شاعری

دونوں کے جو درمیاں خلا ہے

دونوں کے جو درمیاں خلا ہے یہ اصل میں کوئی تیسرا ہے تجھ بن یہ مرا وجود کیا ہے اک پیڑ ہے اور کھوکھلا ہے اک چاپ سنائی دے رہی ہے دروازے سے وہ پلٹ گیا ہے وہ ایک دن انتظار کا دن پھر زندگی بھر وہ دن رہا ہے تعبیر بتائی جا چکی ہے اب آنکھ کو خواب دیکھنا ہے بس دھند نگل چکی ہے یہ رات نظارہ ...

مزید پڑھیے

دل کوئی پھول نہیں اور ستارہ بھی نہیں

دل کوئی پھول نہیں اور ستارہ بھی نہیں کار دنیا کا نہیں اور تمہارا بھی نہیں ہم کسی سمت چلیں راہ لگیں کھو جائیں راہ گم گشتہ ہیں سو ایسا اشارہ بھی نہیں ہم کو تو وصل کے قابل نہیں جانا تم نے ہم چلے جائیں کہیں تم کو گوارا بھی نہیں نارسائی نے عجب طور سکھائے ہیں عطاؔ یعنی بھولے بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

کوئی گماں ہوں کوئی یقیں ہوں کہ میں نہیں ہوں

کوئی گماں ہوں کوئی یقیں ہوں کہ میں نہیں ہوں میں ڈھونڈھتا ہوں کہ میں کہیں ہوں کہ میں نہیں ہوں کہیں ستارے کہیں ہیں جگنو کہیں اندھیرے میں آسماں ہوں کوئی زمیں ہوں کہ میں نہیں ہوں میں ایک دل ہوں کسی کے دل میں کہ واہمہ ہوں کوئی مکاں ہوں کوئی مکیں ہوں کہ میں نہیں ہوں دکھائی دیتا تھا ...

مزید پڑھیے

اک رات میں سو نہیں سکا تھا

اک رات میں سو نہیں سکا تھا اور خواب بھی دیکھنا پڑا تھا دل اتنا کیوں دھڑک رہا ہے میں کس کی نظر میں آ گیا تھا جیسا بھی غلط سہی، میں ہوں ہوں جیسا بھی غلط سہی میں تھا، تھا کمرے میں آگ لگ گئی تھی دل جب کسی دھیان میں لگا تھا ویسا ہی خراب شخص ہوں میں جیسا کوئی چھوڑ کر گیا تھا دل کی ...

مزید پڑھیے

کل خواب میں اک پری ملی تھی

کل خواب میں اک پری ملی تھی اک بوسے کے بعد اڑ گئی تھی میں اس کے لیے دھنک بنا تھا وہ اور ہی رنگ ڈھونڈھتی تھی دیوی تھی جسے میں پوجتا تھا وہ اور کسی کو سوچتی تھی میں راہ گناہ پر چلا تھا اس راہ میں کیسی تیرگی تھی چھ راستے واں نکل رہے تھے اک سمت ذرا سی روشنی تھی آخر میں دعا میں ڈھل ...

مزید پڑھیے

ہوئی غزل ہی نہ کچھ بات بن سکی ہم سے

ہوئی غزل ہی نہ کچھ بات بن سکی ہم سے یہ سرگزشت جنوں کب بیاں ہوئی ہم سے سڑک پہ بیٹھ گئے دیکھتے ہوئے دنیا اور ایسے ترک ہوئی ایک خودکشی ہم سے ہم آ گئے تھے گھنے برگدوں کے سائے میں سو بات کرنے چلی آئی روشنی ہم سے وہ خواب کیا تھا کہ جو بھولنے لگا دم صبح وہ رات کیسی تھی جو روٹھنے لگی ہم ...

مزید پڑھیے

وہ زمانہ ہے کہ اب کچھ نہیں دیوانے میں

وہ زمانہ ہے کہ اب کچھ نہیں دیوانے میں نام لیتا ہے جنوں کا کبھی انجانے میں قسمت اپنی ہے کہ ہم نوحہ گری کرتے ہوئے کریں زنجیر زنی دل کے عزا خانے میں کیا ہوئے لوگ پرانے جنہیں دیکھا بھی نہیں اے زمانے ہمیں تاخیر ہوئی آنے میں ان شکستہ در و دیوار کی صورت ہم بھی بہت آسیب زدہ ہوں گے نظر ...

مزید پڑھیے

عشق سے بھاگ کے جایا بھی نہیں جا سکتا

عشق سے بھاگ کے جایا بھی نہیں جا سکتا نقش یک خواب مٹایا بھی نہیں جا سکتا ہم اسے دیکھ کے نظریں بھی ہٹا سکتے نہیں اور اسے دیکھنے جایا بھی نہیں جا سکتا وہ کہیں خواب میں پوشیدہ کوئی خواب سہی دیر تک درد دبایا بھی نہیں جا سکتا زیر لب ہیں جو صدائیں کوئی سنتا ہی نہیں اور بہت شور مچایا ...

مزید پڑھیے

ہماری آنکھیں بھی صاحب عجیب کتنی ہیں

ہماری آنکھیں بھی صاحب عجیب کتنی ہیں کہ دل جو روئے تو کم بخت ہنسنے لگتی ہیں تمہارے شہر سے چلیے کہ تنگ دستی نے تمہارے شہر کی گلیاں بھی تنگ کر دی ہیں یہ ہم ہیں بے ہنراں دیکھیے ہنر مندی جو کوئی کام کریں ہم تو پوریں جلتی ہیں نہ اس کا وصل ملا اور نہ روزگار یہاں سو پہلے ہجر زدہ تھے اور ...

مزید پڑھیے

یہ عکس آپ ہی بنتے ہیں ہم سے ملتے ہیں

یہ عکس آپ ہی بنتے ہیں ہم سے ملتے ہیں کہ ناخنوں کے بغیر اپنے زخم چھلتے ہیں خبر ملی ہے کہ تو خواب دیکھتی ہے ابھی خبر ملی ہے تری سمت پھول کھلتے ہیں ہمیں یہ وقت کی بخیہ گری پسند نہیں اگرچہ وقت کے ہاتھوں سے زخم سلتے ہیں ہماری عمر سے بڑھ کر یہ بوجھ ڈالا گیا سو ہم بڑوں سے بزرگوں کی طرح ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4416 سے 4657