کرم فرما تری یادوں کے لشکر ٹوٹ جاتے ہیں
کرم فرما تری یادوں کے لشکر ٹوٹ جاتے ہیں نگاہوں میں جو رہتے ہیں وہ منظر ٹوٹ جاتے ہیں خوشی کو بانٹنے والے بھی اکثر ٹوٹ جاتے ہیں حدود ضبط سے آگے سمندر ٹوٹ جاتے ہیں اگر خاموش رہتے ہیں تو دل پر بوجھ رہتا ہے اگر ہم بولتے ہیں کچھ تو کہہ کر ٹوٹ جاتے ہیں محبت ہو تو رشتے اور بھی مضبوط ہو ...