شاعری

سوز دروں سے جل بجھو لیکن دھواں نہ ہو

سوز دروں سے جل بجھو لیکن دھواں نہ ہو ہے درد دل کی شرط کہ لب پر فغاں نہ ہو پھر ہو رہا ہے شور صلائے نبرد عشق ہاں اے دہان زخم جواب الاماں نہ ہو بازار جاں فروش میں سودا نہ ہو یہ کیا گاہک ملے تو جنس تو یہ بھی گراں نہ ہو اس درد لا جواب کی کیونکر کروں دوا وہ حال دل نشیں بھی تو مجھ سے بیاں ...

مزید پڑھیے

حریف داستاں کرنا پڑا ہے

حریف داستاں کرنا پڑا ہے زمیں کو آسماں کرنا پڑا ہے نکل کر آ گئے ہیں جنگلوں میں مکاں کو لا مکاں کرنا پڑا ہے سوا نیزے پہ سورج آ گیا تھا لہو کو سائباں کرنا پڑا ہے بہت تاریک تھیں ہستی کی راہیں بدن کو کہکشاں کرنا پڑا ہے کسے معلوم لمس ان انگلیوں کا ہوا کو راز داں کرنا پڑا ہے وہ شاید ...

مزید پڑھیے

در و دیوار پہ اک سایہ پڑا ہے دیکھو

در و دیوار پہ اک سایہ پڑا ہے دیکھو میرے رستے میں کوئی جیسے کھڑا ہے دیکھو ذرۂ خاک کو سر پر لئے پھرتی ہے ہوا اور پتھر کہ زمیں میں ہی گڑا ہے دیکھو اس قدر بھیڑ ہے رستے میں کہ چلنا ہے محال اور بادل کہ ابھی سر پہ کھڑا ہے دیکھو اپنی ہی ذات کے سائے میں چھپا بیٹھا ہوں کہ مرا سایہ بھی تو ...

مزید پڑھیے

نہ جب کوئی شریک ذات ہوگا

نہ جب کوئی شریک ذات ہوگا مرا ہم زاد میرے ساتھ ہوگا گھروں کے بند دروازوں میں روشن وہی اک زخم احساسات ہوگا نہ یوں دہلیز تک آؤ کہ باہر گلی میں فتنۂ ذرات ہوگا کریدے جاؤ یوں ہی راکھ دل کی کہیں تو شعلۂ جذبات ہوگا دریچے یوں تو کھل سکتے نہیں تھے ہواؤں میں کسی کا ہات ہوگا کتابوں میں ...

مزید پڑھیے

رخصت رقص بھی ہے پاؤں میں زنجیر بھی ہے

رخصت رقص بھی ہے پاؤں میں زنجیر بھی ہے سر منظر مگر اک بولتی تصویر بھی ہے میرے شانوں پہ فرشتوں کا بھی ہے بار گراں اور مرے سامنے اک ملبے کی تعمیر بھی ہے زائچہ اپنا جو دیکھا ہے تو سر یاد آیا جیسے ان ہاتھوں پہ کندہ کوئی تقدیر بھی ہے خواہشیں خون میں اتری ہیں صحیفوں کی طرح ان کتابوں ...

مزید پڑھیے

اک نور تھا کہ پچھلے پہر ہم سفر ہوا

اک نور تھا کہ پچھلے پہر ہم سفر ہوا مجھ کو قبا کا چاک ہی چاک سحر ہوا سیلاب امنڈ کے شہر کی گلیوں میں آ گئے لیکن غریب شہر کا دامن نہ تر ہوا زندان آرزو میں نظر بے بصر رہی دیوار در ہوئی تو کرن کا گزر ہوا وہ آندھیاں چلی ہیں کہ اشجار اکھڑ گئے دکان شیشہ گر پہ نہ پھر بھی اثر ہوا اب کون ...

مزید پڑھیے

درد کی دولت نایاب کو رسوا نہ کرو

درد کی دولت نایاب کو رسوا نہ کرو وہ نظر راز ہے اس راز کا چرچا نہ کرو وسعت دشت میں دیوانے بھٹک جاتے ہیں دوستو آہوئے رم خوردہ کا پیچھا نہ کرو تم مقدر کا ستارہ ہو مرے پاس رہو تم جبین شب نمناک پہ ابھرا نہ کرو پس دیوار بھی دیوار کا عالم ہوگا تم یوں ہی روزن دیوار سے جھانکا نہ کرو گھر ...

مزید پڑھیے

پھر یہ ہوا کہ لوگ دریچوں سے ہٹ گئے

پھر یہ ہوا کہ لوگ دریچوں سے ہٹ گئے لیکن وہ گرد تھی کہ در و بام اٹ گئے کچھ لوگ جھانکنے لگے دیوار شہر سے کچھ لوگ اپنے خون کے اندر سمٹ گئے وہ پیڑ تو نہیں تھا کہ اپنی جگہ رہے ہم شاخ تو نہیں تھے مگر پھر بھی کٹ گئے پر ہول جنگلوں میں ہوا چیختی پھری واپس گھروں کو کیوں نہ مسافر پلٹ ...

مزید پڑھیے

منزلوں کے فاصلے دیوار و در میں رہ گئے

منزلوں کے فاصلے دیوار و در میں رہ گئے کیا سفر تھا میرے سارے خواب گھر میں رہ گئے اب کوئی تصویر بھی اپنی جگہ قائم نہیں اب ہوا کے رنگ ہی میری نظر میں رہ گئے جتنے منظر تھے مرے ہمراہ گھر تک آئے ہیں اور پس منظر سواد رہ گزر میں رہ گئے اپنے قدموں کے نشاں بھی بند کمروں میں رہے طاقچوں پر ...

مزید پڑھیے

یک بیک موسم کی تبدیلی قیامت ڈھا گئی

یک بیک موسم کی تبدیلی قیامت ڈھا گئی رک کے سستانا تھا جب مجھ کو کڑی دھوپ آ گئی دن ڈھلے کس کو ہے تجدید سفر کا حوصلہ آتی جاتی رہ گزر ناحق مجھے بہکا گئی بوئے گل موج ہوا ہے اور ہوا کیوں کر رکے اب کے مٹی ہی کی خوشبو میرا گھر مہکا گئی وہ ہوائیں ہیں اڑے جاتے ہیں پیراہن یہاں اے عروس زیست ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4274 سے 4657