شاعری

حسرت دید رہی دید کا خواہاں ہو کر

حسرت دید رہی دید کا خواہاں ہو کر دل میں رہتے ہیں مگر رہتے ہیں ارماں ہو کر وہ مرے پاس ہیں احساس یہ ہوتا ہے ضرور اس قدر دور ہیں نزدیک رگ جاں ہو کر ہوش میں لانے کی تدبیر نہ کر اے ناصح میں نے پایا ہے انہیں چاک گریباں ہو کر خانۂ دل ہے تمہارا تمہیں رہ سکتے ہو غیر کو حق یہ نہیں ہے رہے ...

مزید پڑھیے

آگے وہ جا بھی چکے لطف نظارہ بھی گیا

آگے وہ جا بھی چکے لطف نظارہ بھی گیا چشم غفلت نہ کھلی صبح کا تارا بھی گیا سرد مہری سے تری گرمئ الفت نہ رہی دل میں اٹھتا تھا جو ہر دم وہ شرارہ بھی گیا دل کے آئینے میں جب آپ کی صورت دیکھی جس کو دھوکا میں سمجھتا تھا وہ دھوکا بھی گیا عشق کو تاب تجلی نہیں کیا دیکھے گا حسن یہ جان کے ...

مزید پڑھیے

سانس کی آنچ ذرا تیز کرو

سانس کی آنچ ذرا تیز کرو کانچ کا جسم پگھل جانے دو لام خالی ہے اسے مت چھیڑو نون کے پیٹ میں نقطہ دیکھو رات کے پردے الٹتے جاؤ چاند کا جسم برہنہ بھی ہو سر اٹھاؤ نہ کنار دریا موج کو سر سے گزر جانے دو خودبخود شاخ لچک جائے گی پھل سے بھرپور تو ہو لینے دو آنکھ کھلتے ہی یہ آواز آئی چور ...

مزید پڑھیے

پہلو کے آر پار گزرتا ہوا سا ہو

پہلو کے آر پار گزرتا ہوا سا ہو اک شخص آئنے میں اترتا ہوا سا ہو جیتا ہوا سا ہو کبھی مرتا ہوا سا ہو اک شہر اپنے آپ سے ڈرتا ہوا سا ہو سارے کبیرہ آپ ہی کرتا ہوا سا ہو الزام دوسرے ہی پہ دھرتا ہوا سا ہو ہر اک نیا خیال جو ٹپکے ہے ذہن سے یوں لگ رہا ہے جیسے کہ برتا ہوا سا ہو قیلولہ کر رہے ...

مزید پڑھیے

دروازہ بند دیکھ کے میرے مکان کا

دروازہ بند دیکھ کے میرے مکان کا جھونکا ہوا کا کھڑکی کے پردے ہلا گیا وہ جان نو بہار جدھر سے گزر گیا پیڑوں نے پھول پتوں سے رستہ چھپا لیا اس کے قریب جانے کا انجام یہ ہوا میں اپنے آپ سے بھی بہت دور جا پڑا انگڑائی لے رہی تھی گلستاں میں جب بہار ہر پھول اپنے رنگ کی آتش میں جل ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی روک سکا خواب کے سفیروں کو

نہ کوئی روک سکا خواب کے سفیروں کو اداس کر گئے نیندوں کے راہگیروں کو وہ موج بن کے اٹھی یاد کے سمندر سے تباہ کر گئی تنہائی کے جزیروں کو لرز کے ٹوٹ گئیں ہفت رنگ دیواریں ہوا چلی تو رہائی ملی اسیروں کو دفینے پاؤں تلے سے گزر گئے کتنے میں دیکھتا ہی رہا ہاتھ میں لکیروں کو

مزید پڑھیے

وسعت دامن صحرا دیکھوں

وسعت دامن صحرا دیکھوں اپنی آواز کو پھیلا دیکھوں ہاتھ میں چاند کو پگھلا دیکھوں خواب دیکھوں کہ خرابہ دیکھوں سطح پر عکس کو بہتا دیکھوں دریا دریا ترا سایہ دیکھوں خود کو دیکھوں ترا چہرہ دیکھوں آئینہ توڑ دوں پھر کیا دیکھوں اپنے سائے کو برہنہ پاؤں ساتھ رسوائی کو ہنستا ...

مزید پڑھیے

بدن پر نئی فصل آنے لگی

بدن پر نئی فصل آنے لگی ہوا دل میں خواہش جگانے لگی کوئی خودکشی کی طرف چل دیا اداسی کی محنت ٹھکانے لگی جو چپ چاپ رہتی تھی دیوار پر وہ تصویر باتیں بنانے لگی خیالوں کے تاریک کھنڈرات میں خموشی غزل گنگنانے لگی ذرا دیر بیٹھے تھے تنہائی میں تری یاد آنکھیں دکھانے لگی

مزید پڑھیے

عاشق تھے شہر میں جو پرانے شراب کے

عاشق تھے شہر میں جو پرانے شراب کے ہیں ان کے دل میں وسوسے اب احتساب کے وہ جو تمہارے ہاتھ سے آ کر نکل گیا ہم بھی قتیل ہیں اسی خانہ خراب کے پھولوں کی سیج پر ذرا آرام کیا کیا اس گلبدن پہ نقش اٹھ آئے گلاب کے سوئے تو دل میں ایک جہاں جاگنے لگا جاگے تو اپنی آنکھ میں جالے تھے خواب کے بس ...

مزید پڑھیے

پھیلے ہوئے ہیں شہر میں سائے نڈھال سے

پھیلے ہوئے ہیں شہر میں سائے نڈھال سے جائیں کہاں نکل کے خیالوں کے جال سے مشرق سے میرا راستہ مغرب کی سمت تھا اس کا سفر جنوب کی جانب شمال سے کیسا بھی تلخ ذکر ہو کیسی بھی ترش بات ان کی سمجھ میں آئے گی گل کی مثال سے چپ چاپ بیٹھے رہتے ہیں کچھ بولتے نہیں بچے بگڑ گئے ہیں بہت دیکھ بھال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4493 سے 4657