شاعری

اس سوچ میں ہی مرحلۂ شب گزر گیا

اس سوچ میں ہی مرحلۂ شب گزر گیا در وا کیا تو کس لیے سایہ بکھر گیا تا دیر اپنے ساتھ رہا میں زمانے بعد بے نام سا سکوت تھا جب رات گھر گیا رکھتا تھا حکم موت کا جو راہ وصل میں وہ لمحۂ فراق مرے ڈر سے مر گیا سب رونقیں بضد تھیں جہاں گھر بنانے کو وہ قریۂ وجود خلاؤں سے بھر گیا میں باندھ ہی ...

مزید پڑھیے

بدل جائے گا سب کچھ یہ تماشا بھی نہیں ہوگا

بدل جائے گا سب کچھ یہ تماشا بھی نہیں ہوگا نظر آئے گا وہ منظر جو سوچا بھی نہیں ہوگا ہر اک لمحہ کسی شے کی کمی محسوس بھی ہوگی کہیں بھی دور تک کوئی خلا سا بھی نہیں ہوگا وہ آنکھیں بھی نہیں ہوں گی کہیں جو ان کہی باتیں ہوا میں سبز آنچل کا وہ لہرا بھی نہیں ہوگا سمٹ جائے گی دنیا ساعت ...

مزید پڑھیے

مجھے تسلیم بے چون و چرا تو حق بہ جانب تھا

مجھے تسلیم بے چون و چرا تو حق بہ جانب تھا مرے انفاس پر لیکن عجب پندار غالب تھا وگرنہ جو ہوا اس سے سوائے رنج کیا حاصل مگر ہاں مصلحت کی رو سے دیکھیں تو مناسب تھا میں تیرے بعد جس سے بھی ملا تیکھا رکھا لہجہ کہ اس بے لوث چاہت کے عوض اتنا تو واجب تھا میں کچھ پوچھوں بھی تو اکثر جواباً ...

مزید پڑھیے

سمندر تشنگی وحشت رسائی چشمۂ لب تک

سمندر تشنگی وحشت رسائی چشمۂ لب تک یہ سارا کھیل ان آنکھوں سے دیکھا تیرے کرتب تک تماشا گاہ دنیا میں تماشائی رہے ہم بھی سحر کی آرزو ہم نے بھی کی تھی جلوۂ شب تک نہ جانے وقت کا کیا فیصلہ ہے دیر کتنی ہے گھڑی کی سوئیاں بھی ہو چکی ہیں مضمحل اب تک کبھی فرصت ملی تو آسماں سے ہم یہ پوچھیں ...

مزید پڑھیے

غبار درد میں راہ نجات ایسا ہی

غبار درد میں راہ نجات ایسا ہی رہا ہے کوئی مرے ساتھ ساتھ ایسا ہی تو بھول پانے میں دشواریاں بہت ہوں گی کیا ہے پیار حد ممکنات ایسا ہی برس گزر گئے اس سے جدا ہوئے لیکن عجیب بین ہے موج فرات ایسا ہی اسے بھی اوس میں ڈوبا ہوا لگا تھا بدن مجھے بھی کچھ ہوا محسوس رات ایسا ہی میں جس سے خوف ...

مزید پڑھیے

ندی تھی کشتیاں تھیں چاندنی تھی جھرنا تھا

ندی تھی کشتیاں تھیں چاندنی تھی جھرنا تھا گزر گیا جو زمانہ کہاں گزرنا تھا مجھی کو رونا پڑا رت جگے کا جشن جو تھا شب فراق وہ تارہ نہیں اترنا تھا مرے جلال کو کرنا تھا خم سر تسلیم ترے جمال کا شیرازہ بھی بکھرنا تھا ترے جنون نے اک نام دے دیا ورنہ مجھے تو یوں بھی یہ صحرا عبور کرنا ...

مزید پڑھیے

حکمراں جب سے ہوئیں بستی پہ افواہیں وہاں

حکمراں جب سے ہوئیں بستی پہ افواہیں وہاں دن ڈھلے ہی بین کرتی ہیں عجب راتیں وہاں اک غروب بے نشاں کی سمت رستے پر ہوں میں خوف یہ درپیش ہوں گی کیسی دنیائیں وہاں بارہا دیکھی ہے ان کوچوں نے شب مستی مری آج بھی اک گھر کے بام و در شناسا ہیں وہاں کیا تجھے مسماریٔ دل کی خبر کوئی نہ تھی کس ...

مزید پڑھیے

خلا سا ٹھہرا ہوا ہے یہ چار سو کیسا

خلا سا ٹھہرا ہوا ہے یہ چار سو کیسا اجاڑ ہو گیا اک شہر رنگ و بو کیسا تمام حلقۂ خواب و خیال حیراں ہے سواد چشم میں آیا یہ ماہرو کیسا کبھی جو فرصت یک لمحہ بھی ملے تو دیکھ کہ دشت یاد میں بکھرا پڑا ہے تو کیسا اگرچہ شورہ ہی شورہ سب علاقۂ دل تجھے رکھا ہے مگر سبز و پر نمو کیسا سرائے دل ...

مزید پڑھیے

متاع پاس وفا کھو نہیں سکوں گا میں

متاع پاس وفا کھو نہیں سکوں گا میں کسی کا تیرے سوا ہو نہیں سکوں گا میں سدا رہے گا تر و تازہ شاخ دل پر تو فضول رنج کہ کچھ بو نہیں سکوں گا میں تو آنکھیں موند لے تو نیند آئے مجھ کو بھی تو جانتا ہے کہ یوں سو نہیں سکوں گا میں مجھے وراثت غم سے بھی عاق کر ڈالا یہ کیسا لطف کہ اب رو نہیں ...

مزید پڑھیے

رہ وفا میں رہے یہ نشان خاطر بس

رہ وفا میں رہے یہ نشان خاطر بس بغیر نام ہو مذکور ہر مسافر بس ہزار وادیٔ تاریک سے گزرتا ہوا یہ عشق چاہتا ہے ہو ترا معاصر بس طویل مرحلۂ جستجو بھی تھا درپیش سو اتفاق نہیں تھا ہوا وہ ظاہر بس پھر اس کے بعد سبھی ہو گیا ادھر کا ادھر وہ ایک لمحۂ موجود میں تھا حاضر بس یہ اک جزیرۂ بے راہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 691 سے 4657