شاعری

خدا کرے کہ نظر کامیاب ہو جائے

خدا کرے کہ نظر کامیاب ہو جائے تری نظر میں مرا انتخاب ہو جائے وہ سامنے مرے بے پردہ آ گئے لیکن مزا تو جب ہے کہ پھر سے حجاب ہو جائے کئے تھے وصل کے وعدے ہزار تم نے مگر میں آج آ ہی گیا لو حساب ہو جائے بکھیر رخ پہ ذرا اپنے اس طرح زلفیں کہ زلف چہرے پہ تیرے نقاب ہو جائے الٰہی وصف ہو دل ...

مزید پڑھیے

مدتوں میں گھر ہمارے آج یار آ ہی گیا

مدتوں میں گھر ہمارے آج یار آ ہی گیا ظلم کرتا تھا مگر ظالم کو پیار آ ہی گیا ہجر کی راتیں کٹیں تارے گنے جاگا کئے وصل کے لمحے ملے آخر قرار آ ہی گیا وہم تھے میری طرف سے بد گمانی تھی انہیں میری فطرت دیکھ کے اب اعتبار آ ہی گیا میں نے مانا عارضی ہیں وصل کی گھڑیاں مگر چند لمحوں کے لئے ...

مزید پڑھیے

آج بے چین ہے بیمار خدا خیر کرے

آج بے چین ہے بیمار خدا خیر کرے یاد آتا ہے رخ یار خدا خیر کرے اب نہیں خیر کسی صاحب دل کی اے دوست آج ہے ہاتھ میں تلوار خدا خیر کرے کون ہوگا جسے میں اپنا کہوں گا اے دل روٹھے جاتے ہیں وہ غم خوار خدا خیر کرے وہی جو عشق میں مصروف بھی مسرور بھی تھا وہی صدیقؔ ہے بیزار خدا خیر کرے

مزید پڑھیے

تنگ آ گئے ہیں کشمکش آشیاں سے ہم

تنگ آ گئے ہیں کشمکش آشیاں سے ہم اب جا رہے ہیں آپ کے اس گلستاں سے ہم صیاد نے جو کاٹ دیئے بال و پر تمام فریاد آج کرتے ہیں اس باغباں سے ہم بجلی چمک رہی ہے نشیمن کی خیر ہو مایوس ہو گئے ہیں کچھ اب آشیاں سے ہم فصل بہار ہے اجی گانے کے روز ہیں کنج قفس میں بیٹھے ہیں اک بے زباں سے ہم ہر شخص ...

مزید پڑھیے

بے جا نہ تھا اٹھ بیٹھنا بے چینی سے میرا (ردیف .. ی)

بے جا نہ تھا اٹھ بیٹھنا بے چینی سے میرا شب سامنے آنکھوں کے وہ تصویر کھڑی تھی اک ہاتھ دھرا دل پہ اک انگشت دہن میں یوں کشتۂ الفت کی ترے لاش پڑی تھی اس گوہر یکتا کی جو میں یاد میں رویا ہر اشک مسلسل مرا موتی کی لڑی تھی صدمے سے شب ہجر کے جیتا جو بچا تو بیمار تپ ہجر تری عمر بڑی تھی کی ...

مزید پڑھیے

جو شانہ گیسوئے جاناں میں ہم کبھو کرتے

جو شانہ گیسوئے جاناں میں ہم کبھو کرتے تری بھی اے دل گم گشتہ جستجو کرتے ہمارے دل پہ یہ آفت نہ آتی اک سر مو پسند ہم جو نہ وہ زلف مشکبو کرتے سیاہ بخت ازل ہوں کہاں ہیں ایسے نصیب کہ قتل کر کے مجھے آپ سرخ رو کرتے یہ آرزو رہی دل میں ہمارے تا دم نزع جو آتا یار تو کچھ اس سے گفتگو کرتے

مزید پڑھیے

بے سبب وہ نہ مرے قتل کی تدبیر میں تھا

بے سبب وہ نہ مرے قتل کی تدبیر میں تھا اس کے ہاتھوں ہی سے مٹنا مری تقدیر میں تھا منتظر تھا ترا دیوانۂ گیسو جس رات عالم چشم ہر اک حلقۂ زنجیر میں تھا جنبش لب کا گماں ہوتا تھا عاشق کو ترے اس قدر لطف خموشی تری تصویر میں تھا او کماں ابرو جو اک تیر لگایا تو کیا اشتیاق اس سے زیادہ دل ...

مزید پڑھیے

کرتا ہے رحم کون کسی بے گناہ پر

کرتا ہے رحم کون کسی بے گناہ پر پڑتے ہیں تازیانے یہاں داد خواہ پر شکوہ ہے بے وفائی جاناں کا اس قدر ہم مر چلے ہنوز نہ آئے وہ راہ پر دل خود ہوا اسیر زنخدان یار میں لاتی ہے تشنگی ہی پیاسے کو چاہ پر شبنم کو محو کرتا ہے جس طرح آفتاب یارب نگاہ مہر ہو میرے گناہ پر عاشق پہ رحم کر شہ ...

مزید پڑھیے

ہمارے پاؤں ڈرتے ہیں تمہارے ساتھ چلنے میں

ہمارے پاؤں ڈرتے ہیں تمہارے ساتھ چلنے میں ذرا سا وقت لگتا ہے کبھی نیت بدلنے میں تمہیں شاید پتا ہو یا نہ ہو شاید پتا تم کو کہ سالوں سال لگتے ہیں چبھا کانٹا نکلنے میں کسی پتھر کی مورت سے نہ کرنا پیار تم ہرگز ہزاروں سال لگتے ہیں بتوں کا دل پگھلنے میں ذرا سا وقت تو دے زندگی مجھ کو ...

مزید پڑھیے

نیند کی گولی نہ کھاؤ نیند لانے کے لئے

نیند کی گولی نہ کھاؤ نیند لانے کے لئے کون آئے گا بھلا تم کو جگانے کے لئے بیٹا بیٹی فون پر اکثر بتاتے ہیں مجھے وقت ملتا ہی نہیں ہے گاؤں آنے کے لئے قبر اپنی کھود کر خود لیٹ جاؤ ایک دن وقت کس کے پاس ہے مٹی اٹھانے کے لئے وہ بھی اپنے وہ بھی اپنے وہ بھی اپنے تھے کبھی وہ جو اپنے تھے کبھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 530 سے 4657