دل کی خواہش بڑھتے بڑھتے طوفاں ہوتی جاتی ہے
دل کی خواہش بڑھتے بڑھتے طوفاں ہوتی جاتی ہے زر کی چاہت اب لوگوں کا ایماں ہوتی جاتی ہے پیار محبت ہمدردی کے رشتے تھے انسانوں میں دل والوں کو اب یہ دنیا زنداں ہوتی جاتی ہے مرگھٹ کا سا سناٹا ہے گھر کوچے بازاروں میں دل کی بستی رفتہ رفتہ ویراں ہوتی جاتی ہے انسانوں کے خوں کے پیاسے اور ...