شاعری

تھا ایک سایہ سا پیچھے پیچھے جو مڑ کے دیکھا تو کچھ نہیں تھا

تھا ایک سایہ سا پیچھے پیچھے جو مڑ کے دیکھا تو کچھ نہیں تھا اب اپنی صورت کو دیکھتا ہوں کبھی جو صد پیکر آفریں تھا وہ پھر بھی جاں سے عزیز تر تھا طبیعتیں گو جدا جدا تھیں اگرچہ ہم زاد بھی نہیں تھا وہ میرا ہم شکل بھی نہیں تھا میں رک سکوں گا ٹھہر سکوں گا تھکن سفر کی مٹا سکوں گا کہیں تو ...

مزید پڑھیے

شکاری رات بھر بیٹھے رہے اونچی مچانوں پر

شکاری رات بھر بیٹھے رہے اونچی مچانوں پر مسافر پھر بھی لوٹ آنے کو جا پہنچے ٹھکانوں پر کسی نے جھانک کر دیکھا نہ باہر ہی کوئی آیا ہوا نے عمر بھر کیا کیا نہ دستک دی مکانوں پر خود اپنا عکس رخ ہے جو کسی کو روک لے بڑھ کر وگرنہ آدمی کب مستقل ٹھہرا چٹانوں پر اٹھائے آسماں کے دکھ بھی کس ...

مزید پڑھیے

شایان زندگی نہ تھے ہم معتبر نہ تھے

شایان زندگی نہ تھے ہم معتبر نہ تھے ہاں کم نظر تھے اتنے مگر کم نظر نہ تھے اب کے برس جو پھول کھلا کاغذی ہی تھا اب کے تو دور دور کہیں برگ تر نہ تھے ہر پھول ایک زخم تھا ہر شاخ ایک لاش گویا کہ راہ میں تھیں صلیبیں شجر نہ تھے بادل اٹھے تو ریت کے ذرے برس پڑے ہم کو بھگو گئے ہیں وہ دامن جو ...

مزید پڑھیے

میں اس کا نام گھلے پانیوں پہ لکھتا کیا

میں اس کا نام گھلے پانیوں پہ لکھتا کیا وہ ایک موج رواں ہے کہیں پہ رکتا کیا تمام حرف مرے لب پہ آ کے جم سے گئے نہ جانے میں نے کہا کیا اور اس نے سمجھا کیا سبھوں کو اپنی غرض تھی سبھوں کو اپنی بقا مرے لیے مرے نزدیک کوئی آتا کیا ابھرتا چاند مرا ہم سفر تھا دریا میں میں ڈوبتے ہوئے سورج ...

مزید پڑھیے

خواہشیں اتنی بڑھیں انسان آدھا رہ گیا

خواہشیں اتنی بڑھیں انسان آدھا رہ گیا خواب جو دیکھا نہیں وہ بھی ادھورا رہ گیا میں تو اس کے ساتھ ہی گھر سے نکل کر آ گیا اور پیچھے ایک دستک ایک سایا رہ گیا اس کو تو پیراہنوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی دکھ تو یہ ہے رفتہ رفتہ میں بھی ننگا رہ گیا رنگ تصویروں کا اترا تو کہیں ٹھہرا نہیں اب ...

مزید پڑھیے

چہرے کے خد و خال میں آئینے جڑے ہیں

چہرے کے خد و خال میں آئینے جڑے ہیں ہم عمر گریزاں کے مقابل میں کھڑے ہیں ہر سال نیا سال ہے ہر سال گیا سال ہم اڑتے ہوئے لمحوں کی چوکھٹ پہ پڑے ہیں دیکھا ہے یہ پرچھائیں کی دنیا میں کہ اکثر اپنے قد و قامت سے بھی کچھ لوگ بڑے ہیں شاید کہ ملے ذات کے زنداں سے رہائی دیوار کو چاٹا ہے ہواؤں ...

مزید پڑھیے

بارہا ٹھٹھکا ہوں خود بھی اپنا سایہ دیکھ کر

بارہا ٹھٹھکا ہوں خود بھی اپنا سایہ دیکھ کر لوگ بھی کترائے کیا کیا مجھ کو تنہا دیکھ کر مجھ کو اس کا غم نہیں سیلاب میں گھر بہہ گئے مسکرایا ہوں میں بے موسم کی برکھا دیکھ کر ریت کی دیوار میں شامل ہے خون زیست بھی اے ہواؤ سوچ کر اے موج دریا دیکھ کر اپنے ہاتھوں اپنی آنکھیں بند کرنی پڑ ...

مزید پڑھیے

طوفان ابر و باد سے ہر سو نمی بھی ہے

طوفان ابر و باد سے ہر سو نمی بھی ہے پیڑوں کے ٹوٹنے کا سماں دیدنی بھی ہے ارزاں ہے اپنے شہر میں پانی کی طرح خوں ورنہ وفا کا خون بڑا قیمتی بھی ہے یارو شگفت گل کی صدا پر چلے چلو دشت جنوں کے موڑ پہ کچھ روشنی بھی ہے ٹوٹے ہوئے مکاں ہیں مگر چاند سے مکیں اس شہر آرزو میں اک ایسی گلی بھی ...

مزید پڑھیے

ہم اکثر تیرگی میں اپنے پیچھے چھپ گئے ہیں

ہم اکثر تیرگی میں اپنے پیچھے چھپ گئے ہیں مگر جب راستوں میں چاند ابھرا چل پڑے ہیں زمانہ اپنی عریانی پہ خوں روئے گا کب تک ہمیں دیکھو کہ اپنے آپ کو اوڑھے ہوئے ہیں مرا بستر کسی فٹ پاتھ پر جا کر لگا دو مرے بچے ابھی سے مجھ سے ترکہ مانگتے ہیں بلند آواز دے کر دیکھ لو کوئی تو ہوگا جو ...

مزید پڑھیے

وہ جو دیوار آشنائی تھی

وہ جو دیوار آشنائی تھی اپنی ہی ذات کی اکائی تھی میں سر دشت جاں تھا آوارہ اور گھر میں بہار آئی تھی میلے کپڑوں کا اپنا رنگ بھی تھا پھر بھی قسمت میں جگ ہنسائی تھی اب تو آنکھوں میں اپنا چہرہ ہے کبھی شیشے سے آشنائی تھی اپنی ہی ذات میں تھا میں محفوظ اور پھر خود ہی سے لڑائی تھی اپنی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4278 سے 4657