شاعری

اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی

اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی ورنہ اب تلک یوں تھا خواہشوں کی بارش میں یا تو ٹوٹ کر رویا یا غزل سرائی کی تج دیا تھا کل جن کو ہم نے تیری چاہت میں آج ان سے مجبوراً تازہ آشنائی کی ہو چلا تھا جب مجھ کو اختلاف اپنے سے تو نے کس گھڑی ظالم میری ہم ...

مزید پڑھیے

اول اول کی دوستی ہے ابھی

اول اول کی دوستی ہے ابھی اک غزل ہے کہ ہو رہی ہے ابھی میں بھی شہر وفا میں نو وارد وہ بھی رک رک کے چل رہی ہے ابھی میں بھی ایسا کہاں کا زود شناس وہ بھی لگتا ہے سوچتی ہے ابھی دل کی وارفتگی ہے اپنی جگہ پھر بھی کچھ احتیاط سی ہے ابھی گرچہ پہلا سا اجتناب نہیں پھر بھی کم کم سپردگی ہے ...

مزید پڑھیے

رات دیکھا تھا بھاگتا جنگل

رات دیکھا تھا بھاگتا جنگل ایک وحشت میں ہانپتا جنگل اک شکاری نے فاختہ ماری درد مارے تھا کانپتا جنگل مجھ کو اپنا ہی خوف ہے صاحب میرے اندر ہے جاگتا جنگل بارشوں میں دھمال پڑتی ہے بوند پی کر ہے ناچتا جنگل کس نے بوئے ہیں صحن میں کانٹے کون گھر گھر ہے بانٹتا جنگل رات بستی میں پھر اترتی ...

مزید پڑھیے

بجھتی ہوئی آنکھوں کا اکیلا وہ دیا تھا

بجھتی ہوئی آنکھوں کا اکیلا وہ دیا تھا ہجراں کی کڑی شب میں اذیت سے لڑا تھا رکتا ہی نہیں تجھ پہ نگاہوں کا تسلسل کل شام ترے ہاتھ میں کنگن بھی نیا تھا اک چشم توجہ سے ادھڑتا ہی گیا تھا وہ زخم کہ جس کو بڑی محنت سے سیا تھا برگد کے اسی پیڑ پہ اتریں گے پرندے سیلاب زدہ گھر کے جو آنگن میں ...

مزید پڑھیے

پھول خوشبو ان پہ اڑتی تتلیوں کی خیر ہو

پھول خوشبو ان پہ اڑتی تتلیوں کی خیر ہو سب کے آنگن میں چہکتی بیٹیوں کی خیر ہو جتنے میٹھے لہجے ہیں سب گیت ہوں گے ایک دن میٹھے لہجوں سے مہکتی بولیوں کی خیر ہو چنریوں میں خواب لے کر چل پڑی ہیں بیٹیاں ان پرائے دیس جاتی ڈولیوں کی خیر ہو بارشوں کے شور میں کیوں جاگتے ہیں درد بھی صحن ...

مزید پڑھیے

جاگتی شب خدا حافظ

جاگتی شب خدا حافظ جا چکے سب خدا حافظ دشت مجھ کو بلاتا ہے زندگی اب خدا حافظ راستہ روکتے کیوں ہو کہہ دیا جب خدا حافظ کھا چکا دانۂ گندم مہرباں رب خدا حافظ آخری سانس جب نکلی لکھ دیا تب خدا حافظ اب چلو رات ہے بابرؔ شام کی چھب خدا حافظ

مزید پڑھیے

آنکھ رکھے ہوئے ستارے پر

آنکھ رکھے ہوئے ستارے پر کشتیاں جا لگیں کنارے پر وقت پڑنے پہ آزما لینا جان دے دیں گے اک اشارے پر موڑ پر اس نے مڑ کے دیکھا تھا جی رہے ہیں اسی سہارے پر جھیل آنکھوں میں سرمگیں آنسو چاند بے خود تھا اس نظارے پر لب و رخسار آتشیں اس کے شبنمی رقص تھا شرارے پر اوٹ میں پھر چھپا لیا ماں ...

مزید پڑھیے

نہ فیصلہ تمہارا ہے نہ فیصلہ ہمارا ہے

نہ فیصلہ تمہارا ہے نہ فیصلہ ہمارا ہے یہ وقت کے قزاق نے چھپا کے تیر مارا ہے فقیہ شہر زندگی کی آنکھ کا جو نور تھا وہ میں نے تیرے آستاں پہ خواب لا کے وارا ہے ستار گاں کی بزم میں اداس چاند دیکھنا نہ جانے کیسا خواب ہے نہ جانے کیا اشارہ ہے ہمیں یہ خواب تتلیاں تلاشنا ہیں عمر بھر کہ ...

مزید پڑھیے

پھڑپھڑاتا ہوا پرندہ ہے

پھڑپھڑاتا ہوا پرندہ ہے مان لو کہ دعا پرندہ ہے اس کڑی دھوپ میں مرے ہم راہ ریت آنسو ہوا پرندہ ہے خواہشوں کا سفر نہیں رکتا یہ عجب بھاگتا پرندہ ہے جھیل سوکھی تو وہ پلٹ آیا دل کے ہاتھوں مڑا پرندہ ہے موت اس کو کہو بجا لیکن اصل میں تو اڑا پرندہ ہے آنے والی بہار ہے بابرؔ میری چھت پر ...

مزید پڑھیے

دیوں سے وعدے وہ کر رہی تھی عجیب رت تھی

دیوں سے وعدے وہ کر رہی تھی عجیب رت تھی ہوا چراغوں سے ڈر رہی تھی عجیب رت تھی بڑی حویلی کے گیٹ آگے دریدہ دامن غریب لڑکی جو مر رہی تھی عجیب رت تھی ٹھٹھرتی شب میں وداعی سیٹی کی گونج سن کر یہ آنکھ پانی سے بھر رہی تھی عجیب رت تھی ضعیف ماں کے لئے تھا مشکل کہ گھر سے جاتی اتار گٹھری وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4414 سے 4657