تھا ایک سایہ سا پیچھے پیچھے جو مڑ کے دیکھا تو کچھ نہیں تھا
تھا ایک سایہ سا پیچھے پیچھے جو مڑ کے دیکھا تو کچھ نہیں تھا اب اپنی صورت کو دیکھتا ہوں کبھی جو صد پیکر آفریں تھا وہ پھر بھی جاں سے عزیز تر تھا طبیعتیں گو جدا جدا تھیں اگرچہ ہم زاد بھی نہیں تھا وہ میرا ہم شکل بھی نہیں تھا میں رک سکوں گا ٹھہر سکوں گا تھکن سفر کی مٹا سکوں گا کہیں تو ...