شاعری

اک عمر ہوئی اور میں اپنے سے جدا ہوں

اک عمر ہوئی اور میں اپنے سے جدا ہوں خوشبو کی طرح خود کو سدا ڈھونڈ رہا ہوں ہر لمحہ تری یاد کے سائے میں کٹا ہے تھک تھک کے ہر اک گام پہ جب بیٹھ گیا ہوں تو لاکھ جدا مجھ سے رہے پاس ہے میرے تو گنبد ہستی ہے تو میں اس کی صدا ہوں ہر سانس تری باد سحر کا کوئی جھونکا میں پھول نہیں اور ترے رستے ...

مزید پڑھیے

ہر ادا تند اور نبات اس کی

ہر ادا تند اور نبات اس کی دل میں کھبتی ہے بات بات اس کی جان دی جس نے تیرے قدموں میں ہو گئی موت بھی حیات اس کی دل مرحوم کا تو ذکر ہی کیا تم تھے لے دے کے کائنات اس کی مر گیا دل وفا کے دھوکے میں نہ سنی تم نے واردات اس کی نہ گیا شیخ کا جنون‌ بہشت نہ ہوئی مر کے بھی نجات اس کی ذرہ جو ...

مزید پڑھیے

درد تھا حشر بھی ہزار اٹھے

درد تھا حشر بھی ہزار اٹھے سچ نہ بولیں تو رسم دار اٹھے اے غم عشق تجھ سے ہار گئے جان دے کر بھی شرمسار اٹھے جانے کس درد کے تعلق سے رات دشمن کو ہم پکار اٹھے اب تو اس زلف کی گھٹا چھا جائے دل سے کب تک یوں ہی غبار اٹھے

مزید پڑھیے

شعاع مہر کی شبنم سے بن نہیں سکتی

شعاع مہر کی شبنم سے بن نہیں سکتی غم جہاں کی ترے غم سے بن نہیں سکتی یہ فیصلہ ہے ہمارا ترے لئے صیاد چمن میں رہ کے تری ہم سے بن نہیں سکتی حیات جہد‌ و عمل سے ہے ورنہ موت اچھی حیات گریۂ ماتم سے بن نہیں سکتی ہزار کچھ ہو مگر زاہدوں کی جنت میں یہ تجربہ ہے کہ آدم سے بن نہیں سکتی

مزید پڑھیے

شعور تشنگی کو عام کر دو

شعور تشنگی کو عام کر دو میں کب کہتا ہوں میرا جام بھر دو زر گل بانٹ دو اہل چمن میں ہر ایک صحرا ہمارے نام کر دو نہ میں یوسف نہ تم کوئی زلیخا جہاں چاہو مجھے نیلام کر دو وہ میرے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں حریم حسن کے ناکام پردو تم اتنا حسن آخر کیا کرو گے ارے کچھ تو خدا کے نام پر دو

مزید پڑھیے

دل تیری نظر کی شہہ پا کر ملنے کے بہانے ڈھونڈھے ہے

دل تیری نظر کی شہہ پا کر ملنے کے بہانے ڈھونڈھے ہے گیتوں کی فضائیں مانگے ہے غزلوں کے زمانے ڈھونڈھے ہے آنکھوں میں لیے شبنم کی چمک سینہ میں لیے دوری کی کسک وہ آج ہمارے پاس آ کر کچھ زخم پرانے ڈھونڈھے ہے کیا بات ہے تیری باتوں کی لہجہ ہے کہ ہے جادو کوئی ہر آن فضا میں دل اڑ کر تاروں کے ...

مزید پڑھیے

ہر درد سے باندھے ہوئے رشتہ کوئی گزرے

ہر درد سے باندھے ہوئے رشتہ کوئی گزرے قاتل کوئی گزرے نہ مسیحا کوئی گزرے آئینہ بہ ہر راہ گزر بن گئیں آنکھیں اک عمر سے بیٹھے ہیں کہ تم سا کوئی گزرے وہ تشنگیٔ جاں ہے کہ صحرا کو ترس آئے اب ہونٹوں کو چھوتا ہوا دریا کوئی گزرے ان سے بھی علاج غم پنہاں نہیں ہوگا کہہ دیں جو اگر ان کا شناسا ...

مزید پڑھیے

گھر میں ترے پیغام کو ترسیں

گھر میں ترے پیغام کو ترسیں باہر جلوۂ بام کو ترسیں تم سورج اور چاند سے کھیلو ہم کہ چراغ شام کو ترسیں تم کہ شکست جام کے عادی ہم کہ شکستہ جام کو ترسیں اور ابھی کچھ رات ہے باقی اور ابھی آرام کو ترسیں آج ہزاروں کام ہیں باقی پھر بھی ہزاروں کام کو ترسیں آزادی کے اونچے سورج گلیاں ...

مزید پڑھیے

دشت تنہائی بادل ہوا اور میں

دشت تنہائی بادل ہوا اور میں روز و شب کا یہی سلسلا اور میں اجنبی راستوں پر بھٹکتے رہے آرزوؤں کا اک قافلا اور میں دونوں ان کی توجہ کے حق دار ہیں مجھ پہ گزرا تھا جو سانحا اور میں سیکڑوں غم مرے ساتھ چلتے رہے جس کو چھوڑا اسی نے کہا اور میں روشنی آگہی اور زندہ دلی ان حریفوں سے تھا ...

مزید پڑھیے

یادوں کی قندیل جلانا کتنا اچھا لگتا ہے

یادوں کی قندیل جلانا کتنا اچھا لگتا ہے خوابوں کو پلکوں پہ سجانا کتنا اچھا لگتا ہے تیری طلب میں پتھر کھانا کتنا اچھا لگتا ہے خود بھی رونا سب کو رلانا کتنا اچھا لگتا ہے ہم کو خبر ہے شہر میں اس کے سنگ ملامت ملتے ہیں پھر بھی اس کے شہر میں جانا کتنا اچھا لگتا ہے جرم محبت کی تاریخیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 458 سے 4657