شاعری

یہ جو اک سیل فنا ہے مرے پیچھے پیچھے

یہ جو اک سیل فنا ہے مرے پیچھے پیچھے میرے ہونے کی سزا ہے مرے پیچھے پیچھے آگے آگے ہے مرے دل کے چٹخنے کی صدا اور مری گرد انا ہے مرے پیچھے پیچھے زندگی تھک کے کسی موڑ پہ رکتی ہی نہیں کب سے یہ آبلہ پا ہے مرے پیچھے پیچھے اپنا سایہ تو میں دریا میں بہا آیا تھا کون پھر بھاگ رہا ہے مرے ...

مزید پڑھیے

پردۂ محمل اٹھے تو راز ویرانہ کھلے

پردۂ محمل اٹھے تو راز ویرانہ کھلے راز ویرانہ کھلے تب جا کے دیوانہ کھلے بار ہفت افلاک بھی اس ناتواں شانے پہ ہے زلف سے کہنا کہ آہستہ سر شانہ کھلے قامت پروانہ قد شمع سے کم ہے ابھی کیمیا ہو لے ذرا تو قد پروانہ کھلے جب طلسم آئینہ خود ہو نقاب آئینہ چشم پر کیسے حجاب آئینہ خانہ ...

مزید پڑھیے

جب سے اک چاند کی چاہت میں ستارا ہوا ہوں

جب سے اک چاند کی چاہت میں ستارا ہوا ہوں شہر شب زاد کی آنکھوں کا سہارا ہوا ہوں اے مرے درد کے دریا کی روانی مجھے دیکھ میں ترے قرب سے کٹ کٹ کے کنارہ ہوا ہوں زندگی! تجھ سا منافق بھی کوئی کیا ہوگا تیرا شہکار ہوں اور تیرا ہی مارا ہوا ہوں بجھ گئے جب مرے سب خواب و چراغ و مہتاب شہر ظلمت کو ...

مزید پڑھیے

دن سے بچھڑی ہوئی بارات لیے پھرتی ہے

دن سے بچھڑی ہوئی بارات لیے پھرتی ہے چاند تاروں کو کہاں رات لیے پھرتی ہے یہ کہیں اس کے مظالم کا مداوا ہی نہ ہو یہ جو پتوں کو ہوا ساتھ لیے پھرتی ہے چلتے چلتے ہی سہی بات تو کر لی جائے ہم کو دنیا میں یہی بات لیے پھرتی ہے لمحہ لمحہ تری فرقت میں پگھلتی ہوئی عمر گرمی شوق ملاقات لیے ...

مزید پڑھیے

اس طرح دھڑکتا ہے کوئی دل مرے دل میں

اس طرح دھڑکتا ہے کوئی دل مرے دل میں ہو جیسے مرا مد مقابل مرے دل میں ہاتھوں سے ترے غم کا سرا چھوٹ رہا ہے یا ڈوب رہا ہے کوئی ساحل مرے دل میں رہنا تھا مرے دل میں کسی غنچہ دہن کو اور بس گیا اک شور سلاسل مرے دل میں لپٹے رہے اک چاند کے دامن سے کنائے اک درد سے ہوتی رہی جھلمل مرے دل ...

مزید پڑھیے

قدم کے ساتھ عجب اک قدم لگا ہے میاں

قدم کے ساتھ عجب اک قدم لگا ہے میاں مرے وجود کے پیچھے عدم لگا ہے میاں بجا کہ ایک ہے گریے میں گریۂ یعقوب مجھے تو دامن یوسف بھی نم لگا ہے میاں کچھ اور چاہئے وسعت اسے بہ قدر نظر یہ آئینہ مری حیرت کو کم لگا ہے میاں گر آئینے کو لگے وہ بھی زنگ ہو جائے وہ روگ ہم کو خدا کی قسم لگا ہے ...

مزید پڑھیے

شام کے بعد ستاروں کو سنبھلنے نہ دیا

شام کے بعد ستاروں کو سنبھلنے نہ دیا رات کو روک لیا چاند کو ڈھلنے نہ دیا موج باطن کبھی اوقات سے باہر نہ گئی حد کے اندر بھی کسی شے کو مچلنے نہ دیا آگ تو چاروں ہی جانب تھی پر اچھا یہ ہے ہوشمندی سے کسی چیز کو جلنے نہ دیا اب کے مختار نے محتاج کی دیوار کا قد جتنا معمول ہے اتنا بھی ...

مزید پڑھیے

تمہاری واپسی ہونے کا اندازہ نہ ہو جائے

تمہاری واپسی ہونے کا اندازہ نہ ہو جائے کہیں بکھری ہوئی مٹی تر و تازہ نہ ہو جائے فرشتوں تم نے بے آواز اندیشے نہیں دیکھے یہی دیوار آگے بڑھ کے دروازہ نہ ہو جائے بڑی خواہش ہے پھر سے زندگی ہموار کرنے کی مگر اس سے کہیں مسمار شیرازہ نہ ہو جائے ابھی تک تو نتیجہ بھی پس دیوار ہے ...

مزید پڑھیے

اتنا محتاط کہ جنبش نہیں کرنے دے گا

اتنا محتاط کہ جنبش نہیں کرنے دے گا عمر بھر ایک گزارش نہیں کرنے دے گا اس سے امید یہ کرتے ہو کہ سورج کا طواف وہ تو محور پہ بھی گردش نہیں کرنے دے گا دل ہی چاہے گا تو زنجیر کے ٹکڑے ہوں گے اس سے پہلے کوئی کوشش نہیں کرنے دے گا پار کرنے کے لئے آج بھی دریا کا بہاؤ ایسا رکھے گا کہ خواہش ...

مزید پڑھیے

برائے زیب اس کو گوہر و اختر نہیں لگتا

برائے زیب اس کو گوہر و اختر نہیں لگتا وہ خود اک چاند ہے اور چاند کو زیور نہیں لگتا خدایا یوں بھی ہو کہ اس کے ہاتھوں قتل ہو جاؤں وہی اک ایسا قاتل ہے جو پیشہ ور نہیں لگتا اگر عارض پرستی کا عمل اک جرم بنتا ہے سزا بھی کاٹ لیں گے کاٹنے سے ڈر نہیں لگتا محبت تیر ہے اور تیر باطن چھید ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4419 سے 4657