گر پڑا تو آخری زینے کو چھو کر کس لیے
گر پڑا تو آخری زینے کو چھو کر کس لیے آ گیا پھر آسمانوں سے زمیں پر کس لیے آئینہ خانوں میں چھپ کر رہنے والے اور ہیں تم نے ہاتھوں میں اٹھا رکھے ہیں پتھر کس لیے میں نے اپنی ہر مسرت دوسروں کو بخش دی پھر یہ ہنگامہ بپا ہے گھر سے باہر کس لیے عکس پڑتے ہی مصور کا قلم تھرا گیا نقش اک آب رواں ...