شاعری

سر میں سودائے وفا رکھتے ہیں

سر میں سودائے وفا رکھتے ہیں ہم بھی اس عہد میں کیا رکھتے ہیں واسطہ جس کا ترے غم سے نہ ہو ہم وہ ہر کام اٹھا رکھتے ہیں بن کھلی ایک کلی پہلو میں ہم بھی اے باد صبا رکھتے ہیں بت کدہ والو تمہیں کچھ بولو وہ تو چپ ہیں جو خدا رکھتے ہیں غیرت عشق کوئی راہ نکال ظلم وہ سب پہ روا رکھتے ہیں کیا ...

مزید پڑھیے

سفر ہی شرط سفر ہے تو ختم کیا ہوگا

سفر ہی شرط سفر ہے تو ختم کیا ہوگا تمہارے گھر سے ادھر بھی یہ راستہ ہوگا زمانہ سخت گراں خواب ہے مگر اے دل پکار تو سہی کوئی تو جاگتا ہوگا یہ بے سبب نہیں آئے ہیں آنکھ میں آنسو خوشی کا لمحہ کوئی یاد آ گیا ہوگا مرا فسانہ ہر اک دل کا ماجرا تو نہ تھا سنا بھی ہوگا کسی نے تو کیا سنا ...

مزید پڑھیے

کوئی مجھ سے جدا ہوا ہے ابھی

کوئی مجھ سے جدا ہوا ہے ابھی زندگی ایک سانحا ہے ابھی نہیں موقع یہ پرسش غم کا دیکھیے دل دکھا ہوا ہے ابھی کل گزر جائے دل پہ کیا معلوم عشق سادہ سا واقعہ ہے ابھی بات پہنچی ہے اک نظر میں کہاں ہم تو سمجھے تھے ابتدا ہے ابھی کتنے نزدیک آ گئے ہیں وہ کس قدر ان سے فاصلہ ہے ابھی ساری باتیں ...

مزید پڑھیے

چند الجھی ہوئی سانسوں کی عطا ہوں کیا ہوں

چند الجھی ہوئی سانسوں کی عطا ہوں کیا ہوں میں چراغ تہ دامان صبا ہوں کیا ہوں ہر نفس ہے مرا پروردۂ آغوش بلا اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا ہوں کیا ہوں مجھ پہ کھلتا ہی نہیں میرا ستم دیدہ وجود کوئی پتھر ہوں کہ گم کردہ صدا ہوں کیا ہوں دل میں ہوں اور زباں پر کبھی آتا بھی نہیں میں کوئی ...

مزید پڑھیے

گزرنا ہے جی سے گزر جائیے

گزرنا ہے جی سے گزر جائیے لیے دیدۂ تر کدھر جائیے کھلے دل سے ملتا نہیں اب کوئی اسے بھولنے کس کے گھر جائیے سبک رو ہے موج غم دل ابھی ابھی وقت ہے پار اتر جائیے الٹ تو دیا پردۂ شب مگر نہیں سوجھتا اب کدھر جائیے علاج غم دل نہ صحرا نہ گھر وہی ہو کا عالم جدھر جائیے اسی موڑ پر ہم ہوئے تھے ...

مزید پڑھیے

تم ہو یا چھیڑتی ہے یاد سحر کوئی تو ہے

تم ہو یا چھیڑتی ہے یاد سحر کوئی تو ہے کھٹکھٹاتا ہے جو یہ خواب کا در کوئی تو ہے دل پہ پڑتی ہوئی دزدیدہ نظر کوئی تو ہے جس طرف دیکھ رہا ہوں میں ادھر کوئی تو ہے ایسے ناداں نہیں راتوں میں بھٹکنے والے جاگتی آنکھوں میں خورشید سحر کوئی تو ہے خود بخود ہاتھ گریباں کی طرف اٹھتے ...

مزید پڑھیے

دل و نگاہ پہ طاری رہے فسوں اس کا

دل و نگاہ پہ طاری رہے فسوں اس کا تمہارا ہو کے بھی ممکن ہے میں رہوں اس کا زمیں کی خاک تو کب کی اڑا چکے ہیں ہم ہماری زد میں ہے اب چرخ نیلگوں اس کا تجھے خبر نہیں اس بات کی ابھی شاید کہ تیرا ہو تو گیا ہوں مگر میں ہوں اس کا اب اس سے قطع تعلق میں بہتری ہے مری میں اپنا رہ نہیں سکتا اگر ...

مزید پڑھیے

اندیشے مجھے نگل رہے ہیں

اندیشے مجھے نگل رہے ہیں کیوں درد ہی پھول پھل رہے ہیں دیکھو مری آنکھ بجھ رہی ہے دیکھو مرے خواب جل رہے ہیں اک آگ ہماری منتظر ہے اک آگ سے ہم نکل رہے ہیں جسموں سے نکل رہے ہیں سائے اور روشنی کو نگل رہے ہیں یہ بات بھی لکھ لے اے مؤرخ ملبے سے قلم نکل رہے ہیں

مزید پڑھیے

خبر نہیں تھی کسی کو کہاں کہاں کوئی ہے

خبر نہیں تھی کسی کو کہاں کہاں کوئی ہے ہر اک طرف سے صدا آ رہی تھی یاں کوئی ہے یہیں کہیں پہ کوئی شہر بس رہا تھا ابھی تلاش کیجئے اس کا اگر نشاں کوئی ہے جوار قریۂ گریہ سے آ رہی تھی صدا مجھے یہاں سے نکالے اگر یہاں کوئی ہے تلاش کر رہے ہیں قبر سے چھپانے کو ترے جہان میں ہم سا بھی بے اماں ...

مزید پڑھیے

فرات چشم میں اک آگ سی لگاتا ہوا

فرات چشم میں اک آگ سی لگاتا ہوا نکل رہا ہے کوئی اشک مسکراتا ہوا پس گمان کئی واہمے جھپٹتے ہوئے سر یقین کوئی خواب لہلہاتا ہوا گزر رہا ہوں کسی جنت جمال سے میں گناہ کرتا ہوا نیکیاں کماتا ہوا بہ سوئے دشت گماں دے رہا ہے اذن سفر کنار خواب ستارہ سا جھلملاتا ہوا

مزید پڑھیے
صفحہ 4291 سے 4657