اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی ورنہ اب تلک یوں تھا خواہشوں کی بارش میں یا تو ٹوٹ کر رویا یا غزل سرائی کی تج دیا تھا کل جن کو ہم نے تیری چاہت میں آج ان سے مجبوراً تازہ آشنائی کی ہو چلا تھا جب مجھ کو اختلاف اپنے سے تو نے کس گھڑی ظالم میری ہم ...