شاعری

رسم مہر و وفا کی بات کریں

رسم مہر و وفا کی بات کریں پھر کسی دل ربا کی بات کریں سخت بیگانۂ حیات ہے دل آؤ اس آشنا کی بات کریں زلف و رخسار کے تصور میں حسن و ناز و ادا کی بات کریں گیسوؤں کے فسانے دہرائیں اپنے بخت رسا کی بات کریں مدعائے وفا کسے معلوم دل بے مدعا کی بات کریں کشتئ دل کا ناخدا دل ہے کیوں کسی ...

مزید پڑھیے

یہ آج آئے ہیں کس اجنبی سے دیس میں ہم (ردیف .. ے)

یہ آج آئے ہیں کس اجنبی سے دیس میں ہم تڑپ گئی ہے نظر چشم آشنا کے لئے وہ ہاتھ جن سے تھا کل چاک دامن افلاک وہ ہاتھ آج اٹھانے پڑے دعا کے لئے یہ میں نے مانا جدائی مرا مقدر ہے مگر یہ بات نہ منہ سے کہو خدا کے لئے یہ راہرو تھے کبھی راہ زندگی کا سراغ یہ راہرو کہ بھٹکتے ہیں رہنما کے لئے

مزید پڑھیے

نظر کو حال دل کا ترجماں کہنا ہی پڑتا ہے

نظر کو حال دل کا ترجماں کہنا ہی پڑتا ہے خموشی کو بھی اک طرز بیاں کہنا ہی پڑتا ہے جہاں ہر گام پر سجدے ٹپکتے ہیں جبینوں سے وہاں ہر نقش پا آستاں کہنا ہی پڑتا ہے جہاں لب کوشش اظہار‌ مطلب کو ترستے ہیں وہاں ہر سانس کو اک داستاں کہنا ہی پڑتا ہے اگر قلب و نظر میں وسعتیں ہوں تیرے جلووں ...

مزید پڑھیے

اگرچہ آنکھ بہت شوخیوں کی زد میں رہی

اگرچہ آنکھ بہت شوخیوں کی زد میں رہی مری نگاہ ہمیشہ ادب کی حد میں رہی سمجھ سکا نہ کوئی زندگی کی ارزش کو یہ جنس خاص ترازوئے نیک و بد میں رہی بہت بلند ہوا تمکنت سے تاج شہی کلاہ فقر مگر نازش نمد میں رہی ہمیشہ درد سے عاری رہا یہ زاہد خشک یہ نعش زندہ سدا گوشۂ لحد میں رہی دلوں میں ...

مزید پڑھیے

مٹی مٹی ہوئی یادوں کے داغ کیا جلتے؟

مٹی مٹی ہوئی یادوں کے داغ کیا جلتے؟ نہ تھی شراب میں گرمی ایاغ کیا جلتے؟ فسردہ ہو گئے صحن چمن کے پروانے ملا نہ آتش گل کا سراغ کیا جلتے؟ دبے دبے رہے سینے میں آرزو کے داغ تمہارے حسن کے آگے چراغ کیا جلتے؟ بہار میں بھی جگر سوزئ بہار نہ تھی یہ کوہ و دشت و چمن باغ و راغ کیا جلتے؟ جلن ...

مزید پڑھیے

کیا ہوا جو ستارے چمکتے نہیں داغ دل کے فروزاں کرو دوستو

کیا ہوا جو ستارے چمکتے نہیں داغ دل کے فروزاں کرو دوستو صبح عشرت پریشاں ہوئی سو ہوئی شام غم تو نہ ویراں کرو دوستو نا شناساؤں کی طرفہ غم خواریاں غم کے ماروں کا سب سے بڑا روگ ہے دور الفت کی چارہ گری ہو نہ ہو پہلے اس دکھ کا درماں کرو دوستو تلملاتی رہیں ہجر کی کلفتیں جام و مینا کی سر ...

مزید پڑھیے

کس نے غم کے جال بکھیرے

کس نے غم کے جال بکھیرے صبح اندھیرے شام سویرے اس دنیا میں کام نہ آئے آنسو تیرے آنسو میرے رات کی کیفیت یاد آئی شام ہوئی ہے صبح سویرے حسن کا دامن پھر بھی خالی عشق نے لاکھوں اشک بکھیرے مجھ کو دنیا سے کیا مطلب دل بھی میرا تم بھی میرے رنگیں رنگیں عشق کی راہیں منزل منزل حسن کے ...

مزید پڑھیے

جان دے کر وفا میں نام کیا

جان دے کر وفا میں نام کیا زندگی بھر میں ایک کام کیا بے نقاب آ گیا سر محفل یار نے آج قتل عام کیا آسماں بھی اسے ستا نہ سکا تو نے جس دل کو شاد کام کیا عشق بازی تھا کام رندوں کا تو نے اس خاص شے کو عام کیا اب کے یونہی گزر گئی برسات ہم نے خالی نہ ایک جام کیا

مزید پڑھیے

اٹھی ہے جو قدموں سے وہ دامن سے اڑی ہے

اٹھی ہے جو قدموں سے وہ دامن سے اڑی ہے کیا کیا نگہ شوق پہ زنجیر پڑی ہے وہ یاس کا عالم ہے کہ ہر ایک نظر پر محسوس یہ ہوتا ہے جدائی کی گھڑی ہے یوں دیکھیے تو مرحلۂ شوق ہے یک گام چلیے تو یہی ایک قدم راہ کڑی ہے ہر ایک قدم پر ہے کسی یاد کا سایہ ہر راہ گزر میں کوئی دیوار کھڑی ہے ہر غنچے کے ...

مزید پڑھیے

ایسے بھی تھے کچھ حالات

ایسے بھی تھے کچھ حالات دل سے چھپائی دل کی بات ہر اک نے اک بات کہی کوئی نہ سمجھا دل کی بات شام و سحر کا نام نہ تھا ایسے بھی دیکھے دن اور رات عشق کی بازی کیا کہیے سوچ سمجھ کر کھائی مات دل کے ہاتھوں ہم مجبور دل کی لاج پرائے ہات حسن کے تیور کیا کہنے ہر لحظہ اک تازہ بات اشکوں کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 484 سے 4657