اب اتنی ارزاں نہیں بہاریں وہ عالم رنگ و بو کہاں ہے
اب اتنی ارزاں نہیں بہاریں وہ عالم رنگ و بو کہاں ہے قفس میں بیٹھے رہو اسیرو ابھی نشیمن بہت گراں ہے گزر رہا ہے جو دل پہ عالم عیاں نہ ہونے پہ بھی عیاں ہے ابھی فقط قصد ہے فغاں کا ابھی سے چہرہ دھواں دھواں ہے کہیں قیامت نہ اٹھ کھڑی ہو زمین ملتی ہے آسماں سے بڑی نزاکت کی یہ گھڑی ہے مری ...