شاعری

ہر گھڑی اک یہی احساس زیاں رہتا ہے

ہر گھڑی اک یہی احساس زیاں رہتا ہے آگ روشن تھی جہاں صرف دھواں رہتا ہے ختم ہوتا ہی نہیں دشت کا اب سناٹا کوئی موسم ہو یہاں ایک سماں رہتا ہے آ گئی راس مرے دل کی اداسی شاید اتنی مدت بھی کہیں دور خزاں رہتا ہے پھول کھلتے ہیں تو مرجھائے ہوئے لگتے ہیں اک عجب خوف سر شاخ گماں رہتا ہے ساز ...

مزید پڑھیے

ایک رات لگتی ہے اک سحر بنانے میں

ایک رات لگتی ہے اک سحر بنانے میں ہم نے کیوں نہیں سوچا ہم سفر بنانے میں منزلیں بدلتے ہو پر تمہیں نہیں معلوم عمریں بیت جاتی ہیں رہ گزر بنانے میں عمر بھر رہا ہم پر اس کا ہی اثر حاوی بے اثر رہے جس پر ہم اثر بنانے میں موج میں بناتا ہوں جسم جس پرندے کا روح کانپ اٹھتی ہے اس کے پر بنانے ...

مزید پڑھیے

کچھ ایک روز میں میں چاہتیں بدلتا ہوں

کچھ ایک روز میں میں چاہتیں بدلتا ہوں اگر نہ سیٹ ملے تو بسیں بدلتا ہوں ہر ایک روز وہ پہچان کیسے لیتی ہے ہر ایک روز تو میں آہٹیں بدلتا ہوں ہمیشہ تم کو شکایت رہی جماؤں نہ حق تو سن لو آج میں اپنی حدیں بدلتا ہوں کراہتی ہیں یہ بستر کی سلوٹیں میری تمام رات میں یوں کروٹیں بدلتا ...

مزید پڑھیے

صرف کروٹ نہیں حدوں کے بیچ

صرف کروٹ نہیں حدوں کے بیچ اک زمانہ ہے کروٹوں کے بیچ آنکھ پلکوں کے بیچ ایسی ہے جیسے دریا ہو ساحلوں کے بیچ زندگی ریل سی گزرتی ہے سانس کی دونوں پٹریوں کے بیچ یہ کوئی مسئلہ نہ بن جائے ایک آنسو ہے قہقہوں کے بیچ مسئلہ لڑکیاں ہی ہوتی ہیں عادتاً سارے دوستوں کے بیچ منہ بنا کر کھڑی ...

مزید پڑھیے

ایک صدی میں بیتا ہوں

ایک صدی میں بیتا ہوں میں بھی کیسا لمحہ ہوں بک جاتا ہوں ہاتھوں ہاتھ حد سے زیادہ سستا ہوں بند پڑا ہوں مدت سے کہنے کو دروازہ ہوں میری شکل پہ مت جانا اندر اندر ٹوٹا ہوں مت سمجھا کر مجھ کو تو یار بہت میں الجھا ہوں سب کی نظریں مجھ پر ہیں کیا لڑکی کا دوپٹہ ہوں

مزید پڑھیے

ترے دیدار کی خاطر مہ و اختر جاگے

ترے دیدار کی خاطر مہ و اختر جاگے یہ پرندے بھی ترے ہجر میں اکثر جاگے کہیں جگنو کہیں تارے کہیں منظر جاگے پھر ستانے کے لئے مجھ کو ستم گر جاگے اپنی آنکھوں میں بسا کر غم ہجراں کی کسک کاش تو بھی کبھی میرے لئے شب بھر جاگے آگ اور خون کے دریا کو روانی دینے خوگر ظلم جفا کاروں کے لشکر ...

مزید پڑھیے

ہائے یہ خوف یہ ڈر رات کہاں گزرے گی

ہائے یہ خوف یہ ڈر رات کہاں گزرے گی دن تو کٹ جائے گا پر رات کہاں گزرے گی کوئی دیوار نہ در رات کہاں گزرے گی یوں سر راہ گزر رات کہاں گزرے گی کوئی ساتھی ہے نہ ہمدم نہ کوئی ہم سایہ اور پھر لمبا سفر رات کہاں گزرے گی اجنبی شہر میں رہ رہ کے خیال آتا ہے میری منظور نظر رات کہاں گزرے گی دن ...

مزید پڑھیے

وہ جس کے حصے میں درد جگر نہیں آتا

وہ جس کے حصے میں درد جگر نہیں آتا اس آدمی کی دعا میں اثر نہیں آتا میں آئنہ ہوں جو دیکھوں گا وہ دکھاؤں گا فریب دینے کا مجھ کو ہنر نہیں آتا غبار راہ سے بچ بچ کے چلنے والوں کو تمام عمر شعور سفر نہیں آتا دیار زیست کو کیا ہو گیا کہ دور تلک اداسیوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا حکومتیں مری ...

مزید پڑھیے

تجھ سے ملنے کی آرزو ہے بہت

تجھ سے ملنے کی آرزو ہے بہت اس لئے تیری جستجو ہے بہت زندگی کے نگار خانے میں ایک میں اور ایک تو ہے بہت ناصح محترم خدا حافظ آج اتنی ہی گفتگو ہے بہت گردش وقت تجھ سے لڑنے کو ان رگوں میں ابھی لہو ہے بہت ساری دنیا کی بیٹیاں سن لیں اس غریبی میں آبرو ہے بہت

مزید پڑھیے

جب غم دوست رگ و پے میں سما جاتا ہے

جب غم دوست رگ و پے میں سما جاتا ہے تب کہیں جا کے دعاؤں میں اثر آتا ہے دل مرا جب بھی شب تار سے گھبراتا ہے شمع سی آ کے کوئی دل میں جلا جاتا ہے سوچتا ہوں کہ ترا درد نہ کھو جائے کہیں اب تو ہر غم مری تنہائی سے ٹکراتا ہے تم نہیں وہ بھی نہیں وہ بھی نہیں وہ بھی نہیں کون ہے پھر جو غریبوں پہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4284 سے 4657