دن ہوا کٹ کر گرا میں روشنی کی دھار سے
دن ہوا کٹ کر گرا میں روشنی کی دھار سے خلق نے دیکھے لہو میں رات کے انوار سے اڑ گیا کالا کبوتر مڑ گئی خوابوں کی رو سایۂ دیوار نے کیا کہہ دیا دیوار سے جب سے دل اندھا ہوا آنکھیں کھلی رکھتا ہوں میں اس پہ مرتا بھی ہوں غافل بھی نہیں گھر بار سے خاک پر اڑتی بکھرتی پرزہ پرزہ آرزو یاد ہے یہ ...