مزاج لے کے بالآخر جدا کدھر جائے
مزاج لے کے بالآخر جدا کدھر جائے
چراغ دوست بنے ہیں ہوا کدھر جائے
دلوں سے ربط ہے کوئی نہ درد سے رشتہ
کوئی بتائے بھلا اب دعا کدھر جائے
ہر اک نگاہ میں اک خوف بھی ہے خواہش بھی
کسے پتا وہ ستارہ ادا کدھر جائے
فصیل بند ہیں سب بوئے گل کے شیدائی
چمن سے نکلے تو باد صبا کدھر جائے
ہر ایک سمت اندھیرا ہے دیکھیے کیا ہو
نکل کے گھر سے وہ روشن قبا کدھر جائے