شاعری

یوں ہی ہے نور وحدت کا دل انساں میں آ جانا

یوں ہی ہے نور وحدت کا دل انساں میں آ جانا کہ جیسے آنکھ کے تل میں جہاں بھر کا سما جانا نہ لیتے نام بھی وہ ظلم کا بھولے سے دنیا میں اگر اتنا سمجھ لیتے کہ ہے پیش خدا جانا یہ فطرت حسن کی ہے اور وہ طینت محبت کی جسے تم نے جفا سمجھا اسے ہم نے وفا جانا بیاں کر دینا حال زار ہم صحرا نشینوں ...

مزید پڑھیے

رات کا تاریک تر پتھر جگر پانی کریں

رات کا تاریک تر پتھر جگر پانی کریں ہم بھلا کس کے لیے یہ کار لا ثانی کریں دن تو دن راتوں کو بھی یہ اپنی من مانی کریں مملکت پر دل کی یادیں جیسے سلطانی کریں بس گئے ہیں آنکھ میں منظر پس منظر سراب ہم کہاں تک اپنے خوابوں کی نگہبانی کریں اک طلسمی رنگ میں کھو جائیں جب چہرے تمام فرض ہے ...

مزید پڑھیے

ہیبت حسن سے الفاظ کی حیرانی تک

ہیبت حسن سے الفاظ کی حیرانی تک بات پہنچی تھی ابھی چاند کی پیشانی تک آپ کیا درہم و دینار لیے پھرتے ہیں ہم تو ٹھکرا بھی چکے تخت سلیمانی تک وصل کے قصے تو تمہید ہیں سنتے رہیے بات پہنچے گی ابھی قوت ایمانی تک قصۂ رفتہ مکمل نہیں ہوگا ورنہ ذکر جاری رہے اقدار کی ارزانی تک آپ محسن ہیں ...

مزید پڑھیے

رفتار تیز تر کا بھرم ٹوٹنے لگے

رفتار تیز تر کا بھرم ٹوٹنے لگے ایسے نہ چل کہ راہ میں دم ٹوٹنے لگے نفرت کی آندھیوں کی جفا کاریاں نہ پوچھ پتوں کی طرح شاخ سے ہم ٹوٹنے لگے رک کر مجھے صدائیں نہ دیں ورنہ یوں نہ ہو دشت جنوں میں میرا بھی رم ٹوٹنے لگے

مزید پڑھیے

اگر سنے تو کسی کو یقیں نہیں آئے

اگر سنے تو کسی کو یقیں نہیں آئے مکاں بلاتے رہے اور مکیں نہیں آئے وہ چند لفظ جو کچھ بھی نہیں سوا سچ کے وہ چند لفظ بیاں میں کہیں نہیں آئے تو کیا ہوا جو یہ تن مل رہے ہیں مٹی میں ابھی وہ خواب تو زیر زمیں نہیں آئے ابھی سے ناز نہ کر اتنا خوش لباسی پر ابھی تو بزم میں وہ نکتہ چیں نہیں ...

مزید پڑھیے

چشم گردوں پھر تمازت اپنی برسانے لگی

چشم گردوں پھر تمازت اپنی برسانے لگی پھر زمیں منت کش دریا نظر آنے لگی پھر جہان تازہ کی ہم جستجو کرنے لگے پھر خرابے میں طبیعت اپنی گھبرانے لگی کیا میسر آ گیا مجھ کو ہوا کا التفات اب مری آواز شاید دور تک جانے لگی منظر خوش رنگ سے اکتا کے آخر یہ نظر اپنی آوارہ مزاجی کی سزا پانے ...

مزید پڑھیے

خوشی میں غم ملا لیتے ہیں تھوڑا

خوشی میں غم ملا لیتے ہیں تھوڑا یہ سرمایہ بڑھا لیتے ہیں تھوڑا نظر آتے ہیں جب اطراف چھوٹے ہم اپنا قد گھٹا لیتے ہیں تھوڑا ہے اندر روشنی باہر اندھیرا سو دونوں کو ملا لیتے ہیں تھوڑا بہت بے ربط ہے اندر کی دنیا چلو پردہ اٹھا لیتے ہیں تھوڑا بہت سا خرچ ہو جاتا ہے ایماں مگر پھر بھی بچا ...

مزید پڑھیے

کسی نادیدہ شے کی چاہ میں اکثر بدلتے ہیں

کسی نادیدہ شے کی چاہ میں اکثر بدلتے ہیں کبھی آنکھیں کبھی چہرہ کبھی منظر بدلتے ہیں کسی محفوظ گوشے کی طلب مجبور کرتی ہے مکیں بدلے نہیں جاتے ہیں سو ہم گھر بدلتے ہیں میاں بازار کو شرمندہ کرنا کیا ضروری ہے کہیں اس دور میں تہذیب کے زیور بدلتے ہیں یہ انجانے پرندے کون سے جنگل سے آئے ...

مزید پڑھیے

ہوس کے بیج بدن جب سے دل میں بونے لگا

ہوس کے بیج بدن جب سے دل میں بونے لگا میں خود سے ملنے کے سارے جواز کھونے لگا رفیق صبح تھا سورج سے رشتہ داری تھی سپاہ شب میں یہ کس کا شمار ہونے لگا عجیب منظر آخر تھا بجھتی آنکھوں میں وہ مجھ کو مار کے بے اختیار رونے لگا اس احتیاط کی سرحد سزا سے ملتی ہے لہو کا نام لیا آستین دھونے ...

مزید پڑھیے

دنیا سے دنیا میں رہ کر کیسے کنارہ کر رکھا ہے

دنیا سے دنیا میں رہ کر کیسے کنارہ کر رکھا ہے دیکھ تو آ کر کس صورت سے ہم نے گزارہ کر رکھا ہے پہلے تو ہم دنیا سمجھے لیکن اب احساس ہوا ہے جوش جنوں میں ہم نے خود کو پارہ پارہ کر رکھا ہے اتنا نور کہاں سے لاؤں تاریکی کے اس جنگل میں دو جگنو ہی پاس تھے اپنے جن کو ستارہ کر رکھا ہے دیکھ سکو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 528 سے 4657