شاعری

یہ لگ رہا ہے رگ جاں پہ لا کے چھوڑی ہے

یہ لگ رہا ہے رگ جاں پہ لا کے چھوڑی ہے کسی نے آگ بہت پاس آ کے چھوڑی ہے گھروں کے آئنے صورت گنوا کے بیٹھ گئے ہوا نے دھول بھی اوپر اڑا کے چھوڑی ہے یہ اب کھلا کہ اسی میں مری نجات بھی تھی جو چیز میں نے بہت آزما کے چھوڑی ہے ہوا کا جبر کہیں بیچ میں تھما ہی نہیں تری گلی بھی بہت دل دکھا کے ...

مزید پڑھیے

کنوارے آنسوؤں سے رات گھائل ہوتی رہتی ہے

کنوارے آنسوؤں سے رات گھائل ہوتی رہتی ہے ستارے جھڑتے رہتے ہیں ریہرسل ہوتی رہتی ہے سیاسی مشق کر کے تم تو دلی لوٹ جاتے ہو یہاں سہمے ہوئے لوگوں میں ہلچل ہوتی رہتی ہے وہاں رکھے ہوئے مہرے برابر مرتے رہتے ہیں ادھر کھیلی ہوئی بازی مکمل ہوتی رہتی ہے میں سب کچھ بھول کے جانے کی کوشش ...

مزید پڑھیے

میں رنگ آسماں کر کے سنہری چھوڑ دیتا ہوں

میں رنگ آسماں کر کے سنہری چھوڑ دیتا ہوں وطن کی خاک لے کر ایک مٹھی چھوڑ دیتا ہوں یہ کیا کم ہے کہ حق خود پرستی چھوڑ دیتا ہوں تمہارا نام آتا ہے تو کرسی چھوڑ دیتا ہوں میں روز جشن کی تفصیل لکھ کر رکھ تو لیتا ہوں مگر اس جشن کی تاریخ خالی چھوڑ دیتا ہوں بہت مشکل ہے مجھ سے مے پرستی کیسے ...

مزید پڑھیے

وہ اب تجارتی پہلو نکال لیتا ہے

وہ اب تجارتی پہلو نکال لیتا ہے میں کچھ کہوں تو ترازو نکال لیتا ہے وہ پھول توڑے ہمیں کوئی اعتراض نہیں مگر وہ توڑ کے خوشبو نکال لیتا ہے میں اس لئے بھی ترے فن کی قدر کرتا ہوں تو جھوٹ بول کے آنسو نکال لیتا ہے اندھیرے چیر کے جگنو نکالنے کا ہنر بہت کٹھن ہے مگر تو نکال لیتا ہے وہ بے ...

مزید پڑھیے

پھول پر اوس کا قطرہ بھی غلط لگتا ہے

پھول پر اوس کا قطرہ بھی غلط لگتا ہے جانے کیوں آپ کو اچھا بھی غلط لگتا ہے مجھ کو معلوم ہے محبوب پرستی کا عذاب دیر سے چاند نکلنا بھی غلط لگتا ہے آپ کی حرف ادائی کا یہ عالم ہے کہ اب پیڑ پر شہد کا چھتا بھی غلط لگتا ہے ایک ہی تیر ہے ترکش میں تو عجلت نہ کرو ایسے موقعے پہ نشانا بھی غلط ...

مزید پڑھیے

سر بہ زانوں کوئی فن کار الگ بیٹھا ہے

سر بہ زانوں کوئی فن کار الگ بیٹھا ہے میں یہاں ہوں مرا کردار الگ بیٹھا ہے شہر میں نامۂ تقدیس لکھا جائے گا مطمئن ہوں مرا انکار الگ بیٹھا ہے تیری تعریف میں سب بول رہے ہیں لیکن اس پہ حیرت ہے کہ معیار الگ بیٹھا ہے غیر محفوظ ہیں دیوار بنانے والے اور شہنشہ سر مینار الگ بیٹھا ہے اب ...

مزید پڑھیے

آخری معرکہ اب شہر دھواں دھار میں ہے

آخری معرکہ اب شہر دھواں دھار میں ہے میرے سرہانے کا پتھر اسی دیوار میں ہے اب ہمیں پچھلے حوالہ نہیں دینا پڑتے اک یہی فائدہ بگڑے ہوئے کردار میں ہے بیشتر لوگ جسے عمر رواں کہتے ہیں وہ تو اک شام ہے اور کوچۂ دل دار میں ہے یہ بھی ممکن ہے کہ لہجہ ہی سلامت نہ رہے مجلس شہر بھی اب شہر کے ...

مزید پڑھیے

ذرا ذرا سی کئی کشتیاں بنا لینا

ذرا ذرا سی کئی کشتیاں بنا لینا وہ اب کے آئے تو بچپن رفو کرا لینا تمازتوں میں مرے غم کے سائے میں چلنا اندھیرا ہو تو مرا حوصلہ جلا لینا شروع میں میں بھی اسے روشنی سمجھتا تھا یہ زندگی ہے اسے ہاتھ مت لگا لینا میں کوئی فرد نہیں ہوں کہ بوجھ بن جاؤں اک اشتہار ہوں دیوار پر لگا ...

مزید پڑھیے

کسی کا دھیان مہ نیم ماہ میں آیا

کسی کا دھیان مہ نیم ماہ میں آیا سفر کی رات تھی اور خواب راہ میں آیا طلوع ساعت شب خوں ہے اور میرا دل کسی ستارۂ بد کی نگاہ میں آیا مہ و ستارہ سے دل کی طرف چلا وہ جواں عدو کی قید سے اپنی سپاہ میں آیا جہاد غم میں کوئی سست ضرب میری طرح گرفت میسرۂ اشک و آہ میں آیا ستارے ڈوب گئے اور وہ ...

مزید پڑھیے

صبا دیکھ اک دن ادھر آن کر کے

صبا دیکھ اک دن ادھر آن کر کے یہ دل بھی پڑا ہے گلستان کر کے یہی دل جو اک بوند ہے بحر غم کی ڈبو دے گا سب شہر طوفان کر کے میاں دل کو اس آئنہ رو کے آگے جو رکھنا تو یک لخت حیران کر کے خدا جانے کیا اصلیت غیر کی ہے دکھے ہے بنی نوع انسان کر کے اسے اب رقیبوں میں پاتے ہیں اکثر رکھا جس کو خود ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4420 سے 4657