کچھ کم نہیں ہیں شمع سے دل کی لگن میں ہم
کچھ کم نہیں ہیں شمع سے دل کی لگن میں ہم فانوس میں وہ جلتی ہے یاں پیرہن میں ہم ہیں تفتہ جاں مفارقت گل بدن میں ہم ایسا نہ ہو کہ آگ لگا دیں چمن میں ہم گم ہوں گے بوئے زلف شکن در شکن میں ہم قبضہ کریں گے چین کو لے کر ختن میں ہم گر یہ ہی چھیڑ دست جنوں کی رہی تو بس مر کر بھی سینہ چاک کریں گے ...