شاعری

انمول سہی نایاب سہی بے دام و درم بک جاتے ہیں

انمول سہی نایاب سہی بے دام و درم بک جاتے ہیں بس پیار ہماری قیمت ہے مل جائے تو ہم بک جاتے ہیں سکوں کی چمک پہ گرتے ہوئے دیکھا ہے شیخ و برہمن کو پھر میرے کھنڈر کی قیمت کیا جب دیر و حرم بک جاتے ہیں کیا شرم خودی کیا پاس حیا غربت کی اندھیری راتوں میں کتنے ہی بتان زہرہ جبیں بادیدۂ نم بک ...

مزید پڑھیے

نگار مہوش و محبوب لالہ رو کی طرح

نگار مہوش و محبوب لالہ رو کی طرح کوئی تو رات مرے خواب آرزو کی طرح چراغ شام تمنا کا رنگ کیا کہئے لرز رہا ہے کسی حرف آرزو کی طرح شگفت گل کا تبسم بھی حرف دل کش ہے مگر کہاں ترے انداز گفتگو کی طرح بہل ہی جائے گا دل نیند آ ہی جائے گی ہوا تو دے کوئی دامان مشک بو کی طرح خلوص عشق ہراساں ...

مزید پڑھیے

یوں ترے مست سر راہ چلا کرتے ہیں

یوں ترے مست سر راہ چلا کرتے ہیں جیسے شاہان فلک جاہ چلا کرتے ہیں غم دنیا غم جاناں غم منزل غم راہ کتنے غم زیست کے ہم راہ چلا کرتے ہیں دل بھی کیا راہ گزر ہے کہ ہمیشہ جس میں زہرہ و مشتری و ماہ چلا کرتے ہیں یہ تو رندوں کی گلی ہے ادھر اے شیخ کہاں ایسی راہوں میں تو گمراہ چلا کرتے ہیں غم ...

مزید پڑھیے

زہر کو مے دل صد پارہ کو مینا نہ کہو

زہر کو مے دل صد پارہ کو مینا نہ کہو دور ایسا ہے کہ پینے کو بھی پینا نہ کہو نہ بتاؤ کہ تبسم بھی ہے اک زخم کا نام چاک ہے کس لیے انسان کا سینہ نہ کہو کم نگاہوں کا ہے فرمان کہ اے دیدہ ورو کس لیے تم کو ملا دیدۂ بینا نہ کہو رکھ دو الزام کسی موجۂ معصوم کے سر ناخداؤں نے ڈبویا ہے سفینہ نہ ...

مزید پڑھیے

شاکی بدظن آزردہ ہیں مجھ سے میرے بھائی یار

شاکی بدظن آزردہ ہیں مجھ سے میرے بھائی یار جانے کس جا بھول آیا ہوں رکھ کر میں گویائی یار خاموشی کے صحرا چٹکی میں آوازوں کے جنگل کتنی بستی اجڑی ہم سے کتنی ہم نے بسائی یار دیکھو نا امیدی کو ایسے ٹھینگا دکھلاتے ہیں اکثر اپنے گھر کی کنڈی خود ہم نے کھٹکائی یار تنہائی میں اب بھی کوئی ...

مزید پڑھیے

نرالا عجب نک چڑھا آدمی ہوں

نرالا عجب نک چڑھا آدمی ہوں جو تک کی کہو بے تکا آدمی ہوں بڑے آدمی تو بڑے چین سے ہیں مصیبت مری میں کھرا آدمی ہوں سبھی ماشاء اللہ سبحان اللہ ہو لاحول مجھ پر میں کیا آدمی ہوں یہ بچنا بدکنا چھٹکنا مجھی سے مری جان میں تو ترا آدمی ہوں اگر سچ ہے سچائی ہوتی ہے عریاں میں عریاں برہنہ ...

مزید پڑھیے

آ ترے سنگ ذرا پینگ بڑھائی جائے

آ ترے سنگ ذرا پینگ بڑھائی جائے زندگی بیٹھ تجھے چائے پلائی جائے یار بس اتنا ہی تو چاہتے ہیں ہم تجھ سے یاری کی جائے تو پھر یاری نبھائی جائے جیسی ہے جتنی ہے اوقات سے بڑھ کر ہے مجھے کیوں ضرورت سے سوا ناک بڑھائی جائے جب بھی میں کرتا کہہ لیتے ہو اپنے من کی کبھی میری بھی سنی جائے ...

مزید پڑھیے

کبھی بھنور تھی جو اک یاد اب سنامی ہے

کبھی بھنور تھی جو اک یاد اب سنامی ہے مگر یہ کیا کہ مجھے اب بھی تشنہ کامی ہے میں اس پہ جان چھڑکتا ہوں با خدا پھر بھی کہیں ہے کچھ مرے بھیتر جو انتقامی ہے مگر جو وہ ہے وہی ہے بھلا کہاں کوئی اور ہزار عیب سہی مانا لاکھ خامی ہے جو جی میں آیا وہی من و عن ہے کاغذ پر نہ سوچا سمجھا سا کچھ ...

مزید پڑھیے

اوٹ پٹانگ الم گلم جانے کیا کیا ہے

اوٹ پٹانگ الم گلم جانے کیا کیا ہے اب جس کے جو جی آتا ہے بک دیتا ہے چھینا جھپٹی نوچ کھسوٹ اور دھینگا مستی عشق ہے عشق میں یہ سب تو چلتا رہتا ہے کس نے ایسے پاؤں پسارے ذہن و دل میں جال اب لفظوں کا کافی چھوٹا پڑتا ہے ڈھکے چھپے کا قائل نہ تو میں نہ وہ ہم نے اک دوجے پر خود کو کھول دیا ...

مزید پڑھیے

ہم کہ افکار کو تجسیم کیا کرتے ہیں

ہم کہ افکار کو تجسیم کیا کرتے ہیں حرف و الفاظ کی تحریم کیا کرتے ہیں بند کر لیتے ہیں آوارہ ہوا مٹھی میں پھر فضا میں اسے تقسیم کیا کرتے ہیں وقت جب ہاتھ نہیں آتا تو روز و شب میں انتقاماً اسے تقویم کیا کرتے ہیں کب ستارا کوئی ماتھے کی شکن میں اترا سب فسوں صاحب تنجیم کیا کرتے ہیں ہم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 673 سے 4657