شاعری

کیوں دیکھتے ہی نقش بہ دیوار بن گئے

کیوں دیکھتے ہی نقش بہ دیوار بن گئے تم آئنے میں کس کے خریدار بن گئے بجلی چھلاوا فتنہ قیامت غضب بلا میں کیا کہوں وہ کیا دم رفتار بن گئے بازار دہر کا تو یہی کاروبار ہے دو چار اگر بگڑ گئے دو چار بن گئے اک سیر تھی مزے کی یہ آرائشوں کے وقت سو بار وہ بگڑ گئے سو بار بن گئے ہاں ہاں انہیں ...

مزید پڑھیے

اک خلق جو ہر سمت سے آئی ترے در پر

اک خلق جو ہر سمت سے آئی ترے در پر آیا نظر انداز خدائی ترے در پر تھی جس کی تمنا دل مشتاق کو ہر دم وہ چیز اگر پائی تو پائی ترے در پر عشاق کے آگے نہ لڑا غیروں سے آنکھیں ڈر ہے کہ نہ ہو جائے لڑائی ترے در پر دیکھی جو یہاں آ کے جھڑی ابر کرم کی سب دل کی لگی ہم نے بجھائی ترے در پر اس نفس ہی ...

مزید پڑھیے

دیکھ لو اک نظر میں کچھ بھی نہیں

دیکھ لو اک نظر میں کچھ بھی نہیں سچ کہا ہے بشر میں کچھ بھی نہیں شیخ کچھ اپنے آپ کو سمجھیں میکشوں کی نظر میں کچھ بھی نہیں کچھ نہ ہونے پہ ہو تمہیں سب کچھ تم نہیں ہو تو گھر میں کچھ بھی نہیں کیا سمجھتا ہے آپ کو اے دل تو کسی کی نظر میں کچھ بھی نہیں اے شرفؔ سچ ہے مصرعۂ مصباحؔ ہم تو ...

مزید پڑھیے

اس نے مانگا جو دل دیے ہی بنی

اس نے مانگا جو دل دیے ہی بنی جو نہ کرنا تھا وہ کئے ہی بنی اس ادا سے دل اس نے پھیرا آج کہ مجھے دوڑ کر لئے ہی بنی تیرے ہمراہ غیر کیوں آیا جس کی خاطر مجھے کئے ہی بنی دیکھا انجام عشق کا اے دل جان آخر ہمیں دیے ہی بنی دست نازک سے اس نے جام دیا آج مجھ کو شرفؔ پئے ہی بنی

مزید پڑھیے

گریباں چاک مجنوں بن سے نکلا

گریباں چاک مجنوں بن سے نکلا میں لے کر دھجیاں دامن سے نکلا کہیں جلوہ بھی پردے میں رہا ہے وہ دیکھو نور اک چلمن سے نکلا جنوں نے راہ یہ اچھی نکالی گریباں پہاڑ کر دامن سے نکلا بہار آئی چمن میں کھل گئے پھول کوئی ہنستا ہوا گلشن سے نکلا روانی اشک کی ہوتی نہیں بند عجب دریا مرے دامن سے ...

مزید پڑھیے

ہے جو رنگ اس کی جلوہ گاہوں میں

ہے جو رنگ اس کی جلوہ گاہوں میں دیکھتا ہوں وہی نگاہوں میں سیر کو آ گیا وہ جان جہاں پڑ گئی جان سیر گاہوں میں اب تو مے خانوں سے بھی کچھ بڑھ کر جام چلتے ہیں خانقاہوں میں میرا دعویٰ ہے عشق میں سچا دیدۂ تر ہیں دو گواہوں میں بد گمانی نہ کر شرفؔ پہ کہ وہ دل سے ہے تیرے خیر خواہوں میں

مزید پڑھیے

دل کو یوں لے جانے والا کون تھا

دل کو یوں لے جانے والا کون تھا تھے تمہیں اور آنے والا کون تھا حضرت ناصح بھی مے پینے لگے اب مجھے سمجھانے والا کون تھا ساتھ اپنے دل بھی میرا لے گیا دیکھنا یہ جانے والا کون تھا جس کو چاہا تو نے اس کو مل گیا ورنہ تجھ کو پانے والا کون تھا بولے قاصد سے شرفؔ کے نام پر وہ ہمیں بلوانے ...

مزید پڑھیے

پڑیں یہ کس کے جلوے پر نگاہیں

پڑیں یہ کس کے جلوے پر نگاہیں نگاہیں بن گئیں خود جلوہ گاہیں کہے مجھ سے نہ کوئی ضبط غم کو ابھی منہ سے نکل جائیں گی آہیں سلوک اپنا ہے ان کے نقش پا پر یہی ہیں منزل عرفاں کی راہیں انہیں دیکھیں وہ دیکھیں یا نہ دیکھیں انہیں چاہیں وہ چاہیں یا نہ چاہیں چلائے تھے جنہوں نے تیر دل پر ہم ...

مزید پڑھیے

ظرف تو دیکھیے میرے دل شیدائی کا

ظرف تو دیکھیے میرے دل شیدائی کا جام مے بن گیا اک مست خود آرائی کا جی میں آتا ہے کہ پھولوں کی اڑا دوں خوشبو رنگ اڑا لائے ہیں ظالم تری رعنائی کا میں ابھی ان کو شناسائے محبت کر دوں کاش موقع تو ملے ان سے شناسائی کا بھول جاؤ گے یہاں آ کے تم اپنا عالم تم نے دیکھا نہیں گوشہ مری تنہائی ...

مزید پڑھیے

تڑپ کے لوٹ کے آنسو بہا کے دیکھ لیا

تڑپ کے لوٹ کے آنسو بہا کے دیکھ لیا لگی نہ دل کی تجھے دل لگا کے دیکھ لیا کسی نے داد نہ دی کچھ فسانۂ دل کی انہیں بھی درد محبت سنا کے دیکھ لیا کسے امید تھی آؤ گے تم دم آخر بڑا کمال کیا تم نے آ کے دیکھ لیا کہا تھا میں نے کہ دشوار دل کا لینا ہے وہ بولے دور سے مجھ کو دکھا کے دیکھ لیا غضب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 615 سے 4657