تیرا چہرہ دیکھ کے ہر شب صبح دوبارہ لکھتی ہے
تیرا چہرہ دیکھ کے ہر شب صبح دوبارہ لکھتی ہے
برگ گل پر موج صبا بھی نام تمہارا لکھتی ہے
چپہ چپہ میرا ماضی جس کے دم سے روشن ہے
اپنے دل پر وہ بھی کبھی کیا نام تمہارا لکھتی ہے
کس کا چہرہ کس کی آنکھیں دیکھ کے کالی لمبی رات
سوچ میں ڈوبی چپکے چپکے چاند ستارہ لکھتی ہے
بے بس کشتی پڑھ لیتی ہے فطرت کی وہ بھی تحریر
موج بلا جب آب رواں پر کوئی اشارہ لکھتی ہے
کاروبار شوق میں اب تو حالت یہ آ پہنچی ہے
صبح زیاں تحریر کرے تو شام خسارہ لکھتی ہے
رات کی کالی تحریروں سے تب تک ہوں محفوظ نظامؔ
ایک ستارہ جب تک رخ پر صبح کا تارا لکھتی ہے