دروں کو چنتا ہوں دیوار سے نکلتا ہوں
دروں کو چنتا ہوں دیوار سے نکلتا ہوں میں خود کو جیت کے اس ہار سے نکلتا ہوں تجھے شناخت نہیں ہے مرے لہو کی کیا میں روز صبح کے اخبار سے نکلتا ہوں مری تلاش میں اس پار لوگ جاتے ہیں مگر میں ڈوب کے اس پار سے نکلتا ہوں عجیب خوف ہے دونوں کو کیا کیا جائے میں قد میں اپنے ہی سردار سے نکلتا ...