شاعری

ذوق نمو کو منزل دوست میں آ کے بھول جا

ذوق نمو کو منزل دوست میں آ کے بھول جا اس طرح بے نیاز ہو سر کو جھکا کے بھول جا داغ فراق کے سوا حاصل عشق کچھ نہیں پردۂ جان و دل میں یہ شمع جلا کے بھول جا اس کے حریم ناز تک کوئی پہنچ سکا کہاں راہ گزار شوق کی خاک اڑا کے بھول جا حلقہ بگوش عشق ہو پھر نہ زوال ہے نہ موت پیک قضا پہ آخری تیر ...

مزید پڑھیے

گرم ہے عشق کا بازار چلو دیکھیں گے

گرم ہے عشق کا بازار چلو دیکھیں گے کون ہے اپنا خریدار چلو دیکھیں گے کون ہے قوم کا سردار چلو دیکھیں گے وہ بھی کس کا ہے طلب گار چلو دیکھیں گے سبز باغوں کی زیارت تو بہت اچھی ہے کون ہمدرد ہے سرکار چلو دیکھیں گے ہم نے کلیوں کو جہاں خون دیا تھا پہلے کس مصیبت میں ہے گلزار چلو دیکھیں ...

مزید پڑھیے

ہم حق پہ ہیں تو کہئے سر دار کون ہے

ہم حق پہ ہیں تو کہئے سر دار کون ہے احباب پارسا ہیں گناہ گار کون ہے تم ہی بتاؤ دوست وفادار کون ہے مشکل میں آج اپنا مددگار کون ہے پتھراؤ ہو رہا ہے مسلسل مکان پر اب کیا بتائیں ہم پس دیوار کون ہے سورج کو ساتھ لے کے بھی آئیں تو کیا ملے کمرے ہیں سب کے بند پرستار کون ہے انجمؔ ہمارے پاس ...

مزید پڑھیے

کوئی پیاسا نہ رہے آج وہ کہہ کر نکلا

کوئی پیاسا نہ رہے آج وہ کہہ کر نکلا ابر بن کر مری بستی سے سمندر نکلا لوگ بادل کی طرح راہ میں آئے ورنہ میں تو سورج کی طرح گھر سے برابر نکلا جس نے چومے تھے مرے پاؤں بڑے پیار کے ساتھ خواب ٹوٹا تو وہی آگ کا بستر نکلا عمر بھر ریت کے ساگر میں چلائی کشتی اور ڈوبا تو خلاؤں کے بھی اوپر ...

مزید پڑھیے

رہین بیم ہستی ہے دل دیوانہ برسوں سے

رہین بیم ہستی ہے دل دیوانہ برسوں سے ہوا کی زد میں ہے اپنا چراغ خانہ برسوں سے خوشا اے جوش حسرت اشک بھر آئے ہیں آنکھوں میں ترستا تھا چراغاں کو مرا کاشانہ برسوں سے یہ حسن و عشق افکار ازل کی یادگاریں ہیں زبان دہر دہراتی ہے یہ افسانہ برسوں سے جنون عشق کو معراج پر پہنچا دیا ہم نے ہے ...

مزید پڑھیے

بہتے پانی کی طرح موج صدا کی صورت

بہتے پانی کی طرح موج صدا کی صورت سوئے منزل ہیں رواں لوگ ہوا کی صورت جادۂ زیست پہ انسان کے آگے پیچھے حادثے گھومتے رہتے ہیں قضا کی صورت درد کو دل کے مٹانے کے لئے میں اب تو روز لیتا ہوں ترا نام دوا کی صورت یاد رکھ دہر کی دیوار کے ہٹنے پر ہی دیکھ سکتی ہے کوئی آنکھ خدا کی صورت حشر کے ...

مزید پڑھیے

کبھی جدا دو بدن ہوئے تو دلوں پہ یہ دو عذاب اترے

کبھی جدا دو بدن ہوئے تو دلوں پہ یہ دو عذاب اترے بچھڑنے والے کی یاد آئی ملن کے آنکھوں میں خواب اترے بڑھی ہے فکر معاش جب سے مرے خیالوں کی وادیوں میں نہ اس کے چہرے کا چاند ابھرا نہ عارضوں کے گلاب اترے الجھ گیا زندگی کے کانٹے میں اتفاقاً ہمارا دامن زمیں کے گولے پہ سیر کرنے کو ہم جو ...

مزید پڑھیے

انساں ہوس کے روگ کا مارا ہے ان دنوں

انساں ہوس کے روگ کا مارا ہے ان دنوں بے لوث ربط کس کو گوارا ہے ان دنوں دل اب مرا دماغ کے تابع ہے اس لئے جینا ترے بغیر گوارا ہے ان دنوں محرومیوں کو مان کے تقدیر کا لکھا دل سے غموں کا بوجھ اتارا ہے ان دنوں موزوں ہے وقت آمد طوفان کے لئے کشتی سے میری دور کنارا ہے ان دنوں کوچے میں ...

مزید پڑھیے

رہبر جادۂ منزل پہ ہنسی آتی ہے

رہبر جادۂ منزل پہ ہنسی آتی ہے لڑکھڑاتے ہوئے اس دل پہ ہنسی آتی ہے حسرت قربت منزل پہ ہنسی آتی ہے اب تو دیوانگئ دل پہ ہنسی آتی ہے یاد کر کے تری صورت تری باتیں اکثر یوں تڑپتا ہے کہ اس دل پہ ہنسی آتی ہے عمر گم کر کے فراہم کیا سامان‌‌ حیات اب مجھے زیست کے حاصل پہ ہنسی آتی ہے قلزم غم ...

مزید پڑھیے

اب خزاں آئے یا بہار آئے

اب خزاں آئے یا بہار آئے کوئی موسم تو سازگار آئے ہم نے ہاری تھی عشق کی بازی لوگ تو حوصلے بھی ہار آئے رکھ کے اس در پہ سر اٹھاتے کیا آج یہ بوجھ بھی اتار آئے اب وہ لمحے ہیں راستوں کے چراغ تیری دھن میں جو ہم گزار آئے ہے یہ شعلہ تو کوئی بات نہیں دل اگر ہے تو پھر قرار آئے سوزؔ پل پل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 491 سے 4657