شاعری

اگر بدلا کبھی رخ بے رخی کا

اگر بدلا کبھی رخ بے رخی کا تو آئے گا مزہ کچھ زندگی کا مجھے برباد کر کے ہنس رہے ہو لیا ہے تم نے یہ بدلا کبھی کا اسی امید پر غم سہ رہا ہوں کبھی تو آئے گا موقع خوشی کا مجھے دل سے بھلانا چاہتے ہو یہی ہے مدعا دامن کشی کا محبت میں گئی عزت تو کیا غم یہاں یہ حشر ہوتا ہے سبھی کا کبھی ہوگا ...

مزید پڑھیے

پیش آنے لگے ہیں نفرت سے

پیش آنے لگے ہیں نفرت سے بھر گیا ان کا دل محبت سے فائدہ یہ ہے تیری قربت سے خوب کٹتا ہے وقت راحت سے کام بنتے نہیں ہیں نفرت سے کام چلتے ہیں سب محبت سے ان کی خاطر مجھے جہاں والے دیکھتے ہیں بڑی حقارت سے زندگی میری اک مصیبت تھی مل گئے آپ مجھ کو قسمت سے ساری دنیا حریف ہے میری اک ذرا ...

مزید پڑھیے

آپ کے دل کو مرے دل سے کہیں پیار نہ ہو

آپ کے دل کو مرے دل سے کہیں پیار نہ ہو زندگی میری طرح آپ کی دشوار نہ ہو ماننے سے مری ڈر ہے انہیں انکار نہ ہو یہ مری عرض تمنا کہیں بیکار نہ ہو شوق سے ربط محبت کو بڑھائیں لیکن حد سے بڑھ کر یہ محبت کہیں آزار نہ ہو زندگی رشک کے قابل ہو محبت میں اگر دل کی ہر بات پہ اقرار ہو انکار نہ ...

مزید پڑھیے

بیاں ہو کس طرح سوز و الم کی داستاں میری

بیاں ہو کس طرح سوز و الم کی داستاں میری نہ ساتھی کوئی سنتا ہے نہ میر کارواں میری مرا شوق تکلم مجھ کو کس محفل میں لے آیا یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری زباں پر ثبت گر مہر ستم گر ہے تو کیا غم ہے کہ میری خامشی ہی بن رہی ہے اب زباں میری مجھے اے باغباں شکوہ ہو کیوں قید و سلاسل ...

مزید پڑھیے

جو شخص بھی ملا ہے وہ اک زندہ لاش ہے

جو شخص بھی ملا ہے وہ اک زندہ لاش ہے انساں کی داستان بڑی دل خراش ہے دامن دریدہ قلب و نظر زخم زخم ہیں اب شہر آرزو میں یہی بود و باش ہے بس اب تو رہ گئی ہے دکھاوے کی زندگی سانسوں کے تار تار میں ایک ارتعاش ہے مٹی نے پی لیا ہے حرارت بھرا لہو جوش نمو ملا تو بدن قاش قاش ہے کانٹوں نے بھی ...

مزید پڑھیے

کانچ کی زنجیر ٹوٹی تو صدا بھی آئے گی

کانچ کی زنجیر ٹوٹی تو صدا بھی آئے گی اور بھرے بازار میں تجھ کو حیا بھی آئے گی عطر میں کپڑے بسا کر مطمئن ہے کس لئے با وفا ہو جا کہ یوں بوئے وفا بھی آئے گی دیکھ لے ساحل سے جی بھر کے مچلتی لہر کو اس طرف کچھ دیر میں موج فنا بھی آئے گی دودھیا نازک گلے میں باندھ لے تعویذ کو آج سنتا ہوں ...

مزید پڑھیے

اس پیڑ کو چھوا تو ثمر دار ہو گیا

اس پیڑ کو چھوا تو ثمر دار ہو گیا پھر جانے کیا ہوا وہ شرر بار ہو گیا موسم کی بھول تھی کہ مری دسترس کی بات پتھر سے ایک پھول نمودار ہو گیا بکھرے ہوئے ہیں دل میں مری خواہشوں کے رنگ اب میں بھی اک سجا ہوا بازار ہو گیا اک بار میں بھی خواب میں بیٹھا تھا تخت پر آنکھیں کھلیں تو اور بھی ...

مزید پڑھیے

لوگ ہنسنے کے لیے روتے ہیں اکثر دہر میں

لوگ ہنسنے کے لیے روتے ہیں اکثر دہر میں تلخیاں خود ہی ملا لیتے ہیں میٹھے زہر میں پیار کے چشموں کا پانی جب سے کھارا ہو گیا ساری دنیا گھر گئی ہے نفرتوں کے قہر میں وقت کہتا ہے ابھرتے ڈوبتے چہروں کو دیکھ آج تو رونق بڑی ہے حادثوں کی نہر میں جانے یہ حدت چمن کو راس آئے یا نہیں آگ جیسی ...

مزید پڑھیے

میں فقط اس جرم میں دنیا میں رسوا ہو گیا

میں فقط اس جرم میں دنیا میں رسوا ہو گیا میں نے جس چہرے کو دیکھا تیرے جیسا ہو گیا چاند میں کیسے نظر آئے تری صورت مجھے آندھیوں سے آسماں کا رنگ میلا ہو گیا ایک میں ہی روشنی کے خواب کو ترسا نہیں آج تو سورج بھی جب نکلا تو اندھا ہو گیا یہ بھی شاید زندگی کی اک ادا ہے دوستو جس کو ساتھی ...

مزید پڑھیے

اپنے ماحول سے کچھ یوں بھی تو گھبرائے نہ تھے

اپنے ماحول سے کچھ یوں بھی تو گھبرائے نہ تھے سنگ لپٹے ہوئے پھولوں میں نظر آئے نہ تھے درد زنجیر کی صورت ہے دلوں میں موجود اس سے پہلے تو کبھی اس کے یہ پیرائے نہ تھے چند بکھرے ہوئے ریزوں کے سوا کچھ بھی نہیں سوچتے ہیں کہ چٹانوں سے بھی ٹکرائے نہ تھے تو نے خود روز ازل ہم سے پناہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4448 سے 4657