یوں ہی ہے نور وحدت کا دل انساں میں آ جانا
یوں ہی ہے نور وحدت کا دل انساں میں آ جانا کہ جیسے آنکھ کے تل میں جہاں بھر کا سما جانا نہ لیتے نام بھی وہ ظلم کا بھولے سے دنیا میں اگر اتنا سمجھ لیتے کہ ہے پیش خدا جانا یہ فطرت حسن کی ہے اور وہ طینت محبت کی جسے تم نے جفا سمجھا اسے ہم نے وفا جانا بیاں کر دینا حال زار ہم صحرا نشینوں ...