سوئے ہوئے پلنگ کے سائے جگا گیا
سوئے ہوئے پلنگ کے سائے جگا گیا کھڑکی کھلی تو آسماں کمرے میں آ گیا آنگن میں تیری یاد کا جھونکا جو آ گیا تنہائی کے درخت سے پتے اڑا گیا ہنستے چمکتے خواب کے چہرے بھی مٹ گئے بتی جلی تو من میں اندھیرا سا چھا گیا آیا تھا کالے خون کا سیلاب پچھلی رات برسوں پرانی جسم کی دیوار ڈھا ...