شاعری

جس جگہ آگہی مقید ہے

جس جگہ آگہی مقید ہے اس جگہ زندگی مقید ہے بجھ رہے ہیں گلاب سے چہرے کیا یہاں تازگی مقید ہے چاند جس کا طواف کرتا تھا اب وہاں خاک سی مقید ہے ایک عرضی لئے میں حاضر ہوں منصفا روشنی مقید ہے خاک کربل میں آج بھی لوگو اک عجب تشنگی مقید ہے کچے گھر کے نصیب میں بابرؔ جا بجا خستگی مقید ہے

مزید پڑھیے

کب وہ بھلا ہماری محبت میں آ گئے

کب وہ بھلا ہماری محبت میں آ گئے ہائے وہ لوگ جو کہ ضرورت میں آ گئے ویسے تو ان کو سائے سے الجھن بلا کی تھی مومی بدن تھے دھوپ کی نفرت میں آ گئے ریزہ وجود میرا ابھی تک ہوا میں ہے تم تو قریب میرے شرارت میں آ گئے کچھ تو ہمیں بھی جاگتے رہنے کا شوق تھا کچھ رت جگے بھی خواب کی قیمت میں آ ...

مزید پڑھیے

اک اشک بہا ہوگا

اک اشک بہا ہوگا اک شعر ہوا ہوگا چپ چاپ پڑے ہیں ہم دل راکھ ہوا ہوگا اک خواب سہارا تھا وہ ٹوٹ گیا ہوگا دل نے تو ان آنکھوں پر الزام دھرا ہوگا ہے عشق تو ہے ہم کیش دل میں کوئی تھا ہوگا کیا نور تھا پانی میں آنکھوں سے بہا ہوگا پھر یار نہیں آئے پھر جام دھرا ہوگا اک شعلہ فزوں ہو ...

مزید پڑھیے

صفحۂ زیست جب پڑھوں گا تمہیں

صفحۂ زیست جب پڑھوں گا تمہیں دیر تک چومتا رہوں گا تمہیں تم بھلے دیکھتے رہو سب کو میں چھپا کر کہیں رکھوں گا تمہیں تم بنے ہو بنے رہو خوشبو میں کسی روز لے اڑوں گا تمہیں راگ ہو، دل کی دھڑکنوں کا راگ سامنے بیٹھ کر سنوں گا تمہیں دیکھنا دیکھتے ہوئے مجھ کو کس طرح آنکھ میں بھروں گا ...

مزید پڑھیے

مرے لیے ترا ہونا اہم زیادہ ہے

مرے لیے ترا ہونا اہم زیادہ ہے یہ باقی ذکر وجود و عدم زیادہ ہے وہ خالی پن ہے کہیں کچھ کشش نہیں ہے مجھے کوئی خوشی ہے بہت اور نہ غم زیادہ ہے ترے بغیر ضرورت ہی کیا پڑی ہے مجھے ترے بغیر یہ دم ہے سو دم زیادہ ہے یہ میری آنکھ ہے یاں خواب کیسے ٹھہریں گے کہ سیم خوردہ زمیں ہے جو نم زیادہ ...

مزید پڑھیے

پہلے ہم اشک تھے پھر دیدۂ نم ناک ہوئے

پہلے ہم اشک تھے پھر دیدۂ نم ناک ہوئے اک جوئے آب رواں ہاتھ لگی پاک ہوئے اور پھر سادہ دلی دل میں کہیں دفن ہوئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے چالاک ہوئے اور پھر شام ہوئی رنگ کھلے جام بھرے اور پھر ذکر چھڑا تھوڑے سے غم ناک ہوئے اور پھر آہ بھری اشک بہے شعر کہے اور پھر رقص کیا دھول اڑی خاک ...

مزید پڑھیے

خواب کا اذن تھا تعبیر اجازت تھی مجھے

خواب کا اذن تھا تعبیر اجازت تھی مجھے وہ سمے ایسا تھا مرنے میں سہولت تھی مجھے ایک بے برگ شجر دھند میں لپٹا ہوا تھا شاخ پر بیٹھی دعاؤں کی ضرورت تھی مجھے رات مسجد میں اندھیرا تو بہت تھا لیکن یاد بھولی سی کوئی راہ عبادت تھی مجھے اے مری جاں وہی غالبؔ کی سی حالت تھی مری تیرے جانے کی ...

مزید پڑھیے

یہ مرا وہم تو کچھ اور سنا جاتا ہے

یہ مرا وہم تو کچھ اور سنا جاتا ہے اک گماں ہے کہ ترا عکس دکھا جاتا ہے ایک تصویر دل ہجر زدہ میں ہے تری ایک تصویر کوئی اور بنا جاتا ہے تیری منت بھی مری جاں بڑی کی جاتی ہے زیر لب ایک وظیفہ بھی پڑھا جاتا ہے چاند نے مجھ پہ کماں ایک تنی ہوتی ہے تیر لگتا نہیں کس اور چلا جاتا ہے تو جو آتا ...

مزید پڑھیے

ہمارا عشق سلامت ہے یعنی ہم ابھی ہیں

ہمارا عشق سلامت ہے یعنی ہم ابھی ہیں وہی شدید اذیت ہے یعنی ہم ابھی ہیں اسی پرانی کہانی میں سانس لیتے ہیں وہی پرانی محبت ہے یعنی ہم ابھی ہیں نہ جانے کب سے در داستاں پہ بیٹھے ہیں اور انتظار کی ہمت ہے یعنی ہم ابھی ہیں طلب کے کرب میں اک مرگ کے دعا گو تھے طلب میں ویسی ہی شدت ہے یعنی ہم ...

مزید پڑھیے

میں تری مانتا لیکن جو مرا دل ہے نا

میں تری مانتا لیکن جو مرا دل ہے نا در کا پتھر ہے ہٹانا اسے مشکل ہے نا یہ ترا حسن کچھ ایسا نہیں پوجیں جس کو لیکن اے یار ترے گال کا جو تل ہے نا جو مرے واسطے دن رات دعا کرتے ہیں دشمن جاں یہ بتا ان میں تو شامل ہے نا مانگنا آتا نہیں اور خدا کہتا ہے اے فرشتو اسے دیکھو یہ جو سائل ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4415 سے 4657