شاعری

میرا شکوہ تری محفل میں عدو کرتے ہیں

میرا شکوہ تری محفل میں عدو کرتے ہیں اس پہ بھی صبر ہم اے عربدہ جو کرتے ہیں مشق بیداد و ستم کرتے ہیں گر وہ تو یہاں ہم بھی بیداد و ستم سہنے کی خو کرتے ہیں جاں ہوئی ہے نگہ نام پہ ان کی عاشق چاک دل تار نظر سے جو رفو کرتے ہیں بے ثباتی چمن دہر کی ہے جن پہ کھلی ہوس رنگ نہ وہ خواہش بو کرتے ...

مزید پڑھیے

نہ چھوڑی غم نے مرے اک جگر میں خون کی بوند (ردیف .. ر)

نہ چھوڑی غم نے مرے اک جگر میں خون کی بوند کہاں سے اشک کا ہو کہیے چشم تر میں اثر ہو اس کے ساتھ یہ بے التفاتی گل کیوں جو عندلیب کے ہو نالۂ سحر میں اثر کسی کا قول ہے سچ سنگ کو کرے ہے موم رکھا ہے خاص خدا نے یہ سیم و زر میں اثر جو آہ نے فلک پیر کو ہلا ڈالا تو آپ ہی کہیے کہ ہے گا یہ کس اثر ...

مزید پڑھیے

ابھی رنج سفر کی ابتدا ہے

ابھی رنج سفر کی ابتدا ہے ابھی سے جی بہت گھبرا رہا ہے دئے بجھنے لگے ہیں طاقچوں میں ہر اک شے پر اندھیرا چھا رہا ہے ہوا شاخوں میں چھپ کر رو رہی ہے نہ جانے کیسا موسم آ رہا ہے ٹھٹھرتی رت میں زخمی انگلیوں سے ہمیں دریا میں سونا ڈھونڈھنا ہے اسی امید پر بن باس کاٹیں ہمیں بھی ایک دن گھر ...

مزید پڑھیے

کاٹ گئی کہرے کی چادر سرد ہوا کی تیزی ماپ

کاٹ گئی کہرے کی چادر سرد ہوا کی تیزی ماپ اکڑوں بیٹھا اس وادی کی تنہائی میں تھر تھر کانپ مرمر کی اونچائی چڑھتے پھسلا ہے تو رونا کیا پاؤں پسارے کیچڑ میں اکھڑی سانسوں کی مالا جاپ اڑتے پنچھی پیاسی نظروں کی پہچان سے عاری ہیں تیز ہوئی جاتی ہیں کرنیں تھاپ سہیلی گوبر تھاپ پھوٹی چوڑی ...

مزید پڑھیے

تہ داماں چراغ روشن ہے

تہ داماں چراغ روشن ہے زیست میری بقا کا بچپن ہے شکوۂ ظلم و جور کس سے کریں آدمی آدمی کا دشمن ہے ایک الاؤ ہے یہ دہکتا ہوا تمہیں جس پر گمان گلشن ہے پھنک رہا ہے چمن چمن لیکن آپ فرما رہے ہیں ساون ہے کون ہستی کے سلسلے کو بجھائے ایک سے ایک دیپ روشن ہے زندگی سے کہاں فرار سلامؔ سینۂ ...

مزید پڑھیے

بگاڑ میں بھی بناؤ ہے آدمی کے لئے

بگاڑ میں بھی بناؤ ہے آدمی کے لئے اجڑ رہا ہوں میں اک تازہ زندگی کے لئے بدل گئے ہیں زمانے کے ساتھ حسن کے طور کچھ اور چاہتے اب رسم عاشقی کے لئے یہ سوچ کر کہ عنایت کیا ہوا ہے ترا دعا نہ مانگی کبھی درد میں کمی کے لئے ملاحظہ ہو یہ ایثار پھول ہنس ہنس کر اجڑ رہا ہے کلی کی شگفتگی کے ...

مزید پڑھیے

دار و زنداں بھی جام و چنگ بھی ہے

دار و زنداں بھی جام و چنگ بھی ہے زندگی بے کراں بھی تنگ بھی ہے اہل محفل ہوں یوں نہ افسردہ دامن شب میں کیف و رنگ بھی ہے تجھے کھونے کا دل کو غم بھی نہیں تجھے پانے کی اک امنگ بھی ہے کون جانے کہ مرگ ہے ساماں باعث حفظ نام و ننگ بھی ہے اللہ اللہ سیاست حاضر صلح کے ساتھ ساتھ جنگ بھی ہے

مزید پڑھیے

فلک پہ چاند نہیں کوئی ابر پارہ نہیں

فلک پہ چاند نہیں کوئی ابر پارہ نہیں یہ کیسی رات ہے جس میں کوئی ستارہ نہیں یہ انکشاف ستاروں سے بھر گیا دامن کسی نے اتنا کہا جب کہ وہ ہمارا نہیں زمیں بھنور ہو جہاں آسماں سمندر ہو وہاں سفر کسی ساحل کا استعارہ نہیں میں مختلف ہوں زمانے سے اس لیے شاید کسی خیال کی گردش مجھے گوارہ ...

مزید پڑھیے

اک تصور تو ہے تصویر نہیں

اک تصور تو ہے تصویر نہیں خواب ہے خواب کی تعبیر نہیں یہ رہائی کی تمنا کیا ہے جب مرے پاؤں میں زنجیر نہیں صبح میری طرح آباد نہیں شام میری طرح دلگیر نہیں کیوں ابھر آیا تری یاد کا چاند جب اجالا مری تقدیر نہیں سنگ میں پھول کھلانے والو فن یہاں باعث توقیر نہیں بات کہنے کا سلیقہ ہے ...

مزید پڑھیے

دیرینہ خواہشوں سے سجایا گیا مجھے

دیرینہ خواہشوں سے سجایا گیا مجھے مقتل میں کس فریب سے لایا گیا مجھے بار ثمر سے شاخ شجر جھک گئی تو کیا میں بے ثمر تھا پھر بھی جھکایا گیا مجھے سیارۂ زمیں ہے کہاں سوچتا ہوں میں پاتال میں فلک سے گرایا گیا مجھے میں نقش ہجر یار ہوں شب کی فصیل پر جلتا ہوا چراغ بنایا گیا مجھے لائے ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4350 سے 4657