انمول سہی نایاب سہی بے دام و درم بک جاتے ہیں
انمول سہی نایاب سہی بے دام و درم بک جاتے ہیں بس پیار ہماری قیمت ہے مل جائے تو ہم بک جاتے ہیں سکوں کی چمک پہ گرتے ہوئے دیکھا ہے شیخ و برہمن کو پھر میرے کھنڈر کی قیمت کیا جب دیر و حرم بک جاتے ہیں کیا شرم خودی کیا پاس حیا غربت کی اندھیری راتوں میں کتنے ہی بتان زہرہ جبیں بادیدۂ نم بک ...