میرا شکوہ تری محفل میں عدو کرتے ہیں
میرا شکوہ تری محفل میں عدو کرتے ہیں اس پہ بھی صبر ہم اے عربدہ جو کرتے ہیں مشق بیداد و ستم کرتے ہیں گر وہ تو یہاں ہم بھی بیداد و ستم سہنے کی خو کرتے ہیں جاں ہوئی ہے نگہ نام پہ ان کی عاشق چاک دل تار نظر سے جو رفو کرتے ہیں بے ثباتی چمن دہر کی ہے جن پہ کھلی ہوس رنگ نہ وہ خواہش بو کرتے ...