شاعری

منظر کو کسی طرح بدلنے کی دعا دے

منظر کو کسی طرح بدلنے کی دعا دے دے رات کی ٹھنڈک کو پگھلنے کی دعا دے اے ساعت ویران کے بے خواب فرشتے اب چیخ کو سینے سے نکلنے کی دعا دے پتے کو پرندوں کی پناہوں پہ لگا دے پیڑوں کو یہاں پھولنے پھلنے کی دعا دے پڑھ ایسا وظیفہ کہ یہ کہسار نہ اجڑے چشموں کو پہاڑوں سے ابلنے کی دعا دے اب ...

مزید پڑھیے

پاؤں میں دور کا سفر چمکے

پاؤں میں دور کا سفر چمکے رات بستی میں جب کھنڈر چمکے گر دعا ہے تو پھر اثر چمکے شاخ پر ایک تو ثمر چمکے ایک آسیب ہے ہر اک گھر میں ایک ہی چہرہ در بدر چمکے ظلمتوں کی زمین پر دیکھیں کس طرح نور کا نگر چمکے ان چمکتے ہوئے اندھیروں میں ایک تو حرف معتبر چمکے روشنی ہو تو روح تک لرزے اور ...

مزید پڑھیے

کسی کے ساتھ اب سایہ نہیں ہے

کسی کے ساتھ اب سایہ نہیں ہے کوئی بھی آدمی پورا نہیں ہے مرے اندر جو اندیشہ نہیں ہے تو کیا میرا کوئی اپنا نہیں ہے کوئی پتہ کہیں پردہ نہیں ہے تو کیا اب دشت میں دریا نہیں ہے تو کیا اب کچھ بھی در پردہ نہیں ہے یہ جنگل ہے تو کیوں خطرہ نہیں ہے کہاں جاتی ہیں بارش کی دعائیں شجر پر ایک بھی ...

مزید پڑھیے

عکس نے آئینے کا گھر چھوڑا

عکس نے آئینے کا گھر چھوڑا ایک سودا تھا جس نے سر چھوڑا بھاگتے منظروں نے آنکھوں میں جسم کو صرف آنکھ بھر چھوڑا ہر طرف روشنی سی پھیل گئی سانپ نے جب کبھی کھنڈر چھوڑا دھول اڑتی ہے دھوپ بیٹھی ہے اوس نے آنسوؤں کا گھر چھوڑا کھڑکیاں پیٹتی ہیں سر شب بھر آخری فرد نے بھی گھر چھوڑا کیا ...

مزید پڑھیے

کیا خبر تھی آتشیں آب و ہوا ہو جاؤں گا

کیا خبر تھی آتشیں آب و ہوا ہو جاؤں گا خاک و خوں کا مستقل میں سلسلہ ہو جاؤں گا ابتدا ہوں آپ اپنی انتہا ہو جاؤں گا بارشوں کا قرب پا کر پھر ہرا ہو جاؤں گا جھاڑیوں کی انگلیاں لپکیں گی گردن کی طرف پہلی شب کے آخری پل کی دعا ہو جاؤں گا آسماں کی سمت اٹھیں گے بگولے اور میں رفتہ رفتہ اک ...

مزید پڑھیے

چال ہم سب سے چل گیا سورج

چال ہم سب سے چل گیا سورج کتنا آگے نکل گیا سورج جلتے جلتے پگھل بھی سکتا ہے جب سنا تو دہل گیا سورج روز کی طرح کل بھی آؤں گا آج بھی سب کو چھل گیا سورج سر چھپانے کو جب جگہ نہ ملی کتنے چہروں میں ڈھل گیا سورج ایک بدلی جو پاس سے گزری رنگ کتنے بدل گیا سورج تہ کرو خواب شب سمیٹو اب پھر ...

مزید پڑھیے

منزلوں کا نشان کب دے گا

منزلوں کا نشان کب دے گا آہ کو آسمان کب دے گا عظمتوں کا نشان کب دے گا میرے حق میں بیان کب دے گا ظلم تو بے زبان ہے لیکن زخم کو تو زبان کب دے گا صبح سجدے سمیٹے سوئی ہے پر اندھیرا اذان کب دے گا ان ٹھٹھرتے ہوئے اجالوں کو دھوپ سا سائبان کب دے گا موج ماہی نگل نہ جائے کہیں نوح سا نگہبان ...

مزید پڑھیے

نگاہوں پر نگہبانی بہت ہے

نگاہوں پر نگہبانی بہت ہے نوازش ظل سبحانی بہت ہے یہاں ایسے ہی ہم کب بیٹھ جاتے ترے کوچہ میں ویرانی بہت ہے ابھی قصد سفر کا قصہ کیسا ابھی راہوں میں آسانی بہت ہے تری آنکھیں خدا محفوظ رکھے تری آنکھوں میں حیرانی بہت ہے لب دریا زباں سے تر کریں گے ابھی تلوار میں پانی بہت ہے مبارک ان ...

مزید پڑھیے

وہ گنگناتے راستے خوابوں کے کیا ہوئے

وہ گنگناتے راستے خوابوں کے کیا ہوئے ویرانہ کیوں ہیں بستیاں باشندے کیا ہوئے وہ جاگتی جبینیں کہاں جا کے سو گئیں وہ بولتے بدن جو سمٹتے تھے کیا ہوئے جن سے اندھیری راتوں میں جل جاتے تھے دیے کتنے حسین لوگ تھے کیا جانے کیا ہوئے خاموش کیوں ہو کوئی تو بولو جواب دو بستی میں چار چاند سے ...

مزید پڑھیے

بوند بن بن کے بکھرتا جائے

بوند بن بن کے بکھرتا جائے عکس آئینے کو بھرتا جائے بن کے کل کل جو گزرتا جائے اپنے وعدے سے مکرتا جائے ایک ہی لے میں بہے جاتا ہے اور لگتا ہے ٹھہرتا جائے شہر ساگر کا بھی ہم زاد کہاں موج در موج بپھرتا جائے عکس معکوس ہوا ہے جب سے اپنی نظروں سے اترتا جائے ایک ندی ہے کہ رکتی ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 586 سے 4657