شاعری

اب اتنی ارزاں نہیں بہاریں وہ عالم رنگ و بو کہاں ہے

اب اتنی ارزاں نہیں بہاریں وہ عالم رنگ و بو کہاں ہے قفس میں بیٹھے رہو اسیرو ابھی نشیمن بہت گراں ہے گزر رہا ہے جو دل پہ عالم عیاں نہ ہونے پہ بھی عیاں ہے ابھی فقط قصد ہے فغاں کا ابھی سے چہرہ دھواں دھواں ہے کہیں قیامت نہ اٹھ کھڑی ہو زمین ملتی ہے آسماں سے بڑی نزاکت کی یہ گھڑی ہے مری ...

مزید پڑھیے

اچھا قصاص لینا پھر آہ آتشیں سے

اچھا قصاص لینا پھر آہ آتشیں سے آؤ ادھر پسینہ تو پوچھ دوں جبیں سے میرا نیاز پھر بھی ٹھکرایا جا رہا ہے نکلی ہے رسم سجدہ گو میری ہی جبیں سے مجبوریٔ محبت انصاف چاہتی ہے شکوہ بھی ہے تمہیں سے فریاد بھی تمہیں سے ہاں ہم بھی جانتے ہیں مدت سے ان بتوں کو کعبے کے رہنے والے نکلے ہیں آستیں ...

مزید پڑھیے

مجھے اب ہوائے چمن نہیں کہ قفس میں گونہ قرار ہے

مجھے اب ہوائے چمن نہیں کہ قفس میں گونہ قرار ہے یہ تو پچھلے سال جو آئی تھی وہی چار دن کی بہار ہے ہیں جگر میں داغ لہو ہے دل ہیں تر آنکھیں سینہ فگار ہے یہی رنگ و بو یہی فصل گل یہی بے کسوں کی بہار ہے کوئی حسب حال خطاب ہو مرے دل کو دل نہ کہا کرو اسے کیوں بہار کا نام دو جو خزاں نصیب بہار ...

مزید پڑھیے

جلتی رہنا شمع حیات

جلتی رہنا شمع حیات پھر نہ ملے گی ایسی رات کہہ تو گئی وہ نیچی نگاہ راز ہی رکھنا راز حیات ہم کچھ سمجھے وہ کچھ اور خاموشی میں بڑھ گئی بات کس کو سنائیں پوچھے کون آہ نیم شبی کی بات روح کے منکر جسم پرست سہل نہیں عرفان حیات اف یہ دست طلب اور ہم سب ہے وقت پڑے کی بات دامن سے اب منہ نہ ...

مزید پڑھیے

خیال دوست نہ میں یاد یار میں گم ہوں

خیال دوست نہ میں یاد یار میں گم ہوں خود اپنی فکر و نظر کی بہار میں گم ہوں خوشی سے جبر زدہ اختیار میں گم ہوں عجیب دل کشیٔ ناگوار میں گم ہوں خود اپنی یاد فراموش کار میں گم ہوں بہانہ یہ ہے ترے انتظار میں گم ہوں نہ محتسب کی خوشامد نہ میکدے کا طواف خودی میں مست ہوں اپنی بہار میں گم ...

مزید پڑھیے

یوں سبک دوش ہوں جینے کا بھی الزام نہیں

یوں سبک دوش ہوں جینے کا بھی الزام نہیں آہ اتنی بڑی دنیا میں کوئی کام نہیں میری تحقیق مرا حسن نظر عام نہیں کوئی عالم ہو مرے آئنہ میں شام نہیں اوس دامن پہ ہے آنکھوں میں نمی کی جھلکی صبح ہونے پہ بھی آسودگئ شام نہیں مست ہوں نشۂ پرواز میں اب ہوش کہاں ہم نوا دیکھ مرا رخ تو سوئے دام ...

مزید پڑھیے

اب نہ کچھ سننا نہ سنانا رات گزرتی جاتی ہے

اب نہ کچھ سننا نہ سنانا رات گزرتی جاتی ہے ختم ہے اب بے کہے فسانہ رات گزرتی جاتی ہے جلدی کیا ہے برق تبسم دھواں بنے گا خود آنسو دن ہو لے پھر آگ لگانا رات گزرتی جاتی ہے طشت طلائی میں سورج کے ایک اک اشک پرکھ لینا وقت سحر الزام لگانا رات گزرتی جاتی ہے رہ نہیں سکتے مجرم آنسو قیدی ...

مزید پڑھیے

امانت سونپ کر بنیاد بھی حشر آفریں رکھ دی

امانت سونپ کر بنیاد بھی حشر آفریں رکھ دی جہاں سے ایک مٹھی خاک اٹھائی تھی وہیں رکھ دی نہ آیا آہ آنسو پونچھنا بھی غم کے ماروں کو نچوڑی بھی نہیں آنکھوں پہ یوں ہی آستیں رکھ دی دھوئیں کی چادریں کیسی وہ شعلے اب کہاں ہمدم ردائے صبر میں تہ کر کے آہ آتشیں رکھ دی نماز اہل الفت بے نیاز ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں آج آنسو پھر ڈبڈبا رہے ہیں

آنکھوں میں آج آنسو پھر ڈبڈبا رہے ہیں ہم کل کی آستینیں اب تک سکھا رہے ہیں احساں جتا جتا کر نشتر لگا رہے ہیں میری کہانیاں سب مجھ کو سنا رہے ہیں آنسو غم و خوشی کے جلوے دکھا رہے ہیں کچھ جگمگا رہے ہیں کچھ جھلملا رہے ہیں ساقی کے روٹھنے پر رندوں میں برہمی ہے ساغر سے آج ساغر ٹکرائے جا ...

مزید پڑھیے

مدد اے خیال ماضی ذرا آئنہ اٹھانا (ردیف .. ہ)

مدد اے خیال ماضی ذرا آئنہ اٹھانا میں بدل گیا ہوں خود ہی کہ بدل گیا زمانا مرے خالق گلستاں یہ سماں نہ پھر دکھانا کہ خود اپنی روشنی میں نظر آئے آشیانا یہ ہے جدت تخیل تو بھلا کہاں ٹھکانا ملیں بجلیوں کے تنکے تو بناؤں آشیانا یہ قفس قفس نہ رہتا نظر آتا آشیانا مرے بال و پر سے پہلے مرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 494 سے 4657