اک عمر ہوئی اور میں اپنے سے جدا ہوں
اک عمر ہوئی اور میں اپنے سے جدا ہوں خوشبو کی طرح خود کو سدا ڈھونڈ رہا ہوں ہر لمحہ تری یاد کے سائے میں کٹا ہے تھک تھک کے ہر اک گام پہ جب بیٹھ گیا ہوں تو لاکھ جدا مجھ سے رہے پاس ہے میرے تو گنبد ہستی ہے تو میں اس کی صدا ہوں ہر سانس تری باد سحر کا کوئی جھونکا میں پھول نہیں اور ترے رستے ...