شاعری

ہونٹوں پہ قرض حرف وفا عمر بھر رہا

ہونٹوں پہ قرض حرف وفا عمر بھر رہا مقروض تھا سو چپ کی صدا عمر بھر رہا کچھ درگزر کی ان کو بھی عادت نہ تھی کبھی کچھ میں بھی اپنی ضد پہ اڑا عمر بھر رہا وہ تجربے ہوئے کہ مرے خوں کی خیر ہو یارو میں اپنے گھر سے جدا عمر بھر رہا موسم کا حبس شب کی سیاہی فصیل شہر مجرم تھا سر جھکائے کھڑا عمر ...

مزید پڑھیے

خواب محل میں کون سر شام آ کر پتھر مارتا ہے

خواب محل میں کون سر شام آ کر پتھر مارتا ہے روز اک تازہ کانچ کا برتن ہاتھ سے گر کر ٹوٹتا ہے مکڑی نے دروازے پہ جالے دور تلک بن رکھے ہیں پھر بھی کوئی گزرے دنوں کی اوٹ سے اندر جھانکتا ہے شور سا اٹھتا رہتا ہے دیواریں بولتی رہتی ہیں شام ابھی تک آ نہیں پاتی کوئی کھلونے توڑتا ہے اول شب ...

مزید پڑھیے

درد اک روز کوئی رنگ دکھائے تو بنے

درد اک روز کوئی رنگ دکھائے تو بنے روح گر چھوڑ کے تن دہر میں آئے تو بنے نظر آئیں ترے چہرے کے خد و خال تمام دل سے اٹھ جائیں کبھی وہم کے سائے تو بنے وحدت درد ہو قریوں میں ہوا کی مانند ایک ہو جائیں اگر اپنے پرائے تو بنے واعظاں مژدہ کہ جنت میں بہار آئی ہے میری دنیا سے خزاں لوٹ کے جائے ...

مزید پڑھیے

دل سے ارماں نکل رہے ہیں

دل سے ارماں نکل رہے ہیں میرے بھی دن بدل رہے ہیں ورنہ گھر میں ہے گھپ اندھیرا یادوں کے چراغ جل رہے ہیں یہ عجب لوگ ہیں کہ ان کے پاؤں نہیں پہ چل رہے ہیں ہم در شاہ پر سوالی آج ہیں اور نہ کل رہے ہیں وہ ہی پہنچیں گے یار تک جو گرتے گرتے سنبھل رہے ہیں ہم نکو نام تو ہوئے پر دل پہ آرے سے چل ...

مزید پڑھیے

دور ہے با حضور لگتا ہے

دور ہے با حضور لگتا ہے گو ہے مستور عور لگتا ہے آب و نان و ہوا نہیں کافی تیرے دل میں فتور لگتا ہے جا رہے ہو خدا کے گھر یعنی وہ تمہیں خود سے دور لگتا ہے گرچہ ہرگز مرا قصور نہیں پھر بھی میرا قصور لگتا ہے ایک عالم پہ بھی نہیں راضی یہ دل ناصبور لگتا ہے ذہن آزاد فکر ہستی ہے جو گنا کا ...

مزید پڑھیے

پھر صبا گزری ہے در‌ صحن چمن کیا کہنا

پھر صبا گزری ہے در‌ صحن چمن کیا کہنا اب تلک کانپتے ہیں سرو و سمن کیا کہنا ذرۂ خاک ہوں میں سیل حوادث کے لیے اور اس ذرے میں دل شاہ زمن کیا کہنا جسم کے حکم سے آزاد ہو جاں چاہا تھا روح کے حکم سے آزاد ہے تن کیا کہنا شہر ویران ہوا گور غریباں کی طرح اس پہ میں اور مری رنگینئ فن کیا ...

مزید پڑھیے

زمین پر ہی رہے آسماں کے ہوتے ہوئے

زمین پر ہی رہے آسماں کے ہوتے ہوئے کہیں نہ گھر سے گئے کارواں کے ہوتے ہوئے میں کس کا نام نہ لوں اور نام لوں کس کا ہزاروں پھول کھلے تھے خزاں کے ہوتے ہوئے بدن کہ جیسے ہواؤں کی زد میں کوئی چراغ یہ اپنا حال تھا اک مہرباں کے ہوتے ہوئے ہمیں خبر ہے کوئی ہم سفر نہ تھا پھر بھی یقیں کی ...

مزید پڑھیے

افق افق نئے سورج نکلتے رہتے ہیں

افق افق نئے سورج نکلتے رہتے ہیں دیے جلیں نہ جلیں داغ جلتے رہتے ہیں مری گلی کے مکیں یہ مرے رفیق سفر یہ لوگ وہ ہیں جو چہرے بدلتے رہتے ہیں زمانے کو تو ہمیشہ سفر میں رہنا ہے جو قافلے نہ چلیں رستے چلتے رہتے ہیں ہزار سنگ گراں ہو ہزار جبر زماں مگر حیات کے چشمے ابلتے رہتے ہیں یہ اور ...

مزید پڑھیے

مری نگاہ کا پیغام بے صدا جو ہوا

مری نگاہ کا پیغام بے صدا جو ہوا وہ میری بات سنے کیوں میں بے نوا جو ہوا سواد شہر میں ملتے ہیں لوگ سنگ بدست سواد شہر سے صحرا کو راستہ جو ہوا ملا نہ تو تو غم زندگی کے دیوانے ادھر ہی لوٹ پڑے میں تیرا پتا جو ہوا تمام رات میں سنتا رہا تری آواز ترا خیال ہی مجھ کو تری صدا جو ہوا ہوائے گل ...

مزید پڑھیے

بجا کہ دشمن جاں شہر جاں کے باہر ہے

بجا کہ دشمن جاں شہر جاں کے باہر ہے مگر میں اس کو کہوں کیا جو گھر کے اندر ہے تمام نقش پرندوں کی طرح اترے ہیں کہ کاغذوں پہ کھلے پانیوں کا منظر ہے میں ایک شخص جو کنبوں میں رہ گیا بٹ کر میں مشت خاک جو تقسیم ہو کے بے گھر ہے شجر کٹا تو کوئی گھونسلہ کہیں نہ رہا مگر اک اڑتا پرندہ فضا کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4275 سے 4657