شاعری

نگاہ کے لیے اک خواب بھی غنیمت ہے

نگاہ کے لیے اک خواب بھی غنیمت ہے وہ تیرگی ہے کہ یہ روشنی غنیمت ہے چلو کہیں پہ تعلق کی کوئی شکل تو ہو کسی کے دل میں کسی کی کمی غنیمت ہے کم و زیادہ پہ اصرار کیا کیا جائے ہمارے دور میں اتنی سی بھی غنیمت ہے بدل رہے ہیں زمانے کے رنگ کیا کیا دیکھ نظر اٹھا کہ یہ نظارگی غنیمت ہے نہ جانے ...

مزید پڑھیے

فصیل شہر تمنا میں در بناتے ہوئے

فصیل شہر تمنا میں در بناتے ہوئے یہ کون دل میں در آیا ہے گھر بناتے ہوئے نشیب چشم تماشا بنا گیا مجھ کو کہیں بلندی ایام پر بناتے ہوئے میں کیا کہوں کہ ابھی کوئی پیش رفت نہیں گزر رہا ہوں ابھی رہ گزر بناتے ہوئے کسے خبر ہے کہ کتنے نجوم ٹوٹ گرے شب سیاہ سے رنگ سحر بناتے ہوئے پتے کی بات ...

مزید پڑھیے

میں سوچتا ہوں اگر اس طرف وہ آ جاتا

میں سوچتا ہوں اگر اس طرف وہ آ جاتا چراغ عمر کی لو اک ذرا بڑھا جاتا عجیب بھول بھلیاں ہے راستہ دل کا یہاں تو خضر بھی ہوتا تو ڈگمگا جاتا سو اپنے ہاتھ سے دیں بھی گیا ہے دنیا بھی کہ اک سرے کو پکڑتے تو دوسرا جاتا مگر نہیں ہے وہ مصروف ناز اتنا بھی کبھی کبھی تو کوئی رابطہ کیا جاتا کبھی ...

مزید پڑھیے

برسوں کے جیسے لمحوں میں یہ رات گزرتی جائے گی

برسوں کے جیسے لمحوں میں یہ رات گزرتی جائے گی تم سامنے آئے گر دل کی دھڑکن بھی ٹھہر ہی جائے گی پردے میں رہوں آنکھیں میری بیتاب تو ہیں پر تاب نہیں بے تابئ دل لمحاتی ہے حالت یہ سنبھالی جائے گی آئینۂ دل شفاف تو ہو ہم کو بھی سنورنا لازم ہے ہم کو بھی پتہ ہے ملنے پر چہرے کی بحالی جائے ...

مزید پڑھیے

اے بلبل خوش لحن یہ شیریں سخنی دیکھ

اے بلبل خوش لحن یہ شیریں سخنی دیکھ صد رنگ قبا دیکھ مری گل بدنی دیکھ ہر موج صبا پر بھی لچک جائے ہے اے ہے اے شاخ گل اندام یہ گل ریز تنی دیکھ دل کوفہ کی مانند ہوا جاتا ہے یا رب اے منبۂ رحمت ز نگاہ مدنی دیکھ واقف ہی نہیں تو مری تاریخ سے ناقد اک بار پلٹ کر کبھی خلق حسنی دیکھ دل لگتا ...

مزید پڑھیے

ترے شہر امن کا کیا کہیں کہ ہر اک مکان جدا سا ہے

ترے شہر امن کا کیا کہیں کہ ہر اک مکان جدا سا ہے ہیں دروں پہ قفل لگے ہوئے سر طاق دیپ بجھا سا ہے ترا دشت بھی تو ہے بے کراں مری وحشتوں کی بھی حد نہیں مرے جرم خانہ خراب کو تو یہ رہ گزر بھی دلاسا ہے تری یاد آئی تو کس طرح میں پکارتا ہی چلا گیا کوئی دم رکا تو خبر ہوئی کہ یہ کوہ کوہ ندا سا ...

مزید پڑھیے

شب ڈھلی میری اور سحر نہ ہوئی

شب ڈھلی میری اور سحر نہ ہوئی حد ہوئی آپ کو خبر نہ ہوئی آپ کہتے تھے پر خطر جتنی سخت اتنی بھی رہ گزر نہ ہوئی رہ گیا درد دل کے پہلو میں یہ جو الفت تھی درد سر نہ ہوئی وقت آخر کھلا ہے یہ عقدہ بھولی صورت بھی بے ضرر نہ ہوئی کیا سے کیا کہہ رہے ہیں آپ سراجؔ آپ کی بات بارور نہ ہوئی

مزید پڑھیے

اس نے کیوں سب سے جدا میری پذیرائی کی

اس نے کیوں سب سے جدا میری پذیرائی کی مصلحت کوش تھی ہر بات شناسائی کی زخم دل ہم نے سجائے تو ادھر بھی اس نے ناز و انداز سے جاری ستم آرائی کی جسم ترشا ہوا سانچے میں ڈھلا ہے جیسے دست‌ آزر نے قسم کھائی ہو صناعی کی ایسا سیراب کیا اس نے کہ خود تشنہ لبی اک سند بن گئی تاریخ میں سقائی ...

مزید پڑھیے

آپ نے آج یہ محفل جو سجائی ہوئی ہے

آپ نے آج یہ محفل جو سجائی ہوئی ہے بات اس کی ہی فقط بزم میں چھائی ہوئی ہے اس قدر ناز نہ کیجے کہ بزرگوں نے بہت بارہا بزم خود آرائی سجائی ہوئی ہے اس قدر شور ہے کیوں سرخیٔ اخبار پہ آج جبکہ معلوم ہے ہر بات بنائی ہوئی ہے آج تو چین سے رونے دو مجھے گوشے میں ایک مدت پہ غم دل سے جدائی ہوئی ...

مزید پڑھیے

انداز‌ نمو کیسا المناک نکالا

انداز‌ نمو کیسا المناک نکالا پیوند‌ بدن میرا سر خاک نکالا اس نے دل بے کیف کو بیمار سمجھ کر درماں کے لئے نشتر سفاک نکالا امکان کی گودی کے پلے ذہن رسا نے اک سبزہ میان خس و خاشاک نکالا صحرا کی تپش پیاس کی شدت تھی کہ اس نے بھولا ہوا اک قصۂ نمناک نکالا افسوس سلاطین چکا پائے نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4473 سے 4657