شاعری

اس کو اپنی ذات خدا کی ذات لگی ہے

اس کو اپنی ذات خدا کی ذات لگی ہے میرے دل کو پاگل کی یہ بات لگی ہے کلجگ ہے اور پھر دکھڑوں کی برسات لگی ہے نوح کی کشتی میرے گھر کے ساتھ لگی ہے میرے پاس تہی دستی ہے درویشی ہے یہ دولت کب شہزادوں کے ہات لگی ہے گوری چٹی دھوپ نہ جوبن پر اترائے دن کے پیچھے کالی کالی رات لگی ہے ایک حسیں ...

مزید پڑھیے

دار ہے مرد انا الحق کا وطن (ردیف .. ر)

دار ہے مرد انا الحق کا وطن عرش ہے مرد خدا کی جاگیر روک لے ابر کرم گستر کو کھینچ کر برق تپاں کی زنجیر عقل کی پنجۂ بیعت سے نکل تیرا مرشد ترا مولا ہے ضمیر اس کے لکھے کو بدل سکتا ہے عشق جس کی تقدیر ہو پتھر پہ لکیر اس کا گھر پوچھتی پھرتی ہے رضا شیر افضلؔ ہے انا مست فقیر

مزید پڑھیے

آسمانوں سے اتر کر مری دھرتی پہ براج

آسمانوں سے اتر کر مری دھرتی پہ براج میں تجھے دوں گا پنپتے ہوئے گیتوں کا خراج دل کے صحرا پہ برس چیت کے بادل کی طرح خشک ٹیلے کو بھی دے پھولتی سرسوں کا مزاج نبض حالات میں اب رینگ کے چلتا ہے لہو کاش رکھ لے تو اترتے ہوئے دریا کی لاج چاند بن کر ذرا انسان کے ماتھے پہ ابھر تیرے جلووں کو ...

مزید پڑھیے

قدر کی رات بڑی پیاری ہے

قدر کی رات بڑی پیاری ہے دن اسی رین کا درباری ہے مری آواز پہ مرکی مرکی لحن داؤد کی سرداری ہے رنگ لائے گی یہ اک دن آخر مری فریاد بھی پچکاری ہے اس ببر مرد کی اللہ رے قضا جس پہ اللہ نے رضا واری ہے طور بجلی کی جواں سال کڑک نور کی ریشمیں کلکاری ہے داغ کہتے ہیں جسے کملے کوی وہ تو ...

مزید پڑھیے

نطق پلکوں پہ شرر ہو تو غزل ہوتی ہے

نطق پلکوں پہ شرر ہو تو غزل ہوتی ہے آستیں آگ سے تر ہو تو غزل ہوتی ہے ہجر میں جھوم کے وجدان پہ آتا ہے نکھار رات سولی پہ بسر ہو تو غزل ہوتی ہے کوئی دریا میں اگر کچے گھڑے پر تیرے ساتھ ساتھ اس کے بھنور ہو تو غزل ہوتی ہے مدت عمر ہے مطلوب ریاضت کے لیے زندگی بار دگر ہو تو غزل ہوتی ...

مزید پڑھیے

ندی کنارے جو نغمہ سرا ملنگ ہوئے

ندی کنارے جو نغمہ سرا ملنگ ہوئے حباب موج میں آ آ کے جل ترنگ ہوئے ارم کے پھول ازل کا نکھار طور کی لو سخی چناب کی وادی میں آ کے جھنگ ہوئے کبھی جو ساز کو چھیڑا بہار مستوں نے تو گنگ گنگ شجر ہم زبان چنگ ہوئے عطا کیا ترے ماتھے نے جن کو عید کا چاند نثار ان پہ ستاروں کے راگ رنگ ہوئے شب ...

مزید پڑھیے

پھول شعروں کی روانی میں چلے تلوار بھی

پھول شعروں کی روانی میں چلے تلوار بھی بانسری کی تان میں ہے نیمچے کی دھار بھی دل کی دھرتی پر کپل وستو میں خیبر چاہئے آدمی گوتم بھی ہو اور حیدر کرار بھی درد پر ہے اس کے چڑھنے اور اترنے کا مدار دل وہ دریا ہے کہ ہے پایاب بھی منجدھار بھی ٹانک دے آہ و بکا میں شبنمی چنگاریاں آنکھ ...

مزید پڑھیے

جب سوز دعا میں ڈھلتا ہے

جب سوز دعا میں ڈھلتا ہے ہونٹوں پہ دیپک جلتا ہے مسجد کی زمیں پہ سرو دعا آہوں کی لو میں پھلتا ہے اک سجدہ دل کے ماتھے پر ہر پچھلی رات مچلتا ہے پلکوں پہ لرزتے اشکوں سے درویش کا روپ اجلتا ہے غصے کو پی کے رند رضا نشے میں پھول اگلتا ہے خواہش کے خوں کی برکھا سے کردار کا بوٹا پلتا ...

مزید پڑھیے

مستی ازل کی شہ پر جبریل ہو گئی

مستی ازل کی شہ پر جبریل ہو گئی میری بیاض پرتو انجیل ہو گئی دل کا گداز آہ کی تاثیر دیکھ کر پتھر کی ذات کانپ کے تحلیل ہو گئی ہر لفظ کنکری کی طرح غیر پر گرا اپنی دعا فلک پہ ابابیل ہو گئی فرعون بے کرم جو ہوا مائل ستم ندی مرے لہو کی وہیں نیل ہو گئی جانا تھا زود‌ تر مجھے میدان حشر ...

مزید پڑھیے

زندگی رین بسیرے کے سوا کچھ بھی نہیں

زندگی رین بسیرے کے سوا کچھ بھی نہیں یہ نفس عمر کے پھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں جسے نادان کی بولی میں صدی کہتے ہیں وہ گھڑی شام سویرے کے سوا کچھ بھی نہیں دل کبھی شہر سدا رنگ ہوا کرتا تھا اب تو اجڑے ہوئے ڈیرے کے سوا کچھ بھی نہیں ہاتھ میں بین ہے کانوں کی لوؤں میں بالے یہ ریاکار سپیرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 588 سے 4657