شاعری

وہ ایک شخص مرے پاس جو رہا بھی نہیں

وہ ایک شخص مرے پاس جو رہا بھی نہیں وہ خود کو دور کبھی مجھ سے کر سکا بھی نہیں نگاہ جس کی مری سمت آج تک نہ اٹھی مرے سوا وہ کسی شے کو دیکھتا بھی نہیں مرے خطوط تو جھلا کے پھاڑ دیتا ہے عجیب بات ہے پرزوں کو پھینکتا بھی نہیں تمام وقت ہے وہ محو گفتگو مجھ سے یہ کان جس کی صداؤں سے آشنا بھی ...

مزید پڑھیے

عمر گزر جاتی ہے قصے رہ جاتے ہیں

عمر گزر جاتی ہے قصے رہ جاتے ہیں پچھلی کے رت بچھڑے ساتھی یاد آتے ہیں لوگوں نے بتلایا ہے ہم اب اکثر باتیں کرتے کرتے کہیں کھو جاتے ہیں کوئی ایسے وقت میں ہم سے بچھڑا ہے شام ڈھلے جب پنچھی گھر لوٹ آتے ہیں اپنی ہی آواز سنائی دیتی ہے ورنہ تو سناٹے ہی سناٹے ہیں دل کا ایک ٹھکانا ہے پر ...

مزید پڑھیے

اکا دکا شاذ و نادر باقی ہیں

اکا دکا شاذ و نادر باقی ہیں اپنی آنکھیں جن چہروں کی عادی ہیں ہم بولائے ان کو ڈھونڈا کرتے ہیں سارے شہر کی گلیاں ہم پر ہنستی ہیں جب تک بہلا پاؤ خود کو بہلا لو آخر آخر سارے کھلونے مٹی ہیں کہنے کو ہر ایک سے کہہ سن لیتے ہیں صرف دکھاوا ہے یہ باتیں فرضی ہیں لطف سوا تھا تجھ سے باتیں ...

مزید پڑھیے

اسے نہ ملنے کی سوچا ہے یوں سزا دیں گے

اسے نہ ملنے کی سوچا ہے یوں سزا دیں گے ہر ایک جسم پہ چہرا وہی لگا دیں گے ہمارے شہر میں شکلیں ہیں بے شمار مگر ترے ہی نام سے ہر ایک کو صدا دیں گے ہم آفتاب کو ٹھنڈا نہ کر سکے اے زمیں اب اپنے سائے کی چادر تجھے اوڑھا دیں گے بھلائے بیٹھے ہیں جس کو ہم ایک مدت سے گر اس نے پوچھ لیا تو جواب ...

مزید پڑھیے

اہم آنکھیں ہیں یا منظر کھلے تو

اہم آنکھیں ہیں یا منظر کھلے تو ابھی ہیں بند کتنے در کھلے تو تو پھر کیا حال ہو بس کچھ نہ پوچھو جو بھیتر ہے وہی باہر کھلے تو خیال و لفظ ہیں دست و گریباں ہے کم تر کون ہے برتر کھلے تو سب اپنی کرنی میرے متھے منڈھ دی مصر تھا خیر خود کہ شر کھلے تو دکھائی دے گا کچھ کا کچھ سبھی کچھ مگر ...

مزید پڑھیے

بس ایک بار فقط ایک بار کم سے کم

بس ایک بار فقط ایک بار کم سے کم سوا مرا ہو ترا اختیار کم سے کم ہر ایک رنگ تجھے ڈھانپ دوں گا سر تا پا تری ہر ایک کا بدلہ ہزار کم سے کم نہ ساتھ ساتھ سہی اتنی دور بھی تو نہ جا اجاڑ مت مرے قرب و جوار کم سے کم ہے اتفاق کہ انسان نکلے دونوں ہی حضور والا بہت خاکسار کم سے کم یوں اپنی ساکھ ...

مزید پڑھیے

بڑی سرد رات تھی کل مگر بڑی آنچ تھی بڑا تاؤ تھا

بڑی سرد رات تھی کل مگر بڑی آنچ تھی بڑا تاؤ تھا سبھی تاپتے رہے رات بھر ترا ذکر کیا تھا الاؤ تھا --- --- وہ زباں پہ تالے پڑے ہوئے وہ سبھی کے دیدے پھٹے ہوئے بہا لے گیا جو تمام کو مری گفتگو کا بہاؤ تھا --- --- کبھی مے کدہ کبھی بت کدہ کبھی کعبہ تو کبھی خانقاہ یہ تری طلب کا جنون تھا مجھے کب ...

مزید پڑھیے

زیاں گر کچھ ہوا تو اتنا جتنا سود ہوتا ہے

زیاں گر کچھ ہوا تو اتنا جتنا سود ہوتا ہے یہی جو ہست ہے اس پل یہی تو بود ہوتا ہے تری موجودگی محدود کرتی ہے تجھے تجھ تک تو ناموجود ہونے ہی پہ لا محدود ہوتا ہے جسے دیکھو بہ زعم خود ہے ٹھیکے دار جنت کا کہیں اک آدھ ہی مجھ سا کوئی مردود ہوتا ہے سبھی گپ چپ تکا کرنا بت بے حس بنا رہنا خدا ...

مزید پڑھیے

کسی کا تیر کسی کی کماں ہو ٹھیک نہیں

کسی کا تیر کسی کی کماں ہو ٹھیک نہیں تمھارے منہ میں کسی کی زباں ہو ٹھیک نہیں جو خاک ہونا مقدر ہے اپنا رنگ ہے خوب تمام عمر دھواں ہی دھواں ہو ٹھیک نہیں تو مل سکا بھی تو کیا اور نہ مل سکا بھی تو کیا خیال سود ملال زیاں ہو ٹھیک نہیں گھنیری رات گھنا دشت گھور تنہائی کہیں پہ کوئی خیال ...

مزید پڑھیے

شہر میں آ ہی گئے ہیں تو گزارا کر لیں

شہر میں آ ہی گئے ہیں تو گزارا کر لیں اب بہرحال ہر اک شے کو گوارا کر لیں ڈھونڈتے ہی رہے گھر میں کوئی کھڑکی نہ ملی ہم نے چاہا جو کبھی ان کا نظارہ کر لیں اپنی تنہائی کا احساس ادھورا ہے ابھی آئینہ توڑ دیں سائے سے کنارا کر لیں اپنے جلتے ہوئے احساس میں تپتے تپتے موم بن جائیں یا اپنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 674 سے 4657