قید غم حیات سے ہم کو چھڑا لیا
قید غم حیات سے ہم کو چھڑا لیا اچھا کیا کہ آپ نے اپنا بنا لیا ہونے دیا نہ ہم نے اندھیرا شب فراق بجھنے لگا چراغ تو دل کو جلا لیا دنیا کے پاس ہے کوئی اس طنز کا جواب دیوانہ اپنے حال پہ خود مسکرا لیا کیا بات تھی کہ خلوت زاہد کو دیکھ کر رند گناہ گار نے سر کو جھکا لیا چپ ہوں تمہارا درد ...