یہ جو اک سیل فنا ہے مرے پیچھے پیچھے
یہ جو اک سیل فنا ہے مرے پیچھے پیچھے میرے ہونے کی سزا ہے مرے پیچھے پیچھے آگے آگے ہے مرے دل کے چٹخنے کی صدا اور مری گرد انا ہے مرے پیچھے پیچھے زندگی تھک کے کسی موڑ پہ رکتی ہی نہیں کب سے یہ آبلہ پا ہے مرے پیچھے پیچھے اپنا سایہ تو میں دریا میں بہا آیا تھا کون پھر بھاگ رہا ہے مرے ...