شاعری

دل کی خواہش بڑھتے بڑھتے طوفاں ہوتی جاتی ہے

دل کی خواہش بڑھتے بڑھتے طوفاں ہوتی جاتی ہے زر کی چاہت اب لوگوں کا ایماں ہوتی جاتی ہے پیار محبت ہمدردی کے رشتے تھے انسانوں میں دل والوں کو اب یہ دنیا زنداں ہوتی جاتی ہے مرگھٹ کا سا سناٹا ہے گھر کوچے بازاروں میں دل کی بستی رفتہ رفتہ ویراں ہوتی جاتی ہے انسانوں کے خوں کے پیاسے اور ...

مزید پڑھیے

لے کے پھر زخموں کی سوغات بہارو آؤ

لے کے پھر زخموں کی سوغات بہارو آؤ چشم پر نم کے مقابل تو پھوہارو آؤ چند تنکوں کا جلانا تو بڑی بات نہیں عزم کو میرے جلاؤ تو شرارو آؤ غم کا سیلاب غضب دل کی شکستہ کشتی موج کے ساتھ ہی یادوں کے کنارو آؤ تکتے رہتے ہو کسے دور سے حیرانی سے دل کے صحرا میں کبھی چاند ستارو آؤ آمد یار ہو ہر ...

مزید پڑھیے

دنیا سبھی باطل کی طلب گار لگے ہے

دنیا سبھی باطل کی طلب گار لگے ہے جس روح کو دیکھو وہی بیمار لگے ہے جب بھوک سے مر جاتا ہے دوراہے پہ کوئی بستی کا ہر اک شخص گنہ گار لگے ہے شاید نئی تہذیب کی معراج یہی ہے حق گو ہی زمانے میں خطا کار لگے ہے وہ تیری وفا کی ہو کہ دنیا کی جفا کی مت چھیڑ کوئی بات کہ تلوار لگے ہے کیا ظرف ہے ...

مزید پڑھیے

ذرا سکون بھی صحرا کے پیار نے نہ دیا

ذرا سکون بھی صحرا کے پیار نے نہ دیا مسافروں کو ہوا نے پکارنے نہ دیا تجھے بھی دے نہ سکے چین وہ گلاب کے پھول مجھے بھی اذن تبسم بہار نے نہ دیا نہ جانے کتنے مراحل کے بعد پایا تھا وہ ایک لمحہ جو تو نے گزارنے نہ دیا کہاں گئے وہ جو آباد تھے خرابے میں پتا کسی کا دل بے قرار نے نہ دیا میں ...

مزید پڑھیے

جلتی بجھتی سی رہ گزر جیسے

جلتی بجھتی سی رہ گزر جیسے زندگی دور کا سفر جیسے اس قدر پرخلوص لہجہ ہے اس سے ملنا ہے عمر بھر جیسے اس محلہ میں اک جواں لڑکی بیچ اخبار میں خبر جیسے ایک مانوس سی صدا گونجی دور یادوں کا اک نگر جیسے

مزید پڑھیے

ملا جو دھوپ کا صحرا بدن شجر نہ بنا

ملا جو دھوپ کا صحرا بدن شجر نہ بنا میں وہ ہوں خود جو کبھی اپنا ہم سفر نہ بنا نگر نگر میں نئی بستیاں بسائی گئیں ہزار چاہا مگر پھر بھی اپنا گھر نہ بنا یہ بات بات ہے دل کی تو پھر جھجک کیسی یہ نقش نقش وفا ہے تو سوچ کر نہ بنا چمکتے دن کے اجالوں سے آشنا ہو کر اندھیری رات میں سائے کو ہم ...

مزید پڑھیے

احساس کی منزل سے گزر جائے گا آخر

احساس کی منزل سے گزر جائے گا آخر مجھ میں ہے جو انسان وہ مر جائے گا آخر اک دن تو تری راہ میں پتھرائیں گی آنکھیں یہ جسم بھی ریزوں میں بکھر جائے گا آخر اے دوست یہاں عرض ہنر جاں کا زیاں ہے تو گہرے سمندر میں اتر جائے گا آخر میں رنگ سحر تیرے لیے ڈھونڈ کے لاؤں تو شام کے میلے میں کدھر ...

مزید پڑھیے

ادھر دیکھتے ہیں ادھر دیکھتے ہیں

ادھر دیکھتے ہیں ادھر دیکھتے ہیں ہمیشہ تری رہ گزر دیکھتے ہیں سفر ہی نہیں ختم ہوتا ہمارا مصیبت میں ہم اپنا گھر دیکھتے ہیں اگرچہ ہمارا نتیجہ نہ نکلا مگر فیل ہونے کا ڈر دیکھتے ہیں برستا رہا رات بھر گھر میں پانی خدا تیری رحمت کا در دیکھتے ہیں ہنسی مجھ کو آتی ہے تیری ہنسی پر اخوت ...

مزید پڑھیے

رات گزری ہے در بدر ہو کر

رات گزری ہے در بدر ہو کر زندگی تجھ سے بے خبر ہو کر معاف کرنا مرے گناہوں کو خلد جانا ہے بے خطر ہو کر شرط اول ہے خانۂ دل کا پاؤں رکھنا ہے معتبر ہو کر تجھ سے ملنے کی ایک حسرت ہے کب گزرنا ہے میرے گھر ہو کر ان سے چلنے کی ضد کرو احمدؔ نقش چوموں گا رہ گزر ہو کر

مزید پڑھیے

اس جیسا یہاں کوئی بھی فن کار نہیں ہے

اس جیسا یہاں کوئی بھی فن کار نہیں ہے قاتل ہے مگر ہاتھ میں تلوار نہیں ہے اٹھوں گا مگر صبح تو ہونے دے مؤذن سونے کے لئے نیند بھی درکار نہیں ہے یوں ہے کہ فقط دیکھ کے ہوتی ہے تسلی معمولی کوئی نقش یا دیوار نہیں ہے درد دل مجروح کوئی سمجھے تو کیسے اس شہر میں مجھ سا کوئی بیمار نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4375 سے 4657