شاعری

جو بن سنور کے وہ اک ماہ رو نکلتا ہے

جو بن سنور کے وہ اک ماہ رو نکلتا ہے تو ہر زبان سے بس اللہ ہو نکلتا ہے حلال رزق کا مطلب کسان سے پوچھو پسینہ بن کے بدن سے لہو نکلتا ہے زمین اور مقدر کی ایک ہے فطرت کہ جو بھی بویا وہی ہو بہو نکلتا ہے یہ چاند رات ہی دیدار کا وسیلہ ہے بروز عید ہی وہ خوبرو نکلتا ہے ترے بغیر گلستاں کو ...

مزید پڑھیے

میری وحشت کا نظارہ نہیں ہوتا مجھ سے

میری وحشت کا نظارہ نہیں ہوتا مجھ سے اپنا ہونا بھی گوارہ نہیں ہوتا مجھ سے میں جو یہ معجزۂ عشق لیے پھرتا ہوں ایک جگنو بھی ستارہ نہیں ہوتا مجھ سے گھیر رکھا ہے مجھے چاروں طرف سے اس نے اس تعلق سے کنارہ نہیں ہوتا مجھ سے میں ہوں دہلیز پہ رکھے ہوئے پتھر کی طرح اب محبت میں گزارہ نہیں ...

مزید پڑھیے

سمٹے ہیں خود میں ایسے کہ وسعت نہیں رہی

سمٹے ہیں خود میں ایسے کہ وسعت نہیں رہی تسخیر کائنات کی ہمت نہیں رہی اب کے خزاں کے خوف سے پتے نہیں جھڑے شاید ہوا کے دل میں کدورت نہیں رہی میں نے کہا کہ کوئی ہو خدمت مرے حضور اس نے کہا کہ تیری ضرورت نہیں رہی جکڑا ہوا ہوں وقت کی آکاس بیل میں اس کرب سے فرار کی صورت نہیں رہی چہروں کی ...

مزید پڑھیے

دیا روشن ہے لیکن تیرگی کا رقص جاری ہے

دیا روشن ہے لیکن تیرگی کا رقص جاری ہے خرد حیرت زدہ ہے بے بسی کا رقص جاری ہے تصور آئینہ خانہ ہے ہر تصویر افسردہ بکھرتی کرچیوں میں زندگی کا رقص جاری ہے مسخر کر لیا انساں نے عجلت میں ستاروں کو محبت مر رہی ہے آگہی کا رقص جاری ہے جو کہنا تھا نہیں کہتے جو کہتے ہیں وہ بے معنی کہی ہے ان ...

مزید پڑھیے

موج در موج ہواؤں سے بچا لاؤں گا

موج در موج ہواؤں سے بچا لاؤں گا خود کو میں دشت کے پنجوں سے چھڑا لاؤں گا حوصلہ رکھئے میں صحرا سے پلٹ آؤں گا ذرے ذرے سے محبت کا پتہ لاؤں گا میرے ہاتھوں کی لکیروں میں جو ہیں الجھے ہوئے ان ہی گیسو کے لیے پھول بچا لاؤں گا تیرے ماتھے پہ چمکتے ہوئے رنگوں کی قسم ترے ہونٹوں پہ ترنم کی ...

مزید پڑھیے

کشتیوں سے اتر نہ جائیں کہیں

کشتیوں سے اتر نہ جائیں کہیں لوگ طوفان سے ڈر نہ جائیں کہیں زندگی ہے کہ آگ کا دریا شدت غم سے مر نہ جائیں کہیں جن کو ظلمت نے باندھ رکھا ہے چاندنی میں بکھر نہ جائیں کہیں روک اشکوں کو اب سر مژگاں یہ بھی حد سے گزر نہ جائیں کہیں آؤ لکھ لیں لہو سے عہد وفا قول سے ہم مکر نہ جائیں کہیں ان ...

مزید پڑھیے

اے دوست تری بات سحر خیز بہت ہے

اے دوست تری بات سحر خیز بہت ہے پر طرز تکلم ترا خوں ریز بہت ہے گم صم سا کھڑا ہے کوئی دروازۂ دل پر اس شام کا منظر تو دل آویز بہت ہے محفل میں ترے ہونے سے ہے رنگ پہ موسم احوال خاص و عام طرب خیز بہت ہے اک شخص جو الجھا ہے نئی فکر و نظر میں وہ صاحب خوش فہم ہے اور تیز بہت ہے جو بات تو کہتا ...

مزید پڑھیے

جب اپنا سایہ ہی دشمن ہے کیا کیا جائے

جب اپنا سایہ ہی دشمن ہے کیا کیا جائے یہی تو ذہن کی الجھن ہے کیا کیا جائے ہیں جس کے ہاتھ میں ذرے بھی ماہ و انجم بھی اسی کے ہاتھ میں دامن ہے کیا کیا جائے اداس بام پہ موسم نے کھول دیں زلفیں کسی بیوگ میں جوگن ہے کیا کیا جائے وہ شام لطف و طرب اور چاندنی سا بدن اسی خمار میں ناگن ہے کیا ...

مزید پڑھیے

ٹھوکر سے فقیروں کی دنیا کا بکھر جانا

ٹھوکر سے فقیروں کی دنیا کا بکھر جانا خواہش کا لرز جانا اسباب کا ڈر جانا آکاش کے ماتھے پہ جادو کا سبب یہ ہے تاروں کا چمک جانا چندا کا نکھر جانا آ تجھ کو بتا دوں میں اچھی سی غزل کیا ہے افکار کے سانچے میں لفظوں کا اتر جانا اقرار محبت کی نازک سی دلیلیں ہیں آنکھوں میں چمک آنا زلفوں ...

مزید پڑھیے

عطار کے مسکن میں یہ کیسی اداسی ہے

عطار کے مسکن میں یہ کیسی اداسی ہے سونے کی مقابل میں ہر سمت ہی مٹی ہے تو صاحب قدرت ہے تو اپنا کرم رکھنا صحرا کی طرف مائل حالات کی کشتی ہے روشن ہے درخشاں ہے یہ دور بظاہر تو مزدور کے بس میں تو بس ریڑھ کی ہڈی ہے لمحوں کی تعاقب میں صدیوں کی دھروہر تھی افسوس کے دامن میں غربت کی یہ بستی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4479 سے 4657