لب سکوت پہ اک حرف بے نوا بھی نہیں
لب سکوت پہ اک حرف بے نوا بھی نہیں وہ رات ہے کہ کسی کو سر دعا بھی نہیں خموش رہیے تو کیا کیا صدائیں آتی ہیں پکاریے تو کوئی مڑ کے دیکھتا بھی نہیں جو دیکھیے تو جلو میں ہیں مہر و ماہ و نجوم جو سوچیے تو سفر کی یہ ابتدا بھی نہیں قدم ہزار جہت آشنا سہی لیکن گزر گیا ہوں جدھر سے وہ راستہ ...