تو میری منزل ہے تیرا رستہ میں
تو میری منزل ہے تیرا رستہ میں
نازاں ہوں ہو کر تجھ سے وابستہ میں
جان کے بھی انجان بنی رہتی ہے تو
پاس کبھی آ جاؤں جو آہستہ میں
پیار کی خوشبو سے مہکاتا ہوں محفل
اپنے آپ میں پھولوں کا گلدستہ میں
ورنہ کون سنے کم ظرفوں کے طعنے
مجبوری کے باعث ہوں لب بستہ میں
وہ جو عیاں ہو کر بھی نہاں ہے آج تلک
اپنی ذات میں وہ راز سر بستہ میں
نرمی سے پیش آتا ہوں ہر ایک سے شادؔ
یعنی اپنے آپ میں ہوں شائستہ میں