شاعری

کچھ کم نہیں ہیں شمع سے دل کی لگن میں ہم

کچھ کم نہیں ہیں شمع سے دل کی لگن میں ہم فانوس میں وہ جلتی ہے یاں پیرہن میں ہم ہیں تفتہ جاں مفارقت گل بدن میں ہم ایسا نہ ہو کہ آگ لگا دیں چمن میں ہم گم ہوں گے بوئے زلف شکن در شکن میں ہم قبضہ کریں گے چین کو لے کر ختن میں ہم گر یہ ہی چھیڑ دست جنوں کی رہی تو بس مر کر بھی سینہ چاک کریں گے ...

مزید پڑھیے

دوست جب دل سا آشنا ہی نہیں

دوست جب دل سا آشنا ہی نہیں اب ہمیں غیر کا گلہ ہی نہیں جس کا دل درد آشنا ہی نہیں اس کے جینے کا کچھ مزا ہی نہیں ایک دم ہم سے وہ جدا ہی نہیں گر جدا ہو تو وہ خدا ہی نہیں آشنائی پہ اس کی مت جانا لے کے دل پھر وہ آشنا ہی نہیں خاک چھانی جہان کی لیکن دل گم گشتہ کا پتا ہی نہیں لاکھ معشوق ...

مزید پڑھیے

دل ہے نہ نشان بے دلی کا

دل ہے نہ نشان بے دلی کا کیا وقت پڑا ہے بے کسی کا دیکھا کئے راستہ کسی کا تھا شغل یہ اپنی زندگی کا پروائے کرم نہ شکوۂ غم اللہ رے دماغ بے دلی کا میں اور یہ بے نیازئ شوق احسان ہے جوش بے خودی کا مرنا مرنے کی آرزو میں حاصل ہے یہ اپنی زندگی کا آنسو بھر آئے دل بھر آیا گر نام بھی سن لیا ...

مزید پڑھیے

درد مسلسل سے آہوں میں پیدا وہ تاثیر ہوئی

درد مسلسل سے آہوں میں پیدا وہ تاثیر ہوئی اکثر چارہ گروں کی حالت مجھ سے سوا گمبھیر ہوئی کیا جانے کیوں مجھ سے میری برگشتہ تقدیر ہوئی مملکت عیش آنکھ جھپکتے ہی غم کی جاگیر ہوئی اس نے میرے شیشۂ دل کو دیکھ کے کیوں منہ موڑ لیا شاید اس آئینے میں اس کو ظاہر کوئی لکیر ہوئی جب بھی لکھا ...

مزید پڑھیے

کچھ سازگار جب مرے حالات بھی نہیں

کچھ سازگار جب مرے حالات بھی نہیں ایسے میں میرے سر پہ ترا بات بھی نہیں مشتاق دید بھی نہیں یہ طرفہ بات ہے دل میں خیال ترک ملاقات بھی نہیں کہتا نہیں میں آپ کو بیگانہ خو مگر پہلے سی مجھ پہ لطف و عنایات بھی نہیں مجھ کو بنایا مملکت غم کا تاجدار اور میرے لب پہ شکر کے کلمات بھی نہیں کس ...

مزید پڑھیے

بہاروں سے خزاں تک یوں ہی سیر گلستاں کر کے

بہاروں سے خزاں تک یوں ہی سیر گلستاں کر کے رفو کرتے رہے ہم جیب و داماں دھجیاں کر کے ملے گا کیا تجھے صیاد مجھ کو بے زباں کر کے سکون قلب ملتا ہے مجھے آہ و فغاں کر کے چمن کو روشنی دی نذر آتش آشیاں کر کے کیا یہ تجربہ ہم نے گھر اپنا رائیگاں کر کے حقیقت میں کرم تم نے کیا ہے حق شناسوں ...

مزید پڑھیے

حسرتیں آ آ کے جمع ہو رہی ہیں دل کے پاس

حسرتیں آ آ کے جمع ہو رہی ہیں دل کے پاس کارواں گویا پہنچنے والا ہے منزل کے پاس بیچ میں جب تک تھیں موجیں ان میں شورش تھی بہت انتشار ان میں ہوا جب آ گئیں ساحل کے پاس نذر قاتل جان جب کر دی تو باقی کیا رہا اب تڑپنے کے علاوہ ہے ہی کیا بسمل کے پاس غرق کر دیں میری کشتی پھر یہ موجیں ...

مزید پڑھیے

کیوں کہوں کوئی قد آور نہیں آیا اب تک

کیوں کہوں کوئی قد آور نہیں آیا اب تک ہاں مرے قد کے برابر نہیں آیا اب تک ایک مدت سے ہوں میں سینہ سپر میداں میں حملہ آور کوئی بڑھ کر نہیں آیا اب تک یہ تو دریا ہیں جو آپے سے گزر جاتے ہیں جوش میں ورنہ سمندر نہیں آیا اب تک ہوں گے منزل سے ہم آغوش یہ امید بندھی راستے میں کوئی پتھر نہیں ...

مزید پڑھیے

جہاں نہ دل کو سکون ہے نہ ہے قرار مجھے

جہاں نہ دل کو سکون ہے نہ ہے قرار مجھے یہ کس مقام پہ لے آئی یاد یار مجھے یہ بات سچ ہے میں برگ خزاں رسیدہ ہوں مگر سلام کیا کرتی ہے بہار مجھے ستم یہ ہے وہ کبھی بھول کر نہیں آیا تمام عمر رہا جس کا انتظار مجھے بس اپنے آپ سنورنا بھی کوئی بات ہوئی تو اپنی زلف کی صورت کبھی سنوار ...

مزید پڑھیے

جام تو جام مئے ہوش ربا بھی بدلی

جام تو جام مئے ہوش ربا بھی بدلی ساتھ ہی رندوں کے پینے کی ادا بھی بدلی فصل گل بدلی صبا بدلی فضا بھی بدلی آپ بدلے تو گلستاں کی ہوا بھی بدلی ٹوٹ جائے گا یقیناً دل مے خوار اگر نگۂ ساقئ‌ میخانہ ذرا بھی بدلی بزم یاراں میں صدا سے مجھے پہچانتا کون میرے حالات جو بدلے تو صدا بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4345 سے 4657