پرکھوں سے جو ملی ہے وہ دولت بھی لے نہ جائے
پرکھوں سے جو ملی ہے وہ دولت بھی لے نہ جائے ظالم ہوائے شہر ہے عزت بھی لے نہ جائے وحشت تو سنگ و خشت کی ترتیب لے گئی اب فکر یہ ہے دشت کی وسعت بھی لے نہ جائے پیچھے پڑا ہے سب کے جو پرچھائیوں کا پاپ ہم سے عداوتوں کی وہ عادت بھی لے نہ جائے آنگن اجڑ گیا ہے تو غم اس کا تا بہ کے محتاط رہ کہ ...