شاعری

سوئے ہوئے پلنگ کے سائے جگا گیا

سوئے ہوئے پلنگ کے سائے جگا گیا کھڑکی کھلی تو آسماں کمرے میں آ گیا آنگن میں تیری یاد کا جھونکا جو آ گیا تنہائی کے درخت سے پتے اڑا گیا ہنستے چمکتے خواب کے چہرے بھی مٹ گئے بتی جلی تو من میں اندھیرا سا چھا گیا آیا تھا کالے خون کا سیلاب پچھلی رات برسوں پرانی جسم کی دیوار ڈھا ...

مزید پڑھیے

ہونے کو یوں تو شہر میں اپنا مکان تھا

ہونے کو یوں تو شہر میں اپنا مکان تھا نفرت کا ریگزار مگر درمیان تھا لمحے کے ٹوٹنے کی صدا سن رہا تھا میں جھپکی جو آنکھ سر پہ نیا آسمان تھا کہنے کو ہاتھ باندھے کھڑے تھے نماز میں پوچھو تو دوسری ہی طرف اپنا دھیان تھا اللہ جانے کس پہ اکڑتا تھا رات دن کچھ بھی نہیں تھا پھر بھی بڑا بد ...

مزید پڑھیے

ایک قطرہ اشک کا چھلکا تو دریا کر دیا

ایک قطرہ اشک کا چھلکا تو دریا کر دیا ایک مشت خاک جو بکھری تو صحرا کر دیا میرے ٹوٹے حوصلے کے پر نکلتے دیکھ کر اس نے دیواروں کو اپنی اور اونچا کر دیا واردات قلب لکھی ہم نے فرضی نام سے اور ہاتھوں ہاتھ اس کو خود ہی لے جا کر دیا اس کی ناراضی کا سورج جب سوا نیزے پہ تھا اپنے حرف عجز ہی ...

مزید پڑھیے

مجھے پسند نہیں ایسے کاروبار میں ہوں

مجھے پسند نہیں ایسے کاروبار میں ہوں یہ جبر ہے کہ میں خود اپنے اختیار میں ہوں حدود وقت سے باہر عجب حصار میں ہوں میں ایک لمحہ ہوں صدیوں کے انتظار میں ہوں ابھی نہ کر مری تشکیل مجھ کو نام نہ دے ترے وجود سے باہر میں کس شمار میں ہوں میں ایک ذرہ مری حیثیت ہی کیا ہے مگر ہوا کے ساتھ ہوں ...

مزید پڑھیے

کون تھا وہ خواب کے ملبوس میں لپٹا ہوا (ردیف .. ہ)

کون تھا وہ خواب کے ملبوس میں لپٹا ہوا رات کے گنبد سے ٹکرا کر پلٹ آئی صدا میں تو تھا بکھرا ہوا ساحل کی پیلی ریت پر اور دریا میں تھا نیلا آسماں ڈوبا ہوا سوچ کی سوکھی ہوئی شاخوں سے مرجھائے ہوئے ٹوٹ کر گرتے ہوئے لفظوں کو میں چنتا رہا جب بھی خود کی کھوج میں نکلا ہوں اپنے جسم سے کالی ...

مزید پڑھیے

حج کا سفر ہے اس میں کوئی ساتھ بھی تو ہو

حج کا سفر ہے اس میں کوئی ساتھ بھی تو ہو پردہ نشیں سے اپنی ملاقات بھی تو ہو کب سے ٹہل رہے ہیں گریبان کھول کر خالی گھٹا کو کیا کریں برسات بھی تو ہو دن ہے کہ ڈھل نہیں رہا اس ریگ زار میں منزل بھلے نہ آئے کہیں رات بھی تو ہو مجموعہ چھاپنے تو چلے ہو میاں مگر اشعار میں تمہارے کوئی بات ...

مزید پڑھیے

گھوم رہا تھا ایک شخص رات کے خارزار میں

گھوم رہا تھا ایک شخص رات کے خارزار میں اس کا لہو بھی مر گیا صبح کے انتظار میں روح کی خشک پتیاں شاخ سے ٹوٹتی رہیں اور گھٹا برس گئی جسم کے ریگزار میں رنگ میں رنگ گھل گئے عکس کے شیشے دھل گئے قوس قزح پگھل گئی بھیگی ہوئی لگار میں ٹھنڈی سڑک تھی بے خبر گرم دنوں کے قہر سے دھوپ کو جھیلتے ...

مزید پڑھیے

چاروں طرف سے موت نے گھیرا ہے زیست کو

چاروں طرف سے موت نے گھیرا ہے زیست کو اور اس کے ساتھ حکم کہ اب زندگی کرو باہر گلی میں شور ہے برسات کا سنو کنڈی لگا کے آج تو گھر میں پڑے رہو چھوڑ آئے کس کی چھت پہ جواں سال چاند کو خاموش کس لیے ہو ستارو جواب دو کیوں چلتے چلتے رک گئے ویران راستو تنہا ہوں آج میں ذرا گھر تک تو ساتھ ...

مزید پڑھیے

جیتا ہے صرف تیرے لیے کون مر کے دیکھ

جیتا ہے صرف تیرے لیے کون مر کے دیکھ اک روز میری جان یہ حرکت بھی کر کے دیکھ منزل یہیں ہے آم کے پیڑوں کی چھاؤں میں اے شہسوار گھوڑے سے نیچے اتر کے دیکھ ٹوٹے پڑے ہیں کتنے اجالوں کے استخواں سایہ نما اندھیرے کے اندر اتر کے دیکھ پھولوں کی تنگ دامنی کا تذکرہ نہ کر خوشبو کی طرح موج صبا ...

مزید پڑھیے

بھول کر بھی نہ پھر ملے گا تو

بھول کر بھی نہ پھر ملے گا تو جانتا ہوں یہی کرے گا تو دیکھ آگے مہیب کھائی ہے لوٹ آ ورنہ گر پڑے گا تو دل کی تختی پہ نام ہے تیرا یاں نہیں تو کہاں رہے گا تو میرے آنگن میں ایک پودا ہے پھول بن کے مہک اٹھے گا تو راستے میں کئی دکانیں ہیں ہر دکاں پر دکھائی دے گا تو میں نے آنکھوں سے جیب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4494 سے 4657