شاعری

اک سائیں سائیں گھیرے ہے گرتے مکان کو

اک سائیں سائیں گھیرے ہے گرتے مکان کو اور آنکھیں تاکتی ہیں چمکتی چٹان کو چڑھتے ہی میرے ہو گئی دیوار سے الگ حسرت سے دیکھتا ہوں اسی نردباں کو اندیشے دور دور کے نزدیک کا سفر کشتی کو دیکھتا ہوں کبھی بادبان کو زندان روز و شب میں ہے ہم سب کو عمر قید کوئی بچائے آ کے مرے خاندان ...

مزید پڑھیے

میرے الفاظ میں اثر رکھ دے

میرے الفاظ میں اثر رکھ دے سیپیاں ہیں تو پھر گہر رکھ دے بے خبر کی کہیں خبر رکھ دے حاصل زحمت سفر رکھ دے منزلیں بھر دے آنکھ میں اس کی اس کے پیروں میں پھر سفر رکھ دے چند لمحہ کوئی تو سستا لے راہ میں ایک دو شجر رکھ دے گر شجر میں ثمر نہیں ممکن اس میں سایا ہی شاخ بھر رکھ دے کل کے اخبار ...

مزید پڑھیے

وقت آفاق کے جنگل کا جواں چیتا ہے

وقت آفاق کے جنگل کا جواں چیتا ہے میری دنیا کے غزالوں کا لہو پیتا ہے عشق نے مر کے سوئمبر میں اسے جیتا ہے دل سری رام ہے دلبر کی رضا سیتا ہے اب بھی گھنشیام ہے اس دشت کا بوٹا بوٹا برگ نے آج بھی انساں کے لیے گیتا ہے جگمگاتی رہی اشکوں سے شب تار حیات دیپ مالا کی طرح دور الم بیتا ...

مزید پڑھیے

یہ بجھے بجھے ستارے یہ دھواں دھواں سویرا

یہ بجھے بجھے ستارے یہ دھواں دھواں سویرا کہیں آبرو کو ڈس لے نہ یہ باؤلا اندھیرا تری ناگ ناگ زلفیں کہیں رام ہو نہ جائیں کہ اٹھا ہے بین لے کے زر و مال کا سپیرا مرے شیشموں کی چھاؤں میں ہیں دھوپ کے ٹھکانے مری ندیوں کی لہروں میں ہے آگ کا بسیرا وہیں میں نے آرزوؤں کے حسیں دیئے ...

مزید پڑھیے

ٹہنیاں پھولوں کو ترسیں گی یہاں تیرے بعد

ٹہنیاں پھولوں کو ترسیں گی یہاں تیرے بعد وادیٔ جھنگ سے اٹھے گا دھواں تیرے بعد لاڈلے شیشموں کی بھاگ بھری شاخوں سے کونپلیں پھوٹیں گی بن بن کے فغاں تیرے بعد دھندلی دھندلی نظر آئیں گی سہانی راتیں ہچکیاں لے گا ''ترمّوں'' کا سماں تیرے بعد ناگ بن جائیں گی پانی کی شرابی لہریں آگ ...

مزید پڑھیے

مرے اندر جو اندیشہ نہیں ہے

مرے اندر جو اندیشہ نہیں ہے تو کیا میرا کوئی اپنا نہیں ہے کوئی پتا کہیں پردہ نہیں ہے تو کیا اب دشت میں دریا نہیں ہے تو کیا اب کچھ بھی در پردہ نہیں ہے یہ جنگل ہے تو کیوں خطرہ نہیں ہے کہاں جاتی ہیں بارش کی دعائیں شجر پر ایک بھی پتہ نہیں ہے درختوں پر سبھی پھل ہیں سلامت پرندہ کیوں ...

مزید پڑھیے

آرزو تھی ایک دن تجھ سے ملوں

آرزو تھی ایک دن تجھ سے ملوں مل گیا تو سوچتا ہوں کیا کروں جسم تو بھی اور میں بھی جسم ہوں کس طرح پھر تیرا پیراہن بنوں راستہ کوئی کہیں ملتا نہیں جسم میں جنموں سے اپنے قید ہوں تھی گھٹن پہلے بھی پر ایسی نہ تھی جی میں آتا ہے کہ کھڑکی کھول دوں خودکشی کے سینکڑوں انداز ہیں آرزو ہی کا نہ ...

مزید پڑھیے

دروازہ کوئی گھر سے نکلنے کے لئے دے

دروازہ کوئی گھر سے نکلنے کے لئے دے بے خوف کوئی راستہ چلنے کے لیے دے آنکھوں کو عطا خواب کئے شکریہ لیکن پیکر بھی کوئی خوابوں میں ڈھلنے کے لیے دے پانی کا ہی پیکر کسی پربت کو عطا کر اک بوند ہی ندی کو اچھلنے کے لیے دے سہمی ہوئی شاخوں کو ذرا سی کوئی مہلت سورج کی سواری کو نگلنے کے لیے ...

مزید پڑھیے

وہی نہ ملنے کا غم اور وہی گلا ہوگا

وہی نہ ملنے کا غم اور وہی گلا ہوگا میں جانتا ہوں مجھے اس نے کیا لکھا ہوگا کواڑوں پر لکھی ابجد گواہی دیتی ہے وہ ہفت رنگی کہیں چاک ڈھونڈھتا ہوگا پرانے وقتوں کا ہے قصر زندگی میری تمہارا نام بھی اس میں کہیں لکھا ہوگا چبھن یہ پیٹھ میں کیسی ہے مڑ کے دیکھ تو لے کہیں کوئی تجھے پیچھے سے ...

مزید پڑھیے

بجلیاں پی کے جو اڑ جاتے ہیں

بجلیاں پی کے جو اڑ جاتے ہیں وہ قیامت سے بھی لڑ جاتے ہیں قلب انساں کی جواں حدت سے آگ پر آبلے پڑ جاتے ہیں عشق جب وقت کو جھنجھوڑتا ہے حادثے کانپ کے جھڑ جاتے ہیں مقتل زیست سے محشر کی طرف رقص کرتے ہوئے دھڑ جاتے ہیں آہ کی زلزلہ اندازی سے عرش کے پائے اکھڑ جاتے ہیں ہم وہ انساں ہیں جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 587 سے 4657