ذوق نمو کو منزل دوست میں آ کے بھول جا
ذوق نمو کو منزل دوست میں آ کے بھول جا اس طرح بے نیاز ہو سر کو جھکا کے بھول جا داغ فراق کے سوا حاصل عشق کچھ نہیں پردۂ جان و دل میں یہ شمع جلا کے بھول جا اس کے حریم ناز تک کوئی پہنچ سکا کہاں راہ گزار شوق کی خاک اڑا کے بھول جا حلقہ بگوش عشق ہو پھر نہ زوال ہے نہ موت پیک قضا پہ آخری تیر ...