شاعری

ہر طرف اداسی ہے حوصلے بھی زخمی ہیں

ہر طرف اداسی ہے حوصلے بھی زخمی ہیں دل لگی کے موسم میں قہقہے بھی زخمی ہیں وحشتوں کے پیروں میں کون باندھے زنجیریں کیا کریں کہاں جائیں فیصلے بھی زخمی ہیں بے حیائی کے سائے غالب آ گئے ہم پر آج کل تمدن کے زاویے بھی زخمی ہیں راہ و رسم کا قائل اب نہیں رہا انساں ہیں لہو لہو رشتے رابطے ...

مزید پڑھیے

بچھڑ گئے تھے کسی روز کھیل کھیل میں ہم

بچھڑ گئے تھے کسی روز کھیل کھیل میں ہم کہ ایک ساتھ نہیں چڑھ سکے تھے ریل میں ہم ذرا سا شور بغاوت اٹھا اور اس کے بعد وزیر تخت پہ بیٹھے تھے اور جیل میں ہم پتہ چلا وہ کوئی عام پینٹنگ نہیں ہے اور اس کو بیچنے والے تھے آج سیل میں ہم جفا کی ایک ہی تیلی سے کام ہو جاتا کہ پورے بھیگے ہوئے تھے ...

مزید پڑھیے

اب کے برس ہوں جتنا تنہا

اب کے برس ہوں جتنا تنہا پہلے کہاں تھا اتنا تنہا دنیا ایک سمندر جس میں میں ہوں کوئی جزیرہ تنہا زیست سفر ہے تنہائی کا آنا تنہا جانا تنہا اس کو بتاؤ جسم سے کٹ کر رہ نہیں سکتا سایہ تنہا اف یہ موج طوفان الم ہائے دل کا سفینہ تنہا جس کو چاہا جان سے بڑھ کر آخر اس نے چھوڑا تنہا گھر سے ...

مزید پڑھیے

ناز بھلا کس بات کا تجھ کو پاس ہنر جب کچھ بھی نہیں

ناز بھلا کس بات کا تجھ کو پاس ہنر جب کچھ بھی نہیں منزل پر پہنچے گا کیسے رخت سفر جب کچھ بھی نہیں دیکھ بھٹک جائے نہ مسافر آنکھ کی بھول بھلیا میں کس کو ڈھونڈے شوخ نظر تا حد نظر جب کچھ بھی نہیں میری نگاہوں میں دنیا کی ہر شے سے نایاب ہے تو اور کسی کو کیوں چاہوں تجھ سے بہتر جب کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

تجھے دل میں بسائیں گے ترے ہی خواب دیکھیں گے

تجھے دل میں بسائیں گے ترے ہی خواب دیکھیں گے مٹیں گے تیری چاہت میں وفا کے باب دیکھیں گے یہ آنکھیں یار کے دیدار کی پیاسی ہیں مدت سے وہ آئیں بام پر تو جلوۂ مہتاب دیکھیں گے خمار خود پرستی بھی کبھی اترے گا موجوں کا تو پھر اے قلزم ہستی تجھے پایاب دیکھیں گے رسائی جو تری محفل تلک اک ...

مزید پڑھیے

گیلی مٹی سے بدن بنتے ہوئے عمر لگی

گیلی مٹی سے بدن بنتے ہوئے عمر لگی مجھ کو صحرا سے چمن بنتے ہوئے عمر لگی پختگی فکر میں یک لخت کہاں آتی ہے میری سوچوں کو سخن بنتے ہوئے عمر لگی ابن آدم کی ہوس سے ملی صدیوں میں نجات بنت حوا کو دلہن بنتے ہوئے عمر لگی فرق حالانکہ بہت تھوڑا ہے دونوں میں مگر سر کے آنچل کو کفن بنتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

اپنا خالق خود ہی تھا میرا خدا کوئی نہ تھا

اپنا خالق خود ہی تھا میرا خدا کوئی نہ تھا اس جہاں میں مجھ سے پہلے دوسرا کوئی نہ تھا رات بھر چلتا رہا تھا چاند میرے ساتھ ساتھ دشت میں اس کا کہیں بھی نقش پا کوئی نہ تھا فاصلے ہی فاصلے تھے منزلیں ہی منزلیں ہم سفر کوئی نہ تھا اور رہ نما کوئی نہ تھا وہ پیمبر تھا کھڑا تھا اک گلی کے موڑ ...

مزید پڑھیے

تیری الفت میں نہ جانے کیا سے کیا ہو جاؤں گا

تیری الفت میں نہ جانے کیا سے کیا ہو جاؤں گا تو نے گر چاہا تو اک دن میں خدا ہو جاؤں گا قتل کر کے مت سمجھنا میں فنا ہو جاؤں گا جل کے اپنی راکھ سے پھر رونما ہو جاؤں گا میں کسی درویش کے لب کی دعا ہو جاؤں گا بے سہارا زندگی کا آسرا ہو جاؤں گا رات بھر بیٹھا رہا میں تھام کر یادوں کا ...

مزید پڑھیے

صحرا میں کڑی دھوپ کا ڈر ہوتے ہوئے بھی

صحرا میں کڑی دھوپ کا ڈر ہوتے ہوئے بھی سائے سے گریزاں ہوں شجر ہوتے ہوئے بھی ماں باپ کا منظور نظر ہوتے ہوئے بھی محروم وراثت ہوں پسر ہوتے ہوئے بھی یہ جبر مشیت ہے کی تنہائی کی عادت میں قید ہوں دیوار میں در ہوتے ہوئے بھی ہم ایسے پرندوں کی ہے اک پیڑ سے نسبت اڑ کر کہیں جاتے نہیں پر ...

مزید پڑھیے

احساس کی دیوار گرا دی ہے چلا جا

احساس کی دیوار گرا دی ہے چلا جا جانے کے لیے یار جگہ دی ہے چلا جا اے قیس نما شخص یہاں کچھ نہیں تیرا تجھ نام کی صحرا میں منادی ہے چلا جا دنیا تو چلو غیر تھی شکوہ نہیں اس سے تو نے بھی تو اوقات دکھا دی ہے چلا جا تا کوئی بہانہ ترے پیروں سے نہ لپٹے دیوار سے تصویر ہٹا دی ہے چلا جا یک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 544 سے 4657