شاعری

دروں کو چنتا ہوں دیوار سے نکلتا ہوں

دروں کو چنتا ہوں دیوار سے نکلتا ہوں میں خود کو جیت کے اس ہار سے نکلتا ہوں تجھے شناخت نہیں ہے مرے لہو کی کیا میں روز صبح کے اخبار سے نکلتا ہوں مری تلاش میں اس پار لوگ جاتے ہیں مگر میں ڈوب کے اس پار سے نکلتا ہوں عجیب خوف ہے دونوں کو کیا کیا جائے میں قد میں اپنے ہی سردار سے نکلتا ...

مزید پڑھیے

سفر سرابوں کا بس آج کٹنے والا ہے

سفر سرابوں کا بس آج کٹنے والا ہے کہ میرے پاؤں سے دریا لپٹنے والا ہے اٹھو کہ اب تو تمازت کا ذائقہ چکھ لیں شجر کا سایہ شجر میں سمٹنے والا ہے تو پھر یقین کی سرحد میں وار کر مجھ پر گماں کی دھند میں جب تیر اچٹنے والا ہے تو اتنا جس کی ضیا باریوں پہ نازاں ہے غبار شب سے وہ چہرہ بھی اٹنے ...

مزید پڑھیے

زندگی گلشن میں بھی دشوار ہے تیرے بغیر

زندگی گلشن میں بھی دشوار ہے تیرے بغیر اس چمن کا پھول بھی اک خار ہے تیرے بغیر زندگانی عشق کی ناکامیوں میں صرف کی زندگی کا لطف بھی دشوار ہے تیرے بغیر تیری صورت سامنے ہوتی تو میں کہتا غزل مجھ پہ ذوق شاعری اک بار ہے تیرے بغیر ساقیا جب تو نہیں میں نے بھی چھوڑی مے کشی میکدے سے مے سے ...

مزید پڑھیے

مزاج لے کے بالآخر جدا کدھر جائے

مزاج لے کے بالآخر جدا کدھر جائے چراغ دوست بنے ہیں ہوا کدھر جائے دلوں سے ربط ہے کوئی نہ درد سے رشتہ کوئی بتائے بھلا اب دعا کدھر جائے ہر اک نگاہ میں اک خوف بھی ہے خواہش بھی کسے پتا وہ ستارہ ادا کدھر جائے فصیل بند ہیں سب بوئے گل کے شیدائی چمن سے نکلے تو باد صبا کدھر جائے ہر ایک ...

مزید پڑھیے

نخل دعا کبھی جب دل کی زمیں سے نکلے

نخل دعا کبھی جب دل کی زمیں سے نکلے سائے بھی کچھ گماں کے برگ یقیں سے نکلے نظریں جمائے رکھنا امید کے کھنڈر پر ممکن ہے اب کے سورج اس کی جبیں سے نکلے خود سے فرار اتنا آسان بھی نہیں ہے سائے کریں گے پیچھا کوئی کہیں سے نکلے زخمی انا کو یوں میں ہر بار چھیڑتا ہوں مثبت سا اک اشارہ شاید ...

مزید پڑھیے

تیرا چہرہ دیکھ کے ہر شب صبح دوبارہ لکھتی ہے

تیرا چہرہ دیکھ کے ہر شب صبح دوبارہ لکھتی ہے برگ گل پر موج صبا بھی نام تمہارا لکھتی ہے چپہ چپہ میرا ماضی جس کے دم سے روشن ہے اپنے دل پر وہ بھی کبھی کیا نام تمہارا لکھتی ہے کس کا چہرہ کس کی آنکھیں دیکھ کے کالی لمبی رات سوچ میں ڈوبی چپکے چپکے چاند ستارہ لکھتی ہے بے بس کشتی پڑھ لیتی ...

مزید پڑھیے

یہاں رہنے میں دشواری بہت ہے

یہاں رہنے میں دشواری بہت ہے یہی مٹی مگر پیاری بہت ہے ہوس سے ملتے جلتے عشق میں اب جنوں کم ہے اداکاری بہت ہے چلو اب عشق کا ہی کھیل کھیلیں ادھر کچھ دن سے بیکاری بہت ہے میں سائے کو اٹھانا چاہتا ہوں اٹھا لیتا مگر بھاری بہت ہے ادھر بھی خامشی کا شور برپا ادھر سنتے ہیں تیاری بہت ...

مزید پڑھیے

بیچ دی کیوں زندگی دو چار آنے کے لئے

بیچ دی کیوں زندگی دو چار آنے کے لئے ایک دو لمحہ تو رکھتا مسکرانے کے لئے دوڑ کر دفتر گئے بھاگے وہاں سے گھر گئے لنچ میں فرصت نہیں ہے لنچ کھانے کے لئے کس لئے کس کے لئے ٹٹو بنے ہو رات دن آج بھی رویا ہے بچہ گود آنے کے لئے گاؤں میں ماں باپ تم کو یاد کرتے ہیں بہت وقت تھوڑا سا نکالو گاؤں ...

مزید پڑھیے

نہ تو گندھ ہوں کسی پھول کی نہ ہی پھول ہوں کسی باغ کا

نہ تو گندھ ہوں کسی پھول کی نہ ہی پھول ہوں کسی باغ کا کسی آنکھ کو جو نہ بھا سکا وہ اجاڑ ہوں کسی راغ کا مرے اشک سے مرے درد سے نہیں واسطہ ہے جہان کو نہ تو اشک ہوں کسی میرؔ کا نہ ہی درد ہوں کسی داغؔ کا جو جلا کرے تو جلا کرے جو بجھا رہے تو بجھا رہے کسی اور کو نہ سنائی دے وہی درد ہوں میں ...

مزید پڑھیے

داغ جو اب تک عیاں ہیں وہ بتا کیسے مٹیں

داغ جو اب تک عیاں ہیں وہ بتا کیسے مٹیں فاصلے جو درمیاں ہیں وہ بتا کیسے مٹیں ایک مدت سے دلوں میں درد کی ہیں بستیاں درد کی جو بستیاں ہیں وہ بتا کیسے مٹیں رات بھر سویا نہیں میں بس اسی اک فکر میں ان سنی کچھ سسکیاں ہیں وہ بتا کیسے مٹیں کس طرح رشتوں میں آئی تلخیاں یہ پھر کجی بے سبب جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 529 سے 4657