حسرت دید رہی دید کا خواہاں ہو کر
حسرت دید رہی دید کا خواہاں ہو کر دل میں رہتے ہیں مگر رہتے ہیں ارماں ہو کر وہ مرے پاس ہیں احساس یہ ہوتا ہے ضرور اس قدر دور ہیں نزدیک رگ جاں ہو کر ہوش میں لانے کی تدبیر نہ کر اے ناصح میں نے پایا ہے انہیں چاک گریباں ہو کر خانۂ دل ہے تمہارا تمہیں رہ سکتے ہو غیر کو حق یہ نہیں ہے رہے ...