ہر طرف اداسی ہے حوصلے بھی زخمی ہیں
ہر طرف اداسی ہے حوصلے بھی زخمی ہیں دل لگی کے موسم میں قہقہے بھی زخمی ہیں وحشتوں کے پیروں میں کون باندھے زنجیریں کیا کریں کہاں جائیں فیصلے بھی زخمی ہیں بے حیائی کے سائے غالب آ گئے ہم پر آج کل تمدن کے زاویے بھی زخمی ہیں راہ و رسم کا قائل اب نہیں رہا انساں ہیں لہو لہو رشتے رابطے ...