آب و ہوا ...

مزید پڑھیے

جب تو ہی کہیں بے سر و سامان پڑا ہے

جب تو ہی کہیں بے سر و سامان پڑا ہے بے کار تری چاہ میں انسان پڑا ہے پھر کس کی ضرورت مجھے ڈستی ہے شب و روز اب دل میں مرے کون سا ارمان پڑا ہے دیوار میں در کرکے بہت خوش تو ہوا میں کمبخت ابھی رخنۂ دالان پڑا ہے مجھ ذرۂ نا چیز کی اوقات ہی کیا ہے قدموں میں ترے وقت کا سلطان پڑا ہے ہونے دے ...

مزید پڑھیے

سجائیں محفل یاراں نہ شغل جام کریں

سجائیں محفل یاراں نہ شغل جام کریں تو اور کیسے ترے غم کا احترام کریں کسے بلائیں چناروں میں آدھی رات گئے اگر کریں تو کسے صبح کا سلام کریں بسائیں قاف تصور میں اک پری وش کو کچھ آج عشرت ہجراں کا اہتمام کریں جلوس شعلہ رخاں کس طرف کو گزرے گا کوئی بتائے کہاں اہل دل قیام کریں چلو کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 725 سے 4657