شاعری

قید غم حیات سے ہم کو چھڑا لیا

قید غم حیات سے ہم کو چھڑا لیا اچھا کیا کہ آپ نے اپنا بنا لیا ہونے دیا نہ ہم نے اندھیرا شب فراق بجھنے لگا چراغ تو دل کو جلا لیا دنیا کے پاس ہے کوئی اس طنز کا جواب دیوانہ اپنے حال پہ خود مسکرا لیا کیا بات تھی کہ خلوت زاہد کو دیکھ کر رند گناہ گار نے سر کو جھکا لیا چپ ہوں تمہارا درد ...

مزید پڑھیے

ہمیں تھے ایسے سرپھرے ہمیں تھے ایسے منچلے

ہمیں تھے ایسے سرپھرے ہمیں تھے ایسے منچلے کہ تیرے غم کی رات میں چراغ کی طرح جلے ملے کوئی تو پھر مزے نہ زندگی کے پوچھئے کٹے جو رات دیر میں تو مے کدے میں دن ڈھلے کھلی ہوئی ہر اک کلی مہک رہی ہے شاخ پر تو کچھ اداس پھول بھی پڑے ہیں شاخ کے تلے اس انجمن کو کیا ہوا نہ روشنی نہ زندگی چراغ و ...

مزید پڑھیے

پی لے جو لہو دل کا وہ عشق کی مستی ہے

پی لے جو لہو دل کا وہ عشق کی مستی ہے کیا مست ہے یہ ناگن اپنے ہی کو ڈستی ہے مے خانے کے سائے میں رہنے دے مجھے ساقی مے خانے کے باہر تو اک آگ برستی ہے اے زلف غم جاناں تو چھاؤں گھنی کر دے رہ رہ کے جگاتا ہے شاید غم ہستی ہے ڈھلتے ہیں یہاں شیشے چلتے ہیں یہاں پتھر دیوانو ٹھہر جاؤ صحرا نہیں ...

مزید پڑھیے

فاصلہ تو ہے مگر کوئی فاصلہ نہیں

فاصلہ تو ہے مگر کوئی فاصلہ نہیں مجھ سے تم جدا سہی دل سے تم جدا نہیں کاروان آرزو اس طرف نہ رخ کرے ان کی رہ گزر ہے دل عام راستہ نہیں اک شکست آئینہ بن گئی ہے سانحہ ٹوٹ جائے دل اگر کوئی حادثہ نہیں آئیے چراغ دل آج ہی جلائیں ہم کیسی کل ہوا چلے کوئی جانتا نہیں آسماں کی فکر کیا آسماں ...

مزید پڑھیے

ان کا وعدہ بدل گیا ہے

ان کا وعدہ بدل گیا ہے فردا آنسو میں ڈھل گیا ہے تنہائی سے کچھ ہوئی ہیں باتیں تنہائی سے دل بہل گیا ہے معمول نظر وہی ہے لیکن مفہوم نظر بدل گیا ہے رک جا اے کاروان امروز ماضی میرا کچل گیا ہے ساحل پہ نگاہ آنکھ والو اندھا طوفاں مچل گیا ہے ساغر میں شراب ہے کہ یارو انگارہ کوئی پگھل ...

مزید پڑھیے

غم دو عالم کا جو ملتا ہے تو غم ہوتا ہے

غم دو عالم کا جو ملتا ہے تو غم ہوتا ہے کہ یہ بادہ بھی مرے ظرف سے کم ہوتا ہے کب مری شام تمنا کو ملے گا اے دوست وہ سویرا جو ترا نقش قدم ہوتا ہے بے خبر پھول کو بھی کھینچ کے پتھر پہ نہ مار کہ دل سنگ میں خوابیدہ صنم ہوتا ہے ہائے وہ محویت دید کا عالم جس وقت اپنی پلکوں کا جھپکنا بھی ستم ...

مزید پڑھیے

رکھنا ہے تو پھولوں کو تو رکھ لے نگاہوں میں

رکھنا ہے تو پھولوں کو تو رکھ لے نگاہوں میں خوشبو تو مسافر ہے کھو جائے گی راہوں میں کیوں میری محبت سے برہم ہو زمیں والو اک اور گنہ رکھ لو دنیا کے گناہوں میں کیفیت مے دل کا درماں نہ ہوئی لیکن رنگیں تو رہی دنیا کچھ دیر نگاہوں میں کانٹوں سے گزر جانا دشوار نہیں لیکن کانٹے ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

ٹوٹی ہوئی کشتی کو کنارے بھی ملے ہیں

ٹوٹی ہوئی کشتی کو کنارے بھی ملے ہیں طوفان سے دنیا کو سہارے بھی ملے ہیں اغیار ہی خالی نہیں اغیار کی صف میں دیکھا ہے تو کچھ دوست ہمارے بھی ملے ہیں چھلکے ہیں جہاں جام تری بزم میں ساقی کچھ لوگ وہیں پیاس کے مارے بھی ملے ہیں پینے سے قدم یوں تو بہک جاتے ہیں لیکن کچھ پاؤں جمانے کے ...

مزید پڑھیے

کون ہے درد آشنا سنگ دلی کا دور ہے

کون ہے درد آشنا سنگ دلی کا دور ہے دل کا دیا بچایئے آج ہوا کچھ اور ہے سارے جہاں کی شام غم صبح بہار بن گئی میری سحر کا مسئلہ آج بھی زیر غور ہے نشۂ درد کھو گیا ساقی درد سو گیا محفل دل میں جائیں کیا تشنہ لبی کا دور ہے خون جگر سے عمر بھر قرض حیات ادا کیا پھر بھی یہی سنا کئے روز حساب اور ...

مزید پڑھیے

یاد کی صبح ڈھل گئی شوق کی شام ہو گئی

یاد کی صبح ڈھل گئی شوق کی شام ہو گئی آپ کے انتظار میں عمر تمام ہو گئی پی ہے جو ایک بوند بھی جاگ پڑی ہے زندگی ایسی شراب جاں فزا کیسے حرام ہو گئی ساتھ کسی نے چھوڑ کر توڑ دیا کسی کا دل چل تو پڑا تھا کارواں راہ میں شام ہو گئی نکلے بیاد مے کدہ تاروں کے ساتھ ساتھ ہم جام تک آ کے زندگی ماہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 672 سے 4657