اک سائیں سائیں گھیرے ہے گرتے مکان کو
اک سائیں سائیں گھیرے ہے گرتے مکان کو اور آنکھیں تاکتی ہیں چمکتی چٹان کو چڑھتے ہی میرے ہو گئی دیوار سے الگ حسرت سے دیکھتا ہوں اسی نردباں کو اندیشے دور دور کے نزدیک کا سفر کشتی کو دیکھتا ہوں کبھی بادبان کو زندان روز و شب میں ہے ہم سب کو عمر قید کوئی بچائے آ کے مرے خاندان ...