شاعری

چپ رہے تو شہر کی ہنگامہ آرائی ملی

چپ رہے تو شہر کی ہنگامہ آرائی ملی اب اگر کھولے تو ہم کو قید تنہائی ملی زندگی کی ظلمتیں اپنے لہو میں رچ گئیں تب کہیں جا کر ہمیں آنکھوں کی بینائی ملی موسم گل کی نئی تقسیم حیراں کر گئی زخم پھولوں کو ملے کانٹوں کو رعنائی ملی سطح دریا پر ابھرنے کی تمنا ہی نہیں عرش پر پہنچے ہوئے ہیں ...

مزید پڑھیے

میں اپنے دل میں نئی خواہشیں سجائے ہوئے

میں اپنے دل میں نئی خواہشیں سجائے ہوئے کھڑا ہوا ہوں ہوا میں قدم جمائے ہوئے نئے جہاں کی تمنا میں گھر سے نکلا ہوں ہتھیلیوں پہ نئی مشعلیں جلائے ہوئے ہوا کے پھول مہکنے لگے مجھے پا کر میں پہلی بار ہنسا زخم کو چھپائے ہوئے نہ آندھیاں ہیں نہ طوفاں نہ خون کے سیلاب ہیں خوشبوؤں میں ...

مزید پڑھیے

وہی جو حیا تھی نگار آتے آتے

وہی جو حیا تھی نگار آتے آتے بتا تو ہی اب ہے وہ پیار آتے آتے نہ مقتل میں چل سکتی تھی تیغ قاتل بھرے اتنے امیدوار آتے آتے گھٹی میری روز آنے جانے سے عزت یہاں آپ کھویا وقار آتے آتے جگہ دو تو میں اس میں تربت بنا لوں بھرا ہے جو دل میں غبار آتے آتے ابھی ہو یہ فتنہ تو کیا کچھ نہ ...

مزید پڑھیے

تمہارے ہجر میں کیوں زندگی نہ مشکل ہو

تمہارے ہجر میں کیوں زندگی نہ مشکل ہو تمہیں جگر ہو تمہیں جان ہو تمہیں دل ہو عجب نہیں کہ اگر آئینہ مقابل ہو تمہاری تیغ ادا خود تمہاری قاتل ہو نہ اختلاف مذاہب کے پھر پڑیں جھگڑے حجاب اپنی خودی کا اگر نہ حائل ہو تمہاری تیغ ادا کا فسانہ سنتا ہوں مجھے تو قتل کرو دیکھوں تو کیسے قاتل ...

مزید پڑھیے

نہ ہو یا رب ایسی طبیعت کسی کی

نہ ہو یا رب ایسی طبیعت کسی کی کہ ہنس ہنس کے دیکھے مصیبت کسی کی جفا ان سے مجھ سے وفا کیسے چھوٹے یہ سچ ہے نہیں چھٹتی عادت کسی کی اچھوتا جو غم ہو تو اس میں بھی خوش ہوں نہیں مجھ کو منظور شرکت کسی کی حسینوں کی دونوں ادائیں ہیں دلبر کسی کی حیا تو شرارت کسی کی مجھے گم شدہ دل کا غم ہے تو ...

مزید پڑھیے

فلک ان سے جو بڑھ کر بدچلن ہوتا تو کیا ہوتا

فلک ان سے جو بڑھ کر بدچلن ہوتا تو کیا ہوتا جواں سے پیش رو پیر کہن ہوتا تو کیا ہوتا مسلم دیکھ کر یعقوب مردہ سے ہوئے بدتر جو یوسف کا دریدہ پیرہن ہوتا تو کیا ہوتا ہمارا کوہ غم کیا سنگ خارا ہے جو کٹ جاتا اگر مر مر کے زندہ کوہ کن ہوتا تو کیا ہوتا عطا کی چادر گرد اس نے اپنے مرنے والوں ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی نہیں جو یاد بتان حسیں نہیں

کچھ بھی نہیں جو یاد بتان حسیں نہیں جب وہ نہیں تو دل بھی ہمارا کہیں نہیں کس وقت خوں فشاں نہیں آنکھیں فراق میں کس روز تر لہو سے یہاں آستیں نہیں ایسا نہ پایا کوئی بھی اس بت کا نقش پا جس پر کہ عاشقوں کے نشان جبیں نہیں ہر پردہ دار وقت پر آتا نہیں ہے کام ایک آستیں ہے آنکھوں پر اک آستیں ...

مزید پڑھیے

پچھتا رہے ہیں درد کے رشتوں کو توڑ کر (ردیف .. گ)

پچھتا رہے ہیں درد کے رشتوں کو توڑ کر سر پھوڑتے ہیں اپنے ہی دیوار و در سے لوگ پتھر اچھال اچھال کے مرہم کے نام پر کرتے رہے مذاق مرے زخم میرے لوگ کب ٹوٹے دیکھیے مرے خوابوں کا سلسلہ اب تو گھروں کو لوٹ رہے ہیں سفر سے لوگ سیلاب جنگ زلزلے طوفان آندھیاں سنتے رہے کہانیاں بوڑھے شجر سے ...

مزید پڑھیے

پیاسی ہیں رگیں جسم کو خوں مل نہیں سکتا

پیاسی ہیں رگیں جسم کو خوں مل نہیں سکتا سورج کی حرارت سے سکوں مل نہیں سکتا بنیاد مرے گھر کی ہواؤں پہ رکھی ہے ڈھونڈے سے کوئی سنگ ستوں مل نہیں سکتا سب کے لیے لازم نہیں سمتوں کا تعین میں راہ کی اس بھیڑ میں کیوں مل نہیں سکتا اٹھا تھا بگولہ سا اڑا لے گیا سب کچھ سوچا کیا میں خاک میں ...

مزید پڑھیے

کہوں جو کرب فقط کرب ذات سمجھو گے

کہوں جو کرب فقط کرب ذات سمجھو گے مگر کبھی تو مری نفسیات سمجھو گے یہ عمر جاؤ بھی دو چار دن کی کیا ہے بساط ابھی کہاں سے غم کائنات سمجھو گے مرا وجود صلہ ہے مری شکستوں کا بگڑ بگڑ کے بنوگے تو بات سمجھو گے ابھی تو جنبش لب پر ہزار پہرے ہیں جو لب کھلے بھی تو کیا دل کی بات سمجھو گے ادھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4450 سے 4657