شاعری

گئے تھے وہاں جی میں کیا ٹھان کر کے

گئے تھے وہاں جی میں کیا ٹھان کر کے چلے آئے ایران توران کر کے اگر دل کا بالفرض گل نام پڑ جائے تو پھر ہے یہ سینہ گلستان کر کے دیا ہم نے دل ان پری چہرگاں کو زروئے قیاس آدمی جان کر کے یہ دنیا ہمیں خوش نہ آئے گی پھر بھی رہیں خواہ خود کو سلیمان کر کے ترے غم میں جس سے مژہ تر کروں ہوں وہ ...

مزید پڑھیے

مجھ سے بڑا ہے میرا حال

مجھ سے بڑا ہے میرا حال تجھ سے چھوٹا تیرا خیال چار پہر کی ہے یہ رات اور جدائی کے سو سال ہاتھ اٹھا کر دل پر سے آنکھوں پر رکھا رومال ننگ ہے تکیے داروں کا پائے طلب یا دست سوال من جو کہتا ہے مت سن یا پھر تن پر مٹی ڈال اجلا اجلا تیرا روپ دھندلے دھندلے خد و خال سکھ کی خاطر دکھ مت ...

مزید پڑھیے

کوئی جل میں خوش ہے کوئی جال میں

کوئی جل میں خوش ہے کوئی جال میں مست ہیں سب اپنے اپنے حال میں جادۂ شمشیر ہو یا فرش گل فرق کب آیا ہماری چال میں ایک آنسو سے کمی آ جائے گی غالباً دریاؤں کے اقبال میں شعلۂ صد رنگ کی سی کیفیت تجھ میں ہے یا تیرے خد و خال میں ایک لمحہ میرا یار غار ہے اس مصیبت گاہ ماہ و سال میں یہ جو ...

مزید پڑھیے

آمادہ رکھیں چشم و دل سامان حیرانی کریں

آمادہ رکھیں چشم و دل سامان حیرانی کریں کیا جانیے کس وقت وہ نظارہ فرمانی کریں بحر بلا ہے موج پر قہر قضا ہے اوج پر ہیں کاہ ساماں مستعد تا نا گریزانی کریں آئی ہے رات ایسی دنی ہے ہر چراغ افسردنی اے دل بیا اے دل بیا کچھ شعلہ سامانی کریں ہاں ہاں دکھائیں گے ضرور ہم وحشت دل کا ...

مزید پڑھیے

اچھی گزر رہی ہے دل خود کفیل سے

اچھی گزر رہی ہے دل خود کفیل سے لنگر سے روٹی لیتے ہیں پانی سبیل سے دنیا کا کوئی داغ مرے دل کو کیا لگے مانگا نہ اک درم بھی کبھی اس بخیل سے کیا بوریا نشیں کو ہوس تاج و تخت کی کیا خاک آشنا کو غرض اسپ و فیل سے دل کی طرف سے ہم کبھی غافل نہیں رہے کرتے ہیں پاسبانی شہر اس فصیل سے گہوارۂ ...

مزید پڑھیے

آخر الامر تری سمت سفر کرتے ہیں

آخر الامر تری سمت سفر کرتے ہیں آج اس نخل مسافت کو شجر کرتے ہیں جو ہے آباد تری آئنہ سامانی سے ہم اسی خانۂ حیرت میں بسر کرتے ہیں دل تو وہ پیٹ کا ہلکا ہے کہ بس کچھ نہ کہو اپنی حالت سے کب ایسوں کو خبر کرتے ہیں وصل اور ہجر ہیں دونوں ہی میاں سے بیعت دیکھیے کس پہ عنایت کی نظر کرتے ...

مزید پڑھیے

آنسو کی طرح دیدۂ پر آب میں رہنا

آنسو کی طرح دیدۂ پر آب میں رہنا ہر گام مجھے خانۂ سیلاب میں رہنا وہ ابروئے خم دار نظر آئے تو سمجھے آنکھوں کی طرح سایۂ محراب میں رہنا غفلت ہی میں کٹتے ہیں شب و روز ہمارے ہر آن کسی دھیان کسی خواب میں رہنا دن بھر کسی دیوار کے سائے میں تگ و تاز شب جستجوئے چادر مہتاب میں رہنا ویرانۂ ...

مزید پڑھیے

تجھ سے بچھڑوں تو تری ذات کا حصہ ہو جاؤں

تجھ سے بچھڑوں تو تری ذات کا حصہ ہو جاؤں جس سے مرتا ہوں اسی زہر سے اچھا ہو جاؤں تم مرے ساتھ ہو یہ سچ تو نہیں ہے لیکن میں اگر جھوٹ نہ بولوں تو اکیلا ہو جاؤں میں تری قید کو تسلیم تو کرتا ہوں مگر یہ مرے بس میں نہیں ہے کہ پرندہ ہو جاؤں آدمی بن کے بھٹکنے میں مزا آتا ہے میں نے سوچا ہی ...

مزید پڑھیے

تمام بھیڑ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں

تمام بھیڑ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں تماش بین وہ چہرہ اچھل کے دیکھتے ہیں نزاکتوں کا یہ عالم کہ رونمائی کی رسم گلاب باغ سے باہر نکل کے دیکھتے ہیں تو لا جواب ہے سب اتفاق رکھتے ہیں مگر یہ شہر کے فانوس جل کے دیکھتے ہیں اسے میں اپنے شبستاں میں چھو کے دیکھتا ہوں وہ چاند جس کو سمندر ...

مزید پڑھیے

عمل بر وقت ہونا چاہئے تھا

عمل بر وقت ہونا چاہئے تھا زمیں نم تھی تو بونا چاہئے تھا سمجھنا تھا مجھے بارش کا پانی تمہیں کپڑے بھگونا چاہئے تھا تو جادو ہے تو کوئی شک نہیں ہے میں پاگل ہوں تو ہونا چاہئے تھا میں مجرم ہوں تو مجرم اس لیے ہوں مجھے سالم کھلونا چاہئے تھا اگر کٹ پھٹ گیا تھا میرا دامن تمہیں سینہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4421 سے 4657