ہونٹوں پہ قرض حرف وفا عمر بھر رہا
ہونٹوں پہ قرض حرف وفا عمر بھر رہا مقروض تھا سو چپ کی صدا عمر بھر رہا کچھ درگزر کی ان کو بھی عادت نہ تھی کبھی کچھ میں بھی اپنی ضد پہ اڑا عمر بھر رہا وہ تجربے ہوئے کہ مرے خوں کی خیر ہو یارو میں اپنے گھر سے جدا عمر بھر رہا موسم کا حبس شب کی سیاہی فصیل شہر مجرم تھا سر جھکائے کھڑا عمر ...